معدے کی گیس ایک عام مسئلہ ہے جو لاکھوں افراد کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق اور مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ معدے کی گیس اور دماغ کے درمیان گہرا تعلق ہو سکتا ہے۔ یہ مضمون اسی اہم موضوع پر روشنی ڈالے گا کہ کیسے معدے میں پیدا ہونے والی گیس انسانی ذہن، مزاج اور دماغی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
معدے کی گیس کیا ہے؟
معدے کی گیس دراصل ہاضمے کے دوران پیدا ہونے والی وہ ہوا ہوتی ہے جو نظامِ انہضام میں خوراک کے ٹوٹنے، بیکٹیریا کے عمل اور بعض اوقات فضائی ہوا نگلنے کی وجہ سے بنتی ہے۔ یہ گیس عام طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور ہائیڈروجن پر مشتمل ہوتی ہے۔
دماغ اور معدہ: ایک “Gut-Brain Connection”
آج کل سائنسدان ایک دلچسپ نکتہ پر زور دے رہے ہیں جسے “Gut-Brain Axis” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ نیورولوجیکل راستہ ہے جو معدے اور دماغ کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔
یہ محور ثابت کرتا ہے کہ:
-
معدے کی کیفیت دماغ پر اثر ڈال سکتی ہے
-
دماغی دباؤ (Stress) معدے کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے
یہی وجہ ہے کہ جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو ہمیں معدے میں گیس، بدہضمی یا جلن جیسی شکایات ہوتی ہیں۔
معدے کی گیس اور دماغی اثرات
جب گیس معدے میں زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ صرف پیٹ کی تکلیف تک محدود نہیں رہتی، بلکہ نیچے دیے گئے دماغی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں:
1. دماغی دھند (Brain Fog)
مریض اکثر شکایت کرتے ہیں کہ وہ “ذہنی دھند” محسوس کرتے ہیں – یعنی یکسوئی میں کمی، سوچنے میں مشکل، اور دماغی سستی۔ یہ معدے میں موجود گیس اور بیکٹیریا کی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
2. اضطراب اور بے چینی (Anxiety)
معدے میں پیدا ہونے والی گیس کی زیادتی دماغ کو غلط سگنلز بھیج سکتی ہے، جس سے انسان خود کو بے چین یا گھبراہٹ کا شکار محسوس کرتا ہے۔
3. ڈپریشن کی علامات
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ معدے میں موجود بیکٹیریا بعض کیمیکلز پیدا کرتے ہیں جو موڈ کو بہتر یا خراب کر سکتے ہیں۔ گیس کی زیادتی اور ہاضمے کی خرابی ڈپریشن جیسی کیفیت کو بڑھا سکتی ہے۔
4. نیند کی خرابی
گیس کی زیادتی اور پیٹ کا پھولاؤ نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں، جس سے دماغی تھکاوٹ اور چڑچڑا پن بڑھ جاتا ہے۔
علامات: کیسے معلوم ہو کہ گیس دماغ پر اثر ڈال رہی ہے؟
-
پیٹ پھولا ہوا محسوس ہونا
-
بار بار ڈکار یا اپھارہ
-
ذہنی یکسوئی میں کمی
-
بے جا گھبراہٹ
-
نیند کی کمی
-
طبیعت کا بار بار بگڑنا
معدے کی گیس اور دماغ کے تعلق کو کیسے بہتر بنایا جائے؟
1. خوراک میں احتیاط
ایسی خوراک سے پرہیز کریں جو گیس پیدا کرتی ہو، مثلاً:
-
کولڈ ڈرنکس
-
گوبھی، پھلیاں، چنے
-
تلی ہوئی اشیاء
-
مصنوعی میٹھے
2. پانی کا مناسب استعمال
پانی نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے اور گیس کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
3. پروبائیوٹکس کا استعمال
دہی، کمبھچا (Kombucha)، اچار اور دیگر پروبائیوٹک اشیاء معدے کے بیکٹیریا کو بہتر بناتی ہیں، جس کا اثر دماغی صحت پر بھی پڑتا ہے۔
4. ورزش اور چہل قدمی
روزانہ 20-30 منٹ کی چہل قدمی ہاضمہ بہتر بناتی ہے اور دماغی تناؤ بھی کم کرتی ہے۔
5. سٹریس مینجمنٹ
یوگا، میڈیٹیشن اور سانس کی مشقیں دماغی دباؤ کو کم کر کے معدے کے مسائل کو بہتر کر سکتی ہیں۔
کیا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے؟
اگر گیس کی علامات معمول سے زیادہ ہوں، یا اس کے ساتھ دیگر پیچیدہ مسائل ہوں جیسے:
-
مسلسل سردرد
-
بھوک کی کمی
-
وزن میں غیر متوقع کمی
-
مستقل ذہنی دباؤ
تو کسی گیسٹرو اینٹرولوجسٹ یا نیورولوجسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
صحت مند معدہ، صحت مند دماغ
اس بات میں اب کوئی شک باقی نہیں رہا کہ معدے کی گیس اور دماغ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جب معدہ پریشان ہو تو دماغ بھی اپنی کارکردگی کھو بیٹھتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت بہترین ہو تو اپنے معدے کی صفائی، خوراک کی بہتری، اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا لازمی ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

