اپریل 2023 میں، آزاد کشمیر کی حکومت میں چوہدری انوار الحق کی قیادت میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد ایک نیا مرحلہ شروع ہوا، جس کے تحت ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو عام طور پر ایمرجنسی یا معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، یہ فیصلہ آزاد کشمیر میں بہت سے حلقوں میں تنقید کا نشانہ بن چکا ہے، اور اس پر مختلف ردعمل دیکھنے کو ملے ہیں۔
حکومت نے ایک نیا نیم فوجی دستہ “آزاد کشمیر رینجرز (اے کے رینجرز)” تشکیل دینے کی منظوری دی ہے، جس میں پاکستانی فوج کے حاضر سروس افسران اہم عہدوں پر تعینات ہوں گے۔ اے کے رینجرز کے سربراہ پاکستان فوج کا کرنل ہوگا، جبکہ اضلاع کی سطح پر لیفٹیننٹ کرنل اور کمپنی کی سطح پر میجرز پاکستانی فوج کے ہوں گے۔
یہ فورس 25 فیصد نان اسٹیٹ سبجیکٹس یعنی پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہوگی۔ اس فورس کا کام آزاد کشمیر کی پولیس کے ماتحت ہوگا، اور حکومت پاکستان نے اس کی تشکیل کے لیے پہلے ہی بجٹ مختص کیا ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے اس فورس کے قیام کے لیے تقریباً 4 ارب روپے پاکستان سے طلب کیے ہیں۔
اے کے رینجرز کی تشکیل اور اس پر ردعمل
29 اگست 2024 کو آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ آزاد کشمیر پولیس میں اے کے رینجرز کے نام سے نئی فورس تشکیل دی جا رہی ہے اور اس کے لیے 1000 آسامیاں گریڈ 07 میں مختص کی گئی ہیں۔ اس نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے محض تین ماہ بعد، جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJPAC) کی جانب سے حقوق کی تحریک شروع کی گئی تھی، جس میں آزاد کشمیر میں حقوق کی فراہمی اور خود مختاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ اقدام سیاسی حلقوں میں گہری تشویش کا باعث بنا ہے۔ میرپور، دادیاں، اور کوٹلی بار ایسوسی ایشنز نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس فورس کی تشکیل خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ آزاد کشمیر میں امن و سکون قائم رکھنے کے لیے مزید فوجی فورسز کی نہیں بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔
سکیورٹی کے پہلو
آزاد کشمیر، جو پاکستان کے زیر انتظام ہے، جنوبی ایشیا کے نسبتاً پُرامن علاقوں میں سے ایک ہے۔ بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں اضافی سکیورٹی فورسز کی ضرورت نہیں ہے، اور اس کی بجائے تعلیم، صحت، اور انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اے کے رینجرز کی تشکیل سے خطے میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم، حکومت اس اقدام کو سکیورٹی کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔ اس کے مطابق، یہ فورس دہشت گردی کی روک تھام اور سرحد پار سے ہونے والی سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فورس کے قیام سے آزاد کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
سیاسی اور سماجی اثرات
آزاد کشمیر میں اے کے رینجرز کی تشکیل کا سیاسی پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مقامی افراد کے لیے یہ ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ غیر مقامی فورسز کا پولیس کے تحت آنا آزاد کشمیر کی خودمختاری اور مقامی فیصلوں کی آزادی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے آزاد کشمیر کی پاکستان کے زیر انتظام حیثیت کو مزید تقویت ملے گی، جو مقامی سیاسی و سماجی حرکات کو محدود کر سکتا ہے۔
اس پس منظر میں، حکومت کو مزید شفاف اور جامع سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ اس فیصلے کے اثرات کو مناسب طریقے سے سمجھا جا سکے اور اس پر حل نکالا جا سکے۔ کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک متوازن اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر میں اے کے رینجرز کا قیام ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ حکومت اس فیصلے کو سکیورٹی کے لیے ضروری سمجھتی ہے، لیکن اس کے سماجی، سیاسی، اور انسانی حقوق پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر مقامی فوجی فورسز کی موجودگی کے باوجود حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق اور خودمختاری کو نقصان پہنچائے بغیر سکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔
عالمی برادری کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے تاکہ آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کی حفاظت ہو اور کسی بھی قسم کی جبر یا زیادتی سے بچا جا سکے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں