مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر (پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر) – حالیہ کلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگیاں شدید ہو گئی ہیں، اور ایسے میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے ایک اہم اور غیر معمولی بیان دیا ہے۔ انہوں نے شملہ معاہدے کے خاتمے اور اس کے فریم ورک سے دستبرداری کی کھل کر حمایت کی ہے۔
شملہ معاہدہ: پس منظر
شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972 کو ہندوستان کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تنازعات — خاص طور پر مسئلہ کشمیر — کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھا۔
معاہدے کی رو سے دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر، پرامن طریقے سے اپنے مسائل حل کریں گے۔ لیکن ناقدین کے مطابق یہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کو منجمد کر دینے کے مترادف ثابت ہوا، جس سے نہ تو کوئی ٹھوس حل نکلا اور نہ ہی کشمیری عوام کو کوئی ریلیف ملا۔
سردار عتیق احمد خان کا مؤقف

اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ وہ شملہ معاہدے کے خاتمے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
“ہم شملہ معاہدے کی منسوخی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔”
ان کا یہ بیان پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی سیاسی فضا میں ایک اہم پیش رفت ہے، جہاں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ہمیشہ ایک منفرد، مقامی سیاسی مؤقف اختیار کرتی آئی ہے۔
علاقائی امن کے لیے چیلنج
شملہ معاہدے کے اختتام کی حمایت، خاص طور پر پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے ایک مرکزی رہنما کی جانب سے، بھارت-پاکستان تعلقات میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ بھارت اس معاہدے کو باہمی تنازعات کے حل کا واحد راستہ قرار دیتا ہے، جبکہ اب خطے میں ایسی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جو کہتی ہیں کہ یہ ماڈل ناکام ہو چکا ہے۔
مسئلہ کشمیر: ایک نیا موڑ؟
کلگام حملے جیسے واقعات نے کشمیر کی صورت حال کو مزید نازک کر دیا ہے۔ سردار عتیق احمد خان کے حالیہ بیان سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اب خطے میں ایسے لیڈرز موجود ہیں جو نئی حکمتِ عملی اور ممکنہ طور پر بین الاقوامی ثالثی کی وکالت کرتے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ
سردار عتیق احمد خان کی رائے ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ شیملا معاہدے سے ہٹ کر اگر کوئی نئی راہ نکالی جاتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ علاقائی سلامتی پر بھی ہو سکتا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

