سری نگر / مظفرآباد — خصوصی رپورٹ
وادیٔ کشمیر میں آج چِلّئی کَلان نے دستک دی ہے—وہ چالیس دن جو سردی کی شدت، خاموش برفباری اور ٹھٹھرتی راتوں کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اتفاق دیکھیے کہ اسی دن دنیا بھر میں انٹرنیشنل پھیٖرن ڈے بھی منایا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک ثقافتی دن نہیں، بلکہ کشمیری شناخت، گھریلو حرارت اور تہذیبی تسلسل کی یاد دہانی ہے۔
چِلّئی کَلان کے آغاز کے ساتھ ہی کشمیری سماج میں ایک فطری سی تبدیلی آ جاتی ہے۔ گلیوں، بازاروں اور گھروں میں وہی لباس نمایاں ہو جاتا ہے جو صدیوں سے اس سرد خطے کا محافظ رہا ہے—پھیٖرن۔
پھیٖرن: لباس نہیں، احساس
پھیٖرن محض جسم ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ وہ لباس ہے جو کشمیریوں کے لیے حرارت، تحفظ اور اپنائیت کا استعارہ بن چکا ہے۔ گردن سے ٹخنوں تک پھیلا یہ چوغہ نما لباس مرد و خواتین دونوں پہنتے ہیں، اور سردیوں میں اس کی افادیت کسی بھی جدید جیکٹ یا کوٹ سے کم نہیں۔
کشمیر میں پھیٖرن کی انفرادیت اس کے ساتھ جڑی کانگڑی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ کانگڑی—مٹی یا دھات سے بنی وہ چھوٹی سی انگیٹھی جس میں دہکتے انگار رکھے جاتے ہیں—سرد موسم کو محض برداشت کے قابل ہی نہیں بناتی بلکہ اس میں ایک مانوس سی گھریلو حرارت بھر دیتی ہے۔
بزرگ یاد کرتے ہیں کہ کانگڑی کی تیز آنچ سے بچاؤ کے لیے پوس پہنا جاتا تھا—وہ سفید اندرونی غلاف جو نہ صرف حفاظت فراہم کرتا بلکہ پھیٖرن کے ساتھ ایک مکمل تہذیبی ترتیب کا حصہ تھا۔
ماں، بچہ اور پھیٖرن: ایک ہی دائرے میں دو دل
پھیٖرن کی معنویت سردی سے بچاؤ تک محدود نہیں۔ یہ لباس کشمیری سماج میں محبت اور قربت کی علامت بھی ہے۔
جہاں دیگر پہاڑی علاقوں میں مائیں اپنے بچوں کو پیٹھ سے باندھ لیتی ہیں، وہاں کشمیری ماں پھیٖرن کے اندر اپنے بچے کو سینے سے لگائے رکھتی ہے—ایک ہی لباس میں دو جانیں، ایک ہی حرارت میں محفوظ۔
یہ منظر محض گھریلو روایت نہیں بلکہ کشمیری معاشرت کی وہ تصویر ہے جس میں تحفظ، محبت اور قربت ایک ہی دائرے میں سمٹ آتے ہیں۔
چِلّئی کَلان: موسم کی سختی، روایت کی مضبوطی
چِلّئی کَلان کو وادیٔ کشمیر میں سردی کا سب سے سخت مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ درجہ حرارت اکثر نقطۂ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے، پانی کے ذخائر جم جاتے ہیں اور زندگی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ ایسے میں پھیٖرن اور کانگڑی صرف روایت نہیں بلکہ روزمرہ ضرورت بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل پھیٖرن ڈے کو چِلّئی کَلان کے آغاز سے جوڑا جاتا ہے—تاکہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ یہ لباس محض ثقافتی علامت نہیں بلکہ ایک زندہ، کارآمد اور انسانی ضرورت سے جڑا ہوا نظام ہے۔
ثقافت، شناخت اور مزاحمت
پھیٖرن ڈے منانے کے پیچھے ایک گہرا سماجی اور سیاسی پس منظر بھی موجود ہے۔ بعض ادوار میں مقبوضہ کشمیر میں سرکاری اداروں میں پھیٖرن پہننے پر پابندیاں عائد کی گئیں، جسے مقامی آبادی نے اپنی ثقافتی شناخت پر قدغن کے طور پر دیکھا۔
انٹرنیشنل پھیٖرن ڈے اسی تناظر میں ایک ثقافتی مزاحمت کی صورت اختیار کر گیا—یہ پیغام دینے کے لیے کہ لباس محض فیشن نہیں بلکہ شناخت، تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر میں اس دن کو منانے کا مقصد بھی یہی رہا ہے کہ کشمیری ثقافت کو زندہ رکھا جائے اور ان کوششوں کو بے نقاب کیا جائے جو اس تہذیبی ورثے کو مٹانے یا کمزور کرنے کے لیے کی گئیں۔
عالمی سطح پر پھیٖرن کی پہچان
حالیہ برسوں میں کشمیری پھیٖرن عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ مقامی تاجر اور دستکار اسے جدید انداز، بہتر ڈیزائن اور روایتی وقار کے ساتھ عالمی منڈیوں میں متعارف کرا رہے ہیں۔
یہ دیکھ کر کشمیری سماج میں ایک فطری مسرت پائی جاتی ہے کہ غیر کشمیری بھی اب اس لباس کی راحت اور معنویت کو پہچاننے لگے ہیں۔
تاہم ثقافتی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس عالمی مقبولیت کے ساتھ اصل کشمیری شناخت، دستکاری اور مقامی کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔
اختتامیہ
چِلّئی کَلان کے اس پہلے دن، انٹرنیشنل پھیٖرن ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کچھ لباس وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، بلکہ مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔
پھیٖرن سردی کے خلاف ایک ڈھال ہے، محبت کی ایک صورت ہے، اور کشمیری تہذیب کی ایک زندہ علامت ہے۔
وادیٔ کشمیر کی یخ بستہ ہوا میں آج بھی جب کوئی پھیٖرن اوڑھتا ہے، تو وہ صرف خود کو گرم نہیں رکھتا—وہ اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنی ثقافت کو بھی اپنے ساتھ لپیٹ لیتا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

