مظفرآباد — بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج اور دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے پاکستانی چینل 24 نیوز کو دیے گئے ایک جذباتی انٹرویو میں امام حسین علیہ السلام کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر وہ کالا لباس پہنے ہوئے تھے اور واقعۂ کربلا یاد کر کے ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
یہ انٹرویو، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، نہ صرف بین المذاہب رواداری کی ایک خوبصورت مثال بنا بلکہ کربلا کے پیغام کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔
“کربلا یاد آتی ہے تو آنکھیں بھر آتی ہیں”
جسٹس کاٹجو نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا:
“جس طرح میں اُس