Saturday, October 1, 2022

Education System in Jammu And Kashmir

ریاست جموں کشمیر میں تعلیمی نظام

in this post:
Euducation In Jammu Kashmir,
Euducation System in Jammu Kashmir,
Technology In JK
Digital JK

 

دنیا آج ترقی کے جس سطح پر ہے ایسا پہلے نہیں تھا  اگر آج کے زمانے کا مقابلہ آپ محض چند برس پہلے کے زمانے سے کریں تو آپ کو ایسا دیکھنے کو بلکل نہیں ملے گا جیسا آپ آج دیکھ رہے ہیں۔ پہلے پتھر پھر تلوار پھر تیر کمان  توپ ایٹم بم اور اب دنیا اس سے آگے جا چکی ہے اور مزید جا رہی ہے اور جانا بھی چاہتی ہے آج دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے لوگ آپس میں جڑے ہوئے ہ👉 یں آپس میں تجارت ہو رہی ہے ایک دوسرے کی مشکل میں ایک دوسرے کی 

مدد کرتے ہیں

Euducation in Kashmir


یہ سب علم کی وجہ سے ممکن ہوا کسی زمانہ میں ایسا بلکل نہیں تھا۔ آج ہم آپ کو دنیا کے کے ایک انتہائ خوبصورت خطہ  ریاست جموں کشمیر کے ایک آزاد خطہ (آزاد جموں کشمیر) کے  تعلیمی نظام کے بارے میں بتائیں گے کہ وہاں پر تعلیم کا نظام کیسا ہے وہاں کی یونیورسٹیز کے اندر لاکھوں طالب علموں کو کیا سیکھایا جاتا ہے کیا پڑھایا جاتا ہے۔

ریاست کے اس خطہ (آزاد کشمیر) کی کل آبادی ۴ ملین  سے کچھ زیادہ ہے اس آبادی کے لئے جو سکول کالجز اور یونیورسٹیز قائم کی گئی ہیں ان میں سٹاف بھی پورا ہے عمارتیں بھی ہیں طلبا بھی موجود ہیں اور پڑھائ بھی ہوتی ہ

ےلیکن جب یہئ طلبہ سکول اور کالج سے تعلیم مکمل کر کے جب یونیورسٹی میں پہنچتے ہیں وہاں پر پہنچنے کے بعد ان کو شائد  ایسے مضامین میں داخلہ ہی نہ  مل سکے جن مضامین کو وہ پڑھنا چاہتے ہیں کیونکہ یونیورسٹی میں ایسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں نہ ان مضامین کو پڑھانے کے لئے وہاں پر ٹیچرز ہیں اور نہ ہی اس قسم کی لیبز مجود ہیں

ان درسگاہوں میں جو مضامین پڑھائے جاتے ہیں وہ یا تو ادب ہیں یا اسلام کے ہیں اور انگریزی اور ریاضی جیسے چند مضامین ہیں جو ایک بنیادی ضرورت کے تحت پڑھائے جاتے ہیں

اس بات کو آپ سادہ لفظوں میں سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس مثال کے ذریعے کے سمجھنا ہو گا ۔

فرض کریں آپ کشمیر میں رہتے ہیں اور آپ اپنے بیٹی یا بیٹے کو کوئ بڑا ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، کھلاڑی، یا کوئ بڑا فلم سٹار بنانا چاہتے ہیں تو آپ کی یہ خواہش یہاں پر پوری نہیں ہو سکتی

کیونکہ وہاں کی درسگاہوں میں ایسا تعلیمی نظام موجود نہیں ہے وہاں پر ایسی  جدید لیبارٹریز    ایسے آلات جن کی مدد سے طلبہ کو سکھایا جائے۔

ریاست جموں کشمیر کے اس آزاد خطہ کا کیپیٹل شہر مظفرآباد جس کی آبادی ٧ لاکھ ہے اور یہی شہر آزاد کشمیر کا سب سے بڑا شہر ہے جب اس شہر کی یونیورسٹی میں ایسا جدید نظام موجود نہ ہو تو وہاں کے چھوٹے شہروں کی یونیورسٹی کے حالات کیسے ہوں گی

Indian Occupied Kasmir highest University website link is below you can find facts.

Official Website University of Kashmir

آج ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ہر کام ڈیجیٹل طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے  ہر شعبہ زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے  لیکن آج بھی ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو اس سے دور رکھا گیا ہے۔

جن طاقتوں نے ریاست جموں کشمیر کے دو کروڑ  لوگوں کو ان کے اس حق سے محروم رکھا وہ نہیں چاہتے کہ یہ لوگ آگے بڑھیں جدید تعلیم حاصل کریں یا کوئی بھی ایسا کام جو ان لوگوں کی بہتری کیلئے ہو وہ نہیں کرنے دیا جاتا یہی وجہ ہے کہ آج جموں کشمیر کے لوگ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں یہ طاقتیں یہاں کے لوگوں کا حق اپنی مٹھی میں رکھ لیتی ہیں ان کو وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں یہ طاقتی نہیں چاہتیں کہ یہ لوگ آگے بڑھیں اور ان کی غلامی سے آزاد ہو جائیں

زمین پانی اور جنگلات اور معدنیات کی لالچ کی وجہ سے دو ملکوں نے  گزشتہ 72 سالوں سے ریاست جموں کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور اپنی مطلب کے دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غلام بنا کر رکھا ہے اب کو  زندگی کے ہر شعبہ میں پیچھے رکھا گیا ہے۔

ہم دنیا میں انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والی تمام چھوٹی بڑی تنظیموں اور تعلیم کونسل اور تمام ایسی شخصیات جو انسانی حقوق کے تحفظ کا کام کرتی ہیں ان سے میری بحثیت ایک سوشل ایکٹیوسٹ یہ درخواست ہے کہ دنیا میں ہو رہا سب سے بڑا ظلم جو کشمیر کے عوام کے ساتھ اس انداز میں ہونے والے ظلم کو سمجھیں اور اس کے مجرموں کو بے نقاب کریں اور کشمیری کے عوام کو وہ حق دیں جس کے وہ حقدار ہیں ۔

عاطف مقبول 

کشمیری سوشل ایکٹیویسٹ

Enter Your Email To get daily Newsletter in your inbox

RELATED

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
by Azadi Times

Latest