باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: قادیانی کون ہیں؟: ایک تجزیہ
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > عالمی خبریں > قادیانی کون ہیں؟: ایک تجزیہ
عالمی خبریں

قادیانی کون ہیں؟: ایک تجزیہ

Azadi Times
Last updated: January 12, 2025 7:33 pm
Azadi Times
1 year ago
Share
قادیانی کون ہیں؟: ایک تجزیہ
SHARE

قادیانیوں یا احمدیوں کے بارے میں دنیا بھر میں مختلف رائے پائی جاتی ہے، خاص طور پر پاکستان میں جہاں ان کے عقائد اور تشخص پر گہرے مذہبی اور سیاسی تنازعات ہیں۔ قادیانیوں کی جماعت کا آغاز 1889 میں مرزا غلام احمد نے کیا، جو ایک مذہبی پیشوا تھے اور انھوں نے اپنے دعووں کے ذریعے ایک نئی مذہبی تحریک کی بنیاد رکھی۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مہدی موعود (منتظر امام) اور مسیح موعود ہیں۔ اس دعوے کے بعد احمدیہ جماعت کے پیروکاروں نے خود کو ایک نئے مذہب کے پیروکار کے طور پر شناخت کیا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

قادیانی جماعت کا آغاز:

قادیانی جماعت کی بنیاد مرزا غلام احمد نے 1889 میں قادیان (جو اب بھارت میں ہے) میں رکھی۔ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو ایک نیا نبی، مسیح موعود اور مہدی موعود کے طور پر پیش کیا، اور اس دعوے کے بعد ان کی پیروکاروں کی تعداد بڑھنے لگی۔ مرزا غلام احمد کے دعوے کے بعد احمدیہ جماعت نے خود کو ایک الگ مذہبی گروہ کے طور پر تسلیم کیا، جسے قادیانی یا احمدی کہا گیا۔

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کا انوکھا بیاہ: ایک دولہا، دو دلہنیں – تین زندگیاں، ایک چھت

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

مرزا غلام احمد نے اپنی تعلیمات میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ کو ختم کریں اور حقیقت کو ظاہر کریں۔ ان کے مطابق، وہ نبی نہیں بلکہ مجدد ہیں، جو ایک خاص دور میں آ کر اسلام کو جدید تشریح کے مطابق لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ان کے آنے سے مہدی موعود کی پیش گوئی مکمل ہوئی ہے۔

Read in English on The Azadi Times

قادیانیوں کے عقائد:

قادیانیوں کے عقائد میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی اور مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس عقیدہ کی وجہ سے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر میں شدید اختلافات پیدا ہوئے، کیونکہ اسلام میں یہ مانا جاتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی عقیدے کی بنیاد پر مسلمانوں کی اکثریت قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر سمجھتی ہے۔

قادیانیوں کے عقائد میں بعض دوسرے اختلافات بھی ہیں، جیسے کہ جہاد کے بارے میں ان کا نظریہ، جس میں وہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے صرف دفاعی طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق، اللہ کا آخری پیغام مرزا غلام احمد کی تعلیمات میں ہے، اور اس پیغام کی پیروی کرنا ضروری ہے۔

پاکستان میں قادیانیوں کی حیثیت:

پاکستان میں قادیانیوں کے بارے میں ہمیشہ سے ایک پیچیدہ اور متنازعہ صورتحال رہی ہے۔ 1974 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا، اور انھیں مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ اس کے بعد قادیانیوں کے لیے مختلف قوانین وضع کیے گئے جن میں انھیں اسلامی عقائد اور علامتوں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ 1984 میں، ضیاء الحق کے دور حکومت میں قادیانیوں کے خلاف مزید سخت قوانین لاگو کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  آپریشن یا علی ابن ابی طالب: ایرانی میزائل حملے میں 10 منزلہ اسرائیلی رہائشی عمارت تباہ، کم از کم 10 ہلاک

پاکستانی حکومت نے قادیانیوں کو “احمدی” کے طور پر تسلیم کیا، اور ان کے لئے “لازمی طور پر” اپنے عقائد کو تشہیر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان میں 1974 کے بعد قادیانیوں کے لئے مخصوص قوانین میں ان کے عبادات کے طریقے اور عقائد کی آزادی پر پابندیاں لگائیں گئیں۔ ان قوانین کے تحت، قادیانیوں کو کسی بھی اسلامی کلمہ یا علامت کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

عالمی سطح پر قادیانیوں کا اثر:

