باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک جام — چین کی شاہراہ پر تاریخ رقم
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > دلچسپ > دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک جام — چین کی شاہراہ پر تاریخ رقم
دلچسپ

دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک جام — چین کی شاہراہ پر تاریخ رقم

Azadi Times
Last updated: May 4, 2025 6:25 am
Azadi Times
9 months ago
Share
دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک جام — چین کی شاہراہ پر تاریخ رقم
SHARE

ذرا تصور کریں کہ آپ گاڑی میں ہیں، چند گھنٹوں کے سفر کے لیے نکلے تھے لیکن اب تین دن گزر چکے ہیں، اور آپ ایک کلومیٹر سے زیادہ آگے نہیں بڑھے۔ نہ کھانا، نہ پانی، نہ بیت الخلا۔ ایسا خواب نہیں بلکہ ایک خوفناک حقیقت تھی چین کی ہائی وے 110 پر پیش آنے والا دنیا کا سب سے طویل ٹریفک جام۔

کب اور کہاں؟

یہ واقعہ اگست 2010 میں چین کے بیجنگ-تبت ایکسپریس وے (Highway 110) پر پیش آیا، جہاں ٹریفک جام نے تقریباً 100 کلومیٹرکی لمبائی اختیار کرلی اور مسلسل 12 دن جاری رہا۔

وجہ کیا تھی؟

چین کی صنعتی ترقی اور کوئلے کی بڑے پیمانے پر ترسیل اس واقعے کا بنیادی سبب بنی۔ بڑی تعداد میں کوئلہ لانے والے ٹرک، جو اندرونی منگولیا سے بیجنگ کو سپلائی کر رہے تھے، ہائی وے پر جمع ہوتے گئے۔ اس پر مزید ستم یہ کہ سڑک کی مرمت جاری تھی، جس سے ٹریفک کی روانی نصف رہ گئی۔

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

حالات کیسے بنے؟

مسلسل گاڑیاں پھنسنے لگیں۔ یومیہ ایک کلومیٹر سے بھی کم سفر ممکن ہو سکا۔ ڈرائیورز کو بھاری قیمت پر پانی، کھانا اور دیگر اشیائے ضرورت خریدنا پڑیں۔ کچھ مقامی افراد نے اس صورتحال کو موقع میں بدلا اور پینے کا پانی بھی 15 یوان میں بیچنا شروع کر دیا، جو عام دنوں میں صرف ایک یوان میں دستیاب ہوتا ہے۔

Read in English on The Azadi Times
یہ بھی پڑھیں:  ماں کے آئس کریم کھانے پر بچے نے پولیس کو طلب کرلیا

انسان اور سسٹم دونوں بے بس

یہ صرف ٹریفک جام نہیں تھا، یہ بڑھتی ہوئی معیشت اور کمزور انفراسٹرکچر کی جنگ تھی۔ حکومت کو بالآخر رات کے اوقات میں ٹرکوں کی آمدورفت بڑھانے، اور متبادل راستوں کی ہدایت جاری کرنے کے بعد یہ مسئلہ قابو میں آیا۔

سبق کیا ہے؟

یہ واقعہ نہ صرف منصوبہ بندی کی ناکامی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جدید دنیا میں جہاں وقت سب سے قیمتی شے ہے، وہاں غفلت کے صرف چند دن انسانی زندگی کو کس قدر متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ ٹریفک جام اتنا مشہور ہوا کہ دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اسے “Never-Ending Jam” (کبھی ختم نہ ہونے والا جام) کا نام دیا۔

کیا آپ کبھی ایسی صورتحال میں پھنسے ہیں؟ اپنی کہانی ہمارے ساتھ شیئر کریں۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
کوہستان: 28 سال بعد گلیشیئر سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد
ماں کے آئس کریم کھانے پر بچے نے پولیس کو طلب کرلیا
برازیل کے قلب میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں تہذیب اچانک رک جاتی ہے
دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ کون سی ہے؟
روس میں میں موجود حیران کن چٹانی ستون
TAGGED:ٹریفک جامچین
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article ٹائٹینک کا سانحہ تو دنیا جانتی ہے، مگر “جینی” نامی بلی کی کہانی بہت کم لوگوں نے سنی ہو گی ٹائٹینک کا سانحہ تو دنیا جانتی ہے، مگر “جینی” نامی بلی کی کہانی بہت کم لوگوں نے سنی ہو گی
Next Article کشمیر کی حالیہ لائن آف کنٹرول کشیدگی: شہری ہلاکتیں، ڈرون حملے اور سیزفائر کی امید کشمیر کی حالیہ لائن آف کنٹرول کشیدگی: شہری ہلاکتیں، ڈرون حملے اور سیزفائر کی امید

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
آزاد کشمیر
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان

اسی بارے میں

چڑیا گھر کو چڑیا گھر کیوں کہتے ہیں؟ دلچسپ اتفاق

چڑیا گھر کو چڑیا گھر کیوں کہتے ہیں؟ دلچسپ اتفاق

By Azadi Times
11 months ago
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?