باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: آزاد کشمیر: بجلی پیدا کرنے والا خطہ خود اندھیرے میں کیوں؟
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > کالم > آزاد کشمیر: بجلی پیدا کرنے والا خطہ خود اندھیرے میں کیوں؟
کالم

آزاد کشمیر: بجلی پیدا کرنے والا خطہ خود اندھیرے میں کیوں؟

Azadi Times
Last updated: April 29, 2025 1:14 pm
Azadi Times
10 months ago
Share
آزاد کشمیر: بجلی پیدا کرنے والا خطہ خود اندھیرے میں کیوں؟
SHARE

آزاد کشمیر: روشنی کی امید یا اندھیروں کا سایہ؟

آزاد کشمیر وہ خطہ ہے جس کی سرزمین پاکستان کو سالانہ کھربوں روپے مالیت کی بجلی فراہم کرتی ہے، مگر جب بات اپنے ہی گھر کی ہو تو یہ خطہ اندھیروں کا شکار ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات، جن میں گرمی کی بے مثال شدت، مسلسل لوڈشیڈنگ کے واقعات اور ریاستی اداروں کی بے حسی شامل ہیں، عوام کے دلوں میں بے چینی کا موجب بن چکے ہیں۔ یہ اداریہ ان حالات کی کڑوی حقیقت، مقامی لوگوں کے درد اور عوامی اعتماد کے زوال کو اجاگر کرتا ہے۔

بجلی کا بحران: ایک متضاد حقیقت

آزاد کشمیر کی بجلی پیداوار کی مجموعی صلاحیت 4932 میگاواٹ کے قریب ہے، جس میں منگلا ڈیم سے حاصل ہونے والے 1400 میگاواٹ نمایاں ہیں۔ اگرچہ یہ صلاحیت پاکستان کے دیگر حصوں کو روشنی مہیا کرنے کے لیے کافی ہے، مگر خود آزاد کشمیر کو مض 385 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حساب سے، اگر خطے کے اندر صرف اتنا ہی بجلی فراہم کی جائے، تو لوڈشیڈنگ کا کوئی مسئلہ اجاگر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ جب درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، تو کئی اضلاع جیسے مظفرآباد، میرپور، راولاکوٹ وغیرہ میں یومیہ 6 سے 8 گھنٹے بجلی کی بندش عوام کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

آزاد کشمیر: بجلی کی پیداوار، ضرورت اور مالیت (2025 کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر)

نمبرمنصوبہ / ڈیمپیداواری صلاحیت (میگاواٹ)حالتمقام
1منگلا ڈیم1400 MWفعالمیرپور
2نیو بونگ اسکیپ84 MWفعالمیرپور
3جاگراں ڈیم30 MWفعالنیلم
4کٹھائی ڈیم5 MWفعالہٹیاں بالا
5کنڈل شاہی2 MWفعالنیلم
6کیل2 MWفعالنیلم
7لیپا ڈیم3 MWفعاللیپا ویلی
8نیلم جہلم969 MWمکملمظفرآباد
9کوہالہ ہائیڈرو1100 MWزیر تکمیلکوہالہ
10پترند ہائیڈرو147 MWمکملمظفرآباد
11کوٹلی ہائیڈرو100 MWزیر تکمیلکوٹلی
12گل پور ہائیڈرو100 MWمکملپلندری
13اٹھ مقام ڈیم350 MWزیر تکمیلنیلم
14کروٹ ڈیم640 MWمکملکوٹلی
کل پیداواری صلاحیت4932 MW
آزاد کشمیر کی ضرورت385 MW

ریاستی بے حسی یا تکنیکی فالٹ؟

حکومتی دفاتر اور واپڈا کی جانب سے عموماً بجلی کی بندش کو “مرمت” یا “فالٹ” کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تکنیکی مسائل واقعی ہمارے خطے کی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں؟ ایک مقامی شہری نے (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) واضح طور پر بیان کیا کہ “جب بھی کوئی سیاسی یا سماجی احتجاج کا ماحول مہیا ہوتا ہے، بجلی کے غیر متوقع بند ہونے کے واقعات فوراَ شروع ہو جاتے ہیں۔” اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی کی بندش صرف ایک فنی خرابیاں نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ بن چکی ہے جس کے ذریعے فشارِ سماجی یا سیاسی صورتحال کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

مقامی لوگوں کا درد اور بے چینی

آزاد کشمیر سے حاصل ہونے والی بجلی کو اگر پاکستان کے دوسرے حصوں کو روشنی مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اپنے ہی خطے کے لوگوں کی بنیادی ضروریات کیوں پوری نہیں کی جاتیں؟ نوجوان، خواتین، بزرگ اور طلبہ روزانہ اپنوں کے گھروں میں گرمی کی شدت اور بجلی کی کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ ملکی سطح پر ایک سنگین خامی کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ زمین پر جینے کے حقوق اور سہولیات کو عادتاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

