از: دی آزادی ٹائمز – شاعری سیکشن
دنیا کے کروڑوں لوگ بہتر مستقبل یا حالات کی مجبوری میں اپنے وطن سے دور جا بستے ہیں۔ یہ پردیس — یعنی وطن سے دوری — صرف جسمانی سفر نہیں بلکہ روحانی، جذباتی اور ذہنی طور پر بھی انسان کو متاثر کرتا ہے۔ اسی تنہائی، کرب اور یادوں کے احساس کو پردیس شاعری (Pardes Shayari) کے ذریعے لفظوں میں قید کیا جاتا ہے۔
Pardes Poetry صرف شاعری نہیں بلکہ ایک ایسی صدائے دل ہے جو ہر اس شخص کے دل کو چھوتی ہے جو کبھی ماں کی گود، دوستوں کی ہنسی، یا گلی کوچوں کی مہک سے دور ہوا ہو۔ اسی لیے ہم آج آپ کے لیے لے کر آئے ہیں بہترین بیس اشعار (20 Pardes Shayari Lines) — جو پردیس کی جدائی اور وطن کی یاد کو بہترین انداز میں بیان کرتے ہیں۔
پردیس شاعری: بیس بہترین اشعار
- پردیس کی راتوں میں وہ ماں کی دعا یاد آتی ہے
اجنبی چہروں میں اپنوں کی صدا یاد آتی ہے - وہ جو گلی کے کونے پر ملتے تھے روز
پردیس میں اب خوابوں میں آتے ہیں وہ لوگ - وطن کی مٹی کی خوشبو کچھ اور ہی ہوتی ہے
دل کو جو سکون دے، وہ چیز کم ہی ہوتی ہے - پردیس کا ہر لمحہ سوال کرتا ہے
“کیا چھوڑ کر آیا ہے، کس کے لیے آیا ہے؟” - میں نے وقت سے پوچھا، “یہ تنہائی کیوں دی؟”
اس نے کہا، “پردیسیوں کا مقدر یہی ہوتا ہے” - کسی سے شکایت نہ کرنا پردیس میں
یہاں آنسو بھی وقت سے پہلے سوکھ جاتے ہیں - دن میں محنت، رات کو تنہائی
یہی ہے پردیسی کی سچائی - ماں کے ہاتھوں کی روٹی، اب خواب بن گئی
پردیس کی روٹیاں، بے ذائقہ سی لگتی ہیں - پردیس میں رہ کے ہم اتنے تنہا ہو گئے
کہ اپنے سائے سے بھی انجانے ہو گئے - دیس کی مٹی اور اپنوں کی خوشبو
کوئی ہوائی جہاز یہ چیز نہیں لاتا - جب گاؤں کی گلی یاد آتی ہے
دل چھوٹا سا بچہ بن جاتا ہے - پردیس کے میلے بھی سنسان لگتے ہیں
جب اپنوں کی بات ہو، تو سب ویران لگتے ہیں - اک کمرے میں زندگی کاٹ لی
پردیس میں خود سے بھی بات چھین لی - چاندنی راتوں میں بھی تنہائی محسوس ہوتی ہے
شاید دل اب صرف دیس کی طلب کرتا ہے - بچوں کی ہنسی میں کچھ کمی سی ہے
شاید دادا دادی کی کہانی نہیں رہی - ہر سال چھٹی کا انتظار کرتا ہوں
لیکن پردیس ہر بار روک لیتا ہے - پردیس کا سونا محل بھی قید لگتا ہے
دیس کا چھوٹا کمرہ بھی جنت لگتا ہے - جتنا کمایا ہے، سب اس کے پیچھے چھپا ہے
جو کھویا ہے پردیس میں، وہی اصل قیمت ہے - پردیس سے واپسی کا خواب دیکھا
آنکھ کھلی تو فلائٹ کی آواز سنائی دی - پردیس میں دل لگانا مشکل ہے
کیونکہ روح تو وہیں رہ گئی جہاں بچپن تھا
Pardes Shayari کیوں دل کو چھوتی ہے
پردیس شاعری میں صرف اشعار نہیں، ایک مکمل داستان چھپی ہوتی ہے۔ یہ شاعری:
- دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے
- ہر اس شخص کے جذبات کی ترجمان ہے جو اپنوں سے دور ہے
- احساس، درد اور قربانی کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے
پردیس کی زندگی جتنی بھی چمکدار نظر آئے، اس کے اندر چھپی تنہائی اور یادوں کا بوجھ صرف پردیسی دل ہی سمجھ سکتا ہے۔ The Azadi Times آپ کو دعوت دیتا ہے کہ اگر آپ بھی پردیس میں رہتے ہیں، تو اپنے جذبات ہمارے ساتھ بانٹیں — شاید آپ کی شاعری کسی اور کے دل کا درد بھی کم کر دے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