قادیانیوں کے پیروکار دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہیں، اور انہوں نے اپنے مذہبی، تعلیمی اور رفاہی ادارے قائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، قادیانی جماعت نے کئی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے، خاص طور پر برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں۔ قادیانی جماعت نے عالمی سطح پر خود کو ایک غیر سیاسی اور تعلیمی جماعت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

قادیانیوں کے انسانی حقوق اور آزادی:

قادیانیوں کے بارے میں عالمی سطح پر بھی ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان کے عقائد کی آزادی اور انسانی حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے؟ دنیا کے مختلف ممالک میں قادیانیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور جبر کی اطلاعات موجود ہیں، اور ان کے مذہبی عقائد کو بعض جگہوں پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بعض ممالک میں قادیانیوں کو اپنی عبادات کرنے کی آزادی نہیں ہے، اور انہیں اپنے عقائد کو پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستان میں قادیانیوں کے مسائل:

پاکستان میں قادیانیوں کے حوالے سے مسائل صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہیں۔ پاکستان کے دستور میں انھیں غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد، ان کے معاشرتی مقام میں بھی مشکلات آئیں۔ اس کے علاوہ، قادیانیوں کو اکثر اپنے عقائد کی وجہ سے سخت سماجی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور انہیں مختلف طریقوں سے امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیلی جارحیت جاری: غزہ میں مزید 93 فلسطینی شہید، مغربی کنارے میں سفارتکاروں پر فائرنگ، یہودی آبادکاروں کا فلسطینی گاؤں پر حملہ

نتیجہ:

قادیانیوں کا معاملہ پاکستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں ایک سنگین اور متنازعہ موضوع بن چکا ہے۔ ان کی مذہبی عقائد، ان کے سماجی مقام اور ان کے انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ قادیانیوں کے بارے میں عوامی رائے میں فرق موجود ہے، اور یہ فرق مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح پر نمایاں ہے۔ مسلمانوں کے اکثریتی طبقے کے مطابق، قادیانیوں کے عقائد اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم ہیں، جبکہ قادیانی خود کو ایک الگ مذہب کے پیروکار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ صورتحال دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے تنازعے کا حصہ بن چکی ہے۔ قادیانیوں کو اپنے عقائد کو تسلیم کرانے اور ان کے حق میں ایک مثبت تاثر قائم کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مذہبی اختلافات شدید ہیں۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
نیپال میں نوجوانوں کی بغاوت: سوشل میڈیا پر پابندی سے شروع ہونے والا احتجاج وزیراعظم کے استعفے تک جا پہنچا
امریکا نے کشمیری حملے پر پاکستانی گروہ کے ذیلی دھڑے کو ‘دہشت گرد’ قرار دے دیا
“غمِ حسین مانتا ہوں” — بھارتی ہندو جج کا لائیو انٹرویو میں امام حسین کو خراجِ عقیدت، واقعۂ کربلا یاد کر کے روپڑے
سعودی عرب کی ایران کے میزائل حملے کی شدید مذمت: “ناقابلِ جواز اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی”
ایران کا قطر میں امریکی ایئر بیس “العدید” پر میزائل حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
TAGGED:قادیانی
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article کشمیریوں کے دلوں پر راج کرنے والا سردار امان کشمیری کون ہے جس نے دو ریاستوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا؟ کشمیریوں کے دلوں پر راج کرنے والا سردار امان کشمیری کون ہے جس نے دو ریاستوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا؟
Next Article آزاد کشمیر: ہجیرہ میں مقامی کونسلر کے ہاتھوں میڈیکل طالبہ کے اغوا اور زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ آزاد کشمیر: ہجیرہ میں مقامی کونسلر کے ہاتھوں میڈیکل طالبہ کے اغوا اور زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ
Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

You must be logged in to post a comment.

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
آزاد کشمیر
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان

اسی بارے میں

ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟

ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟

By Azadi Times
8 months ago
آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات: جوہری جنگ سے امن کی طرف ایک قدم

آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات: جوہری جنگ سے امن کی طرف ایک قدم

By Azadi Times
8 months ago
ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی ریفائنری کی تنصیبات بند متعدد ہلاک

ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی ریفائنری کی تنصیبات بند متعدد ہلاک

By Azadi Times
8 months ago
ایرانی میزائل پر ذوالفقار کا نشان: کیا یہ خیبر کے باسیوں کے لیے پیغام ہے؟

ایرانی میزائل پر ذوالفقار کا نشان: کیا یہ خیبر کے باسیوں کے لیے پیغام ہے؟

By Azadi Times
8 months ago
راکٹ اور میزائل میں کیا فرق ہے؟

راکٹ اور میزائل میں کیا فرق ہے؟

By Azadi Times
8 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?