Read in English on The Azadi Times

اخذِ راہِ حل: خود کفالت اور شفافیت

اس بحران کا ازالہ کرنے کے لیے چند بنیادی اقدامات انتہائی ضروری ہیں:

  1. خود کفالت کی پالیسی: آزاد کشمیر کو اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود کفالت کی راہ اپنانی چاہیے، تاکہ مقامی فنڈنگ اور وسائل سے لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کی جاسکیں۔
  2. علاقائی فیصلہ سازی: گرڈ کنٹرول اور بجلی کی تقسیم کے معاملات میں مقامی نمائندوں اور حکومتی اہلکاروں کو شمولیت دی جائے تاکہ مقامی ضروریات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
  3. سبسڈی پروگرامز: پن بجلی اور دیگر منصوبوں سے ظاہر ہونے والے منافع کا ایک حصہ مقامی عوام کو سبسڈی یا رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے۔
  4. شفافیت اور معلومات کی فراہمی: بجلی کی تقسیم کے نظام میں شفافیت پیدا کی جائے تاکہ عوام کو مکمل معلومات فراہم کی جاسکیں اور کسی بھی غیر قانونی یا ناکافی عمل کی نشاندہی کی جا سکے۔

آزاد کشمیر کے لوگ ایک بنیادی سوال کے ساتھ بیدار ہو رہے ہیں:
“کیا یہ خطہ صرف توانائی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے یا یہاں کے لوگوں کو جینے کا بھی پورا حق دیا جائے گا؟”
جبکہ بجلی پوری ملک میں تقسیم ہو رہی ہے، مگر اپنی سرزمین کے لوگوں کو اسی بجلی کی فراہمی کا حق کب تسلیم کیا جائے گا؟

آغازِ تبدیلی

موجودہ حالات نہ صرف ایک فنی مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی بھی عکاسی کرتے ہیں جہاں مقامی ضروریات، عوامی حقوق اور انصاف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اختتامی کلمات میں کہنا چاہیں گے کہ اگر آزاد کشمیر واقعی اپنی زمین سے حاصل ہونے والی بجلی کو اپنی عوام کی ضروریات کے مطابق ترتیب دے تو نہ صرف لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ ایک نئی امید کی کرن بھی روشن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  ت سے لڑکیوں کے نام: خوبصورت، معنی خیز اور منفرد انتخاب

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
چِلّئی کَلان، انٹرنیشنل پھیٖرن ڈے اور کشمیری تہذیب: سردی، حرارت اور شناخت کی ایک زندہ کہانی
29 ستمبر بے بسی کو شعور آنے دو – ضحی شبیر تڑارکھل
سائبر حملہ: آپ کا ڈیٹا خطرے میں! فوری بچاؤ کے 5 زبردست طریقے | What is Cyber Attack?
Kailasa Country کیلاسا ملک: سوامی نِتھیانندا کی فرضی ہندو ریاست اور عالمی دھوکہ دہی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ
کمیونسٹ نظام: فلسفہ، تاریخ اور عالمی اثرات کی جامع تصویر
TAGGED:Pakistan electricity from Kashmirآزاد کشمیر بجلی
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article مظفرآباد میں صحافیوں پر پولیس تشدد، صحافتی برادری سراپا احتجاج مظفرآباد میں صحافیوں پر پولیس تشدد، صحافتی برادری سراپا احتجاج
Next Article ثریا کوثر کی الوداعی چیخ: 43 سال بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے جبری واپسی ثریا کوثر کی الوداعی چیخ: 43 سال بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے جبری واپسی

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
آزاد کشمیر
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان

اسی بارے میں

پوسٹل کوڈ کیا ہوتا ہے؟ زپ کوڈ کیا ہے؟ – مکمل معلومات

پوسٹل کوڈ کیا ہوتا ہے؟ زپ کوڈ کیا ہے؟ – مکمل معلومات

By Azadi Times
9 months ago
چاول اور یورک ایسڈ: کیا چاول یورک ایسڈ بڑھاتے ہیں؟

چاول اور یورک ایسڈ: کیا چاول یورک ایسڈ بڑھاتے ہیں؟

By Azadi Times
9 months ago
ٹائٹینک کا سانحہ تو دنیا جانتی ہے، مگر “جینی” نامی بلی کی کہانی بہت کم لوگوں نے سنی ہو گی

ٹائٹینک کا سانحہ تو دنیا جانتی ہے، مگر “جینی” نامی بلی کی کہانی بہت کم لوگوں نے سنی ہو گی

By Azadi Times
10 months ago
پانی کشمیریوں کا — جھگڑا ہندوستان اور پاکستان کا؟

پانی کشمیریوں کا — جھگڑا ہندوستان اور پاکستان کا؟

By Azadi Times
10 months ago
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک زخمی قدم مزاحمت کی علامت بن گیا – الیزہ اسلم طلبہ تحریک کی نئی آواز

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک زخمی قدم مزاحمت کی علامت بن گیا – الیزہ اسلم طلبہ تحریک کی نئی آواز

By Azadi Times
10 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?