شملہ معاہدہ، جو 2 جولائی 1972 کو بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1971 کی بھارت-پاکستان جنگ کے بعد طے پایا، آج اس پر دستخط کے پانچ دہائیاں گزر چکی ہیں۔
جہاں کچھ حلقے اس معاہدے کو امن کی سفارتی فتح قرار دیتے ہیں، وہیں کئی ناقدین، خاص طور پر متنازع خطے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد، اسے ایک سیاسی جال تصور کرتے ہیں—کیونکہ اس معاہدے کی نہ مذاکرات میں کشمیری عوام کی نمائندگی تھی، نہ عملدرآمد میں۔
یہ رپورٹ شملہ معاہدے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے—جس میں اس کی شقیں، سیاسی و تاریخی سیاق و سباق، مختلف ممالک کی تعبیرات، اور سب سے بڑھ کر کشمیر کے سیاسی مستقبل پر اس کے دور رس اثرات شامل ہیں، خاص طور پر ان کشمیریوں کے تناظر میں جو پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام حصوں میں رہ رہے ہیں۔
تاریخی پس منظر
شملہ معاہدہ ایک خونریز جنگ کے بعد وجود میں آیا، جو 1971 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑی گئی اور جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بن کر ابھرا۔
اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف عسکری شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ 90,000 سے زائد پاکستانی فوجی بھارتی قیدی بنے۔
شدید سیاسی، عسکری اور سفارتی دباؤ میں، اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کی جس سے وہ قیدی فوجیوں کی واپسی اور مزید زمینی نقصان کو روک سکیں۔
بھارت، جس کی قیادت اُس وقت اندرا گاندھی کر رہی تھیں، نے اس موقع کو سفارتی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا معاہدہ کرایا، جو بعد میں بھارت کی کشمیر پالیسی کی بنیاد بن گیا۔ اس معاہدے میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام تنازعات کو صرف دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، اور بین الاقوامی ثالثی یا اقوام متحدہ کا کردار ختم کر دیا گیا۔
اہم نکات
شملہ معاہدے کی مرکزی شقیں درج ذیل تھیں:
- پاکستان اور بھارت تمام مسائل کو، بشمول کشمیر، دو طرفہ طریقے سے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے۔
- لائن آف کنٹرول (LoC) کو تسلیم کیا جائے گا اور کوئی یکطرفہ تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
- دونوں ممالک طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے اور دوستی، احترام اور ہم آہنگی کے اصولوں کو اپنائیں گے۔
بھارت کا مؤقف: اقوام متحدہ سے فرار
بھارت کی حکومت اس معاہدے کو بین الاقوامی ثالثی کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں ممالک نے باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر اتفاق کیا، لہٰذا اقوام متحدہ، او آئی سی، یا کسی تیسرے فریق کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو غیر مؤثر قرار دیا اور استصوابِ رائے کی کسی بھی بات کو مسترد کر دیا۔
پاکستان کا مؤقف: معاہدہ لیکن اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی زندہ
پاکستان شملہ معاہدے کو باضابطہ تسلیم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ معاہدے کی روح کے مطابق دو طرفہ مذاکرات بحال کیے جائیں، مگر ساتھ ہی وہ بین الاقوامی ثالثی کو بھی مسترد نہیں کرتا۔
حالیہ برسوں میں، خاص طور پر پہلگام حملے کے بعد بھارت نے شملہ معاہدے کو سرکاری طور پر غیر مؤثر قرار دیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، “دہشت گردی کی موجودگی میں کوئی معاہدہ یکطرفہ طور پر پابند نہیں ہو سکتا۔”
پہلگام حملہ اور شملہ معاہدے کا خاتمہ
اپریل 2025 میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد، بھارت نے شملہ معاہدے کو ختم شدہ قرار دے دیا۔ اس اعلان کے بعد بھارت نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تمام چینلز بند کر دیے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سخت مؤقف اپنایا کہ “اب کشمیر مکمل طور پر بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔”
کشمیری ردعمل: معاہدے کا خاتمہ کشمیریوں کے حق میں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھارت نے شملہ معاہدے کو غیر مؤثر قرار دیا، تو کئی کشمیری رہنماؤں نے اسے خوش آئند قرار دیا۔
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، جو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سب سے پرانی کشمیری جماعت ہے، کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے شملہ معاہدے کے خاتمے کو “کشمیر کی آزادی کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ کے خاتمے” کے طور پر سراہا۔
ان کا کہنا تھا:
“یہ معاہدہ کشمیریوں کے بغیر، ان کی مرضی کے خلاف دو ریاستوں کے درمیان طے پایا۔ اس کا خاتمہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔”
شملہ معاہدہ: کشمیر کے لیے نقصان یا فائدہ؟
نقصانات:
- بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو ثانوی بنا دیا گیا۔
- اقوام متحدہ کی قراردادوں کو غیر مؤثر سمجھا گیا۔
- کشمیریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔
- دو طرفہ مذاکرات کے باوجود کوئی عملی حل سامنے نہ آ سکا۔
ممکنہ فوائد (اگر نیک نیتی سے عمل ہوتا):
- دونوں ممالک کے درمیان مستقل جنگ سے بچاؤ ممکن تھا۔
- اعتماد سازی کے اقدامات کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی۔
- معاشی و عوامی رابطے بہتر ہو سکتے تھے۔
نتیجہ: شملہ معاہدہ ختم، کیا اب کشمیریوں کی آواز سنی جائے گی؟
شملہ معاہدہ تاریخ کا حصہ ضرور ہے، لیکن حقیقت میں اس نے کشمیر کے اصل مسئلے کو دبانے کا ذریعہ بن کر کام کیا۔ بھارت کی طرف سے اس معاہدے کو ختم کرنا اگرچہ خطرناک پیش رفت ہے، لیکن کشمیری عوام اور قیادت کے لیے ایک موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو ازسرنو اجاگر کریں۔
پاکستان اس وقت شملہ معاہدے کی بحالی پر زور دے رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ معاہدہ جو کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر طے پایا، اب بھی قابلِ عمل ہے؟
Qاب وقت ہے کہ دنیا شملہ معاہدے سے آگے بڑھ کر کشمیری عوام کو مسئلے کا فریق اول تسلیم کرے، اور ایک ایسا راستہ نکالا جائے جو انصاف، خود ارادیت اور پائیدار امن کی ضمانت دے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

