باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: شملہ معاہدہ: کشمیر پر امن یا خاموش غلامی؟ 50 سالہ معاہدے کا تجزیہ، اختتام اور نئی حقیقتیں
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > جموں وکشمیر > شملہ معاہدہ: کشمیر پر امن یا خاموش غلامی؟ 50 سالہ معاہدے کا تجزیہ، اختتام اور نئی حقیقتیں
جموں وکشمیر

شملہ معاہدہ: کشمیر پر امن یا خاموش غلامی؟ 50 سالہ معاہدے کا تجزیہ، اختتام اور نئی حقیقتیں

Azadi Times
Last updated: June 23, 2025 11:16 am
Azadi Times
7 months ago
Share
شملہ معاہدہ: کشمیر پر امن یا خاموش غلامی؟ 50 سالہ معاہدے کا تجزیہ، اختتام اور نئی حقیقتیں
SHARE

شملہ معاہدہ، جو 2 جولائی 1972 کو بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1971 کی بھارت-پاکستان جنگ کے بعد طے پایا، آج اس پر دستخط کے پانچ دہائیاں گزر چکی ہیں۔
جہاں کچھ حلقے اس معاہدے کو امن کی سفارتی فتح قرار دیتے ہیں، وہیں کئی ناقدین، خاص طور پر متنازع خطے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد، اسے ایک سیاسی جال تصور کرتے ہیں—کیونکہ اس معاہدے کی نہ مذاکرات میں کشمیری عوام کی نمائندگی تھی، نہ عملدرآمد میں۔

یہ رپورٹ شملہ معاہدے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے—جس میں اس کی شقیں، سیاسی و تاریخی سیاق و سباق، مختلف ممالک کی تعبیرات، اور سب سے بڑھ کر کشمیر کے سیاسی مستقبل پر اس کے دور رس اثرات شامل ہیں، خاص طور پر ان کشمیریوں کے تناظر میں جو پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام حصوں میں رہ رہے ہیں۔

تاریخی پس منظر

شملہ معاہدہ ایک خونریز جنگ کے بعد وجود میں آیا، جو 1971 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑی گئی اور جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بن کر ابھرا۔
اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف عسکری شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ 90,000 سے زائد پاکستانی فوجی بھارتی قیدی بنے۔
شدید سیاسی، عسکری اور سفارتی دباؤ میں، اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کی جس سے وہ قیدی فوجیوں کی واپسی اور مزید زمینی نقصان کو روک سکیں۔

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیر: ایک دیرینہ زخم کی کہانی – مسئلہ کشمیر، اثرات، اور ممکنہ حل

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

بھارت، جس کی قیادت اُس وقت اندرا گاندھی کر رہی تھیں، نے اس موقع کو سفارتی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا معاہدہ کرایا، جو بعد میں بھارت کی کشمیر پالیسی کی بنیاد بن گیا۔ اس معاہدے میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام تنازعات کو صرف دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، اور بین الاقوامی ثالثی یا اقوام متحدہ کا کردار ختم کر دیا گیا۔

Read in English on The Azadi Times

اہم نکات

شملہ معاہدے کی مرکزی شقیں درج ذیل تھیں:

  1. پاکستان اور بھارت تمام مسائل کو، بشمول کشمیر، دو طرفہ طریقے سے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔
  2. لائن آف کنٹرول (LoC) کو تسلیم کیا جائے گا اور کوئی یکطرفہ تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
  3. دونوں ممالک طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے اور دوستی، احترام اور ہم آہنگی کے اصولوں کو اپنائیں گے۔

بھارت کا مؤقف: اقوام متحدہ سے فرار

بھارت کی حکومت اس معاہدے کو بین الاقوامی ثالثی کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں ممالک نے باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر اتفاق کیا، لہٰذا اقوام متحدہ، او آئی سی، یا کسی تیسرے فریق کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو غیر مؤثر قرار دیا اور استصوابِ رائے کی کسی بھی بات کو مسترد کر دیا۔

پاکستان کا مؤقف: معاہدہ لیکن اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی زندہ

پاکستان شملہ معاہدے کو باضابطہ تسلیم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ معاہدے کی روح کے مطابق دو طرفہ مذاکرات بحال کیے جائیں، مگر ساتھ ہی وہ بین الاقوامی ثالثی کو بھی مسترد نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر: کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں؟ ہندوستان اور پاکستان سے ان کی اُمیدیں

حالیہ برسوں میں، خاص طور پر پہلگام حملے کے بعد بھارت نے شملہ معاہدے کو سرکاری طور پر غیر مؤثر قرار دیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، “دہشت گردی کی موجودگی میں کوئی معاہدہ یکطرفہ طور پر پابند نہیں ہو سکتا۔”

پہلگام حملہ اور شملہ معاہدے کا خاتمہ

اپریل 2025 میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد، بھارت نے شملہ معاہدے کو ختم شدہ قرار دے دیا۔ اس اعلان کے بعد بھارت نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تمام چینلز بند کر دیے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سخت مؤقف اپنایا کہ “اب کشمیر مکمل طور پر بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔”

کشمیری ردعمل: معاہدے کا خاتمہ کشمیریوں کے حق میں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھارت نے شملہ معاہدے کو غیر مؤثر قرار دیا، تو کئی کشمیری رہنماؤں نے اسے خوش آئند قرار دیا۔
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، جو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سب سے پرانی کشمیری جماعت ہے، کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے شملہ معاہدے کے خاتمے کو “کشمیر کی آزادی کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ کے خاتمے” کے طور پر سراہا۔

ان کا کہنا تھا:

“یہ معاہدہ کشمیریوں کے بغیر، ان کی مرضی کے خلاف دو ریاستوں کے درمیان طے پایا۔ اس کا خاتمہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔”

شملہ معاہدہ: کشمیر کے لیے نقصان یا فائدہ؟

نقصانات:

  • بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو ثانوی بنا دیا گیا۔
  • اقوام متحدہ کی قراردادوں کو غیر مؤثر سمجھا گیا۔
  • کشمیریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔
  • دو طرفہ مذاکرات کے باوجود کوئی عملی حل سامنے نہ آ سکا۔
یہ بھی پڑھیں:  کشمیر کی حالیہ لائن آف کنٹرول کشیدگی: شہری ہلاکتیں، ڈرون حملے اور سیزفائر کی امید

ممکنہ فوائد (اگر نیک نیتی سے عمل ہوتا):

  • دونوں ممالک کے درمیان مستقل جنگ سے بچاؤ ممکن تھا۔
  • اعتماد سازی کے اقدامات کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی۔
  • معاشی و عوامی رابطے بہتر ہو سکتے تھے۔

نتیجہ: شملہ معاہدہ ختم، کیا اب کشمیریوں کی آواز سنی جائے گی؟

شملہ معاہدہ تاریخ کا حصہ ضرور ہے، لیکن حقیقت میں اس نے کشمیر کے اصل مسئلے کو دبانے کا ذریعہ بن کر کام کیا۔ بھارت کی طرف سے اس معاہدے کو ختم کرنا اگرچہ خطرناک پیش رفت ہے، لیکن کشمیری عوام اور قیادت کے لیے ایک موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو ازسرنو اجاگر کریں۔

پاکستان اس وقت شملہ معاہدے کی بحالی پر زور دے رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ معاہدہ جو کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر طے پایا، اب بھی قابلِ عمل ہے؟

Qاب وقت ہے کہ دنیا شملہ معاہدے سے آگے بڑھ کر کشمیری عوام کو مسئلے کا فریق اول تسلیم کرے، اور ایک ایسا راستہ نکالا جائے جو انصاف، خود ارادیت اور پائیدار امن کی ضمانت دے۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری: جمہوریت اور اختلافِ رائے پر نیا سوال
امتیاز اسلم کا جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر بھارتی فنڈنگ کے الزامات کو مسترد، قانونی کارروائی کا اعلان
جشنِ میلادالنبی ﷺ: جموں، کشمیر اور لداخ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا
کشمیری نژاد شبانہ محمود برطانیہ کی وزیر داخلہ بن گئیں
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے چھ سال: کشمیر کا سوال اب بھی باقی ہے
TAGGED:Shimla agreement in Urduشملہ معاہدہمسئلہ کشمیر
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟ ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟
Next Article ایران کا قطر میں امریکی ایئر بیس “العدید” پر میزائل حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں ایران کا قطر میں امریکی ایئر بیس “العدید” پر میزائل حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
آزاد کشمیر
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان

اسی بارے میں

کشمیر میں منتخب وزیر اعلیٰ کی نظر بندی: شہداء کے دن پر عوامی یادداشت کو کچلنے کی کوشش؟

کشمیر میں منتخب وزیر اعلیٰ کی نظر بندی: شہداء کے دن پر عوامی یادداشت کو کچلنے کی کوشش؟

By Azadi Times
7 months ago
کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار: ذہنی صحت نظر انداز، انسانیت زیر سوال

کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار: ذہنی صحت نظر انداز، انسانیت زیر سوال

By Azadi Times
7 months ago
کشمیر: پن کے بجلی منصوبے سندھ آبی معاہدہ کی معطلی اور کشمیر کے پانی پر نئی کشمکش

کشمیر: پن کے بجلی منصوبے سندھ آبی معاہدہ کی معطلی اور کشمیر کے پانی پر نئی کشمکش

By Azadi Times
7 months ago
کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ناکامی یا سیاسی دباؤ؟ مظفرآباد میں تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او راجہ سہیل کی اچانک برطرفی پر سوالات کھڑے ہو گئے

کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ناکامی یا سیاسی دباؤ؟ مظفرآباد میں تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او راجہ سہیل کی اچانک برطرفی پر سوالات کھڑے ہو گئے

By Azadi Times
7 months ago
UN Resolutions on Kashmir کشمیر تنازع: اقوام متحدہ کی قراردادیں، تاریخی پس منظر، بنیادی پیغام اور آج کی اہمیت

UN Resolutions on Kashmir کشمیر تنازع: اقوام متحدہ کی قراردادیں، تاریخی پس منظر، بنیادی پیغام اور آج کی اہمیت

By Azadi Times
8 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?