گرمیوں میں بجلی کے بل سے بچنے اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے آج بھی کچھ سادہ طریقے موجود ہیں۔ لیکن ایئر کنڈیشننگ کی ایجاد سے پہلے لوگ شدید گرمی میں سکون حاصل کرنے کے لیے کافی تخلیقی انداز اپناتے تھے۔
یہاں ہم آپ کو وہ پانچ دلچسپ طریقے بتا رہے ہیں جن سے 1800 اور 1900 کی دہائیوں میں امریکہ کے لوگ گرمی کا مقابلہ کرتے تھے:
1. پانی کے فوارے
اُس زمانے میں پانی کے فوارے آج جیسے جدید نہیں ہوتے تھے، لیکن یہ گرمی سے فوری نجات دینے کا ایک مؤثر ذریعہ تھے۔
بڑے شہروں میں کچھ فوارے بڑے ٹراؤف (تالاب نما) کی شکل میں بنائے جاتے تھے، جہاں لوگ صرف پانی پینے ہی نہیں بلکہ سر بھی بھگو سکتے تھے تاکہ جسم ٹھنڈا ہو جائے۔
البتہ چونکہ ان فواروں سے انسانوں کے علاوہ جانور، خصوصاً گھوڑے بھی استفادہ کرتے تھے، اس لیے یہ اکثر غیر صحت بخش ہوتے تھے۔
2. برف کے بلاکس
ایئر کنڈیشننگ سے پہلے لوگ سردیوں میں جمی ہوئی جھیلوں سے برف کاٹ کر برف خانوں (ice houses) میں محفوظ کرتے تھے۔
یہ برف گرمیوں میں گھروں اور بازاروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
اگر سردیاں کم شدت کی ہوتیں تو برف کم ملتی، اور یہ ایک قیمتی چیز بن جاتی۔ شدید سردیوں میں برف زیادہ مقدار میں جمع ہوتی، جس سے قیمت بھی کم ہو جاتی اور رسائی بھی آسان ہو جاتی۔
3. اونچی چھتیں
پرانی عمارتوں میں گرمی سے بچنے کے لیے اونچی چھتیں تعمیر کی جاتی تھیں، کیونکہ گرم ہوا اوپر کی طرف اٹھتی ہے۔
اونچی چھتوں کی بدولت گرم ہوا کھڑکیوں یا روشن دانوں سے باہر نکل جاتی، یوں گھر کے اندر ٹھنڈک کا احساس ہوتا۔
4. سامنے کے برآمدے (فرنٹ پورچ)
گھروں میں برآمدے بنائے جاتے تاکہ لوگ شام کے وقت باہر بیٹھ کر تازہ ہوا میں سکون حاصل کر سکیں۔
ایسے برآمدے نہ صرف ٹھنڈی فضا میں آرام کا موقع دیتے بلکہ یہ سماجی میل جول کا بھی ذریعہ بن جاتے تھے، جہاں لوگ دن بھر کی تھکن اتارتے اور گفتگو کرتے۔
5. درختوں کے نیچے سونا
سب سے سادہ اور قدرتی طریقہ گرمی سے بچنے کا یہ تھا کہ کوئی سایہ دار درخت ڈھونڈ کر اُس کے نیچے قیلولہ کیا جائے۔
درخت گرمی میں قدرتی چھاؤں فراہم کرتے ہیں، اور نیند لینے سے انسان کا جسمانی درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔
دوپہر کے وقت آرام کرنے سے انسان دھوپ میں محنت سے بچ جاتا، یوں گرمی لگنے یا پانی کی کمی سے بچاؤ ممکن ہوتا۔
ایئر کنڈیشنر کے بغیر گرمی سے بچنا آسان نہیں، لیکن ماضی میں لوگ فطرت کے قریب رہ کر ٹھنڈک کے سادہ اور مؤثر طریقے اپناتے تھے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں


