آزاد کشمیر: روشنی کی امید یا اندھیروں کا سایہ؟
آزاد کشمیر وہ خطہ ہے جس کی سرزمین پاکستان کو سالانہ کھربوں روپے مالیت کی بجلی فراہم کرتی ہے، مگر جب بات اپنے ہی گھر کی ہو تو یہ خطہ اندھیروں کا شکار ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات، جن میں گرمی کی بے مثال شدت، مسلسل لوڈشیڈنگ کے واقعات اور ریاستی اداروں کی بے حسی شامل ہیں، عوام کے دلوں میں بے چینی کا موجب بن چکے ہیں۔ یہ اداریہ ان حالات کی کڑوی حقیقت، مقامی لوگوں کے درد اور عوامی اعتماد کے زوال کو اجاگر کرتا ہے۔
بجلی کا بحران: ایک متضاد حقیقت
آزاد کشمیر کی بجلی پیداوار کی مجموعی صلاحیت 4932 میگاواٹ کے قریب ہے، جس میں منگلا ڈیم سے حاصل ہونے والے 1400 میگاواٹ نمایاں ہیں۔ اگرچہ یہ صلاحیت پاکستان کے دیگر حصوں کو روشنی مہیا کرنے کے لیے کافی ہے، مگر خود آزاد کشمیر کو مض 385 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حساب سے، اگر خطے کے اندر صرف اتنا ہی بجلی فراہم کی جائے، تو لوڈشیڈنگ کا کوئی مسئلہ اجاگر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ جب درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، تو کئی اضلاع جیسے مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ وغیرہ میں یومیہ 6 سے 8 گھنٹے بجلی کی بندش عوام کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
آزاد کشمیر: بجلی کی پیداوار، ضرورت اور مالیت (2025 کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر)
| نمبر | منصوبہ / ڈیم | پیداواری صلاحیت (میگاواٹ) | حالت | مقام |
|---|---|---|---|---|
| 1 | منگلا ڈیم | 1400 MW | فعال | میرپور |
| 2 | نیو بونگ اسکیپ | 84 MW | فعال | میرپور |
| 3 | جاگراں ڈیم | 30 MW | فعال | نیلم |
| 4 | کٹھائی ڈیم | 5 MW | فعال | ہٹیاں بالا |
| 5 | کنڈل شاہی | 2 MW | فعال | نیلم |
| 6 | کیل | 2 MW | فعال | نیلم |
| 7 | لیپا ڈیم | 3 MW | فعال | لیپا ویلی |
| 8 | نیلم جہلم | 969 MW | مکمل | مظفرآباد |
| 9 | کوہالہ ہائیڈرو | 1100 MW | زیر تکمیل | کوہالہ |
| 10 | پترند ہائیڈرو | 147 MW | مکمل | مظفرآباد |
| 11 | کوٹلی ہائیڈرو | 100 MW | زیر تکمیل | کوٹلی |
| 12 | گل پور ہائیڈرو | 100 MW | مکمل | پلندری |
| 13 | اٹھ مقام ڈیم | 350 MW | زیر تکمیل | نیلم |
| 14 | کروٹ ڈیم | 640 MW | مکمل | کوٹلی |
| کل پیداواری صلاحیت | 4932 MW | |||
| آزاد کشمیر کی ضرورت | 385 MW |
ریاستی بے حسی یا تکنیکی فالٹ؟
حکومتی دفاتر اور واپڈا کی جانب سے عموماً بجلی کی بندش کو “مرمت” یا “فالٹ” کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تکنیکی مسائل واقعی ہمارے خطے کی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں؟ ایک مقامی شہری نے (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) واضح طور پر بیان کیا کہ “جب بھی کوئی سیاسی یا سماجی احتجاج کا ماحول مہیا ہوتا ہے، بجلی کے غیر متوقع بند ہونے کے واقعات فوراَ شروع ہو جاتے ہیں۔” اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کی بندش صرف ایک فنی خرابیاں نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ بن چکی ہے جس کے ذریعے فشارِ سماجی یا سیاسی صورتحال کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کا درد اور بے چینی
آزاد کشمیر سے حاصل ہونے والی بجلی کو اگر پاکستان کے دوسرے حصوں کو روشنی مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اپنے ہی خطے کے لوگوں کی بنیادی ضروریات کیوں پوری نہیں کی جاتیں؟ نوجوان، خواتین، بزرگ اور طلبہ روزانہ اپنوں کے گھروں میں گرمی کی شدت اور بجلی کی کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ ملکی سطح پر ایک سنگین خامی کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ زمین پر جینے کے حقوق اور سہولیات کو عادتاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اخذِ راہِ حل: خود کفالت اور شفافیت
اس بحران کا ازالہ کرنے کے لیے چند بنیادی اقدامات انتہائی ضروری ہیں:
- خود کفالت کی پالیسی: آزاد کشمیر کو اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود کفالت کی راہ اپنانی چاہیے، تاکہ مقامی فنڈنگ اور وسائل سے لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کی جاسکیں۔
- علاقائی فیصلہ سازی: گرڈ کنٹرول اور بجلی کی تقسیم کے معاملات میں مقامی نمائندوں اور حکومتی اہلکاروں کو شمولیت دی جائے تاکہ مقامی ضروریات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
- سبسڈی پروگرامز: پن بجلی اور دیگر منصوبوں سے ظاہر ہونے والے منافع کا ایک حصہ مقامی عوام کو سبسڈی یا رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے۔
- شفافیت اور معلومات کی فراہمی: بجلی کی تقسیم کے نظام میں شفافیت پیدا کی جائے تاکہ عوام کو مکمل معلومات فراہم کی جاسکیں اور کسی بھی غیر قانونی یا ناکافی عمل کی نشاندہی کی جا سکے۔
آزاد کشمیر کے لوگ ایک بنیادی سوال کے ساتھ بیدار ہو رہے ہیں:
“کیا یہ خطہ صرف توانائی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے یا یہاں کے لوگوں کو جینے کا بھی پورا حق دیا جائے گا؟”
جبکہ بجلی پوری ملک میں تقسیم ہو رہی ہے، مگر اپنی سرزمین کے لوگوں کو اسی بجلی کی فراہمی کا حق کب تسلیم کیا جائے گا؟
آغازِ تبدیلی
موجودہ حالات نہ صرف ایک فنی مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی بھی عکاسی کرتے ہیں جہاں مقامی ضروریات، عوامی حقوق اور انصاف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اختتامی کلمات میں کہنا چاہیں گے کہ اگر آزاد کشمیر واقعی اپنی زمین سے حاصل ہونے والی بجلی کو اپنی عوام کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے تو نہ صرف لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ ایک نئی امید کی کرن بھی روشن ہوگی۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

