ذرا تصور کریں کہ آپ گاڑی میں ہیں، چند گھنٹوں کے سفر کے لیے نکلے تھے لیکن اب تین دن گزر چکے ہیں، اور آپ ایک کلومیٹر سے زیادہ آگے نہیں بڑھے۔ نہ کھانا، نہ پانی، نہ بیت الخلا۔ ایسا خواب نہیں بلکہ ایک خوفناک حقیقت تھی چین کی ہائی وے 110 پر پیش آنے والا دنیا کا سب سے طویل ٹریفک جام۔
کب اور کہاں؟
یہ واقعہ اگست 2010 میں چین کے بیجنگ-تبت ایکسپریس وے (Highway 110) پر پیش آیا، جہاں ٹریفک جام نے تقریباً 100 کلومیٹرکی لمبائی اختیار کرلی اور مسلسل 12 دن جاری رہا۔
وجہ کیا تھی؟
چین کی صنعتی ترقی اور کوئلے کی بڑے پیمانے پر ترسیل اس واقعے کا بنیادی سبب بنی۔ بڑی تعداد میں کوئلہ لانے والے ٹرک، جو اندرونی منگولیا سے بیجنگ کو سپلائی کر رہے تھے، ہائی وے پر جمع ہوتے گئے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ سڑک کی مرمت جاری تھی، جس سے ٹریفک کی روانی نصف رہ گئی۔
حالات کیسے بنے؟
مسلسل گاڑیاں پھنسنے لگیں۔ یومیہ ایک کلومیٹر سے بھی کم سفر ممکن ہو سکا۔ ڈرائیورز کو بھاری قیمت پر پانی، کھانا اور دیگر اشیائے ضرورت خریدنا پڑیں۔ کچھ مقامی افراد نے اس صورتحال کو موقع میں بدلا اور پینے کا پانی بھی 15 یوان میں بیچنا شروع کر دیا، جو عام دنوں میں صرف ایک یوان میں دستیاب ہوتا ہے۔
انسان اور سسٹم دونوں بے بس
یہ صرف ٹریفک جام نہیں تھا، یہ بڑھتی ہوئی معیشت اور کمزور انفراسٹرکچر کی جنگ تھی۔ حکومت کو بالآخر رات کے اوقات میں ٹرکوں کی آمدورفت بڑھانے، اور متبادل راستوں کی ہدایت جاری کرنے کے بعد یہ مسئلہ قابو میں آیا۔
سبق کیا ہے؟
یہ واقعہ نہ صرف منصوبہ بندی کی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جدید دنیا میں جہاں وقت سب سے قیمتی شے ہے، وہاں غفلت کے صرف چند دن انسانی زندگی کو کس قدر متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ ٹریفک جام اتنا مشہور ہوا کہ دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اسے “Never-Ending Jam” (کبھی ختم نہ ہونے والا جام) کا نام دیا۔
کیا آپ کبھی ایسی صورتحال میں پھنسے ہیں؟ اپنی کہانی ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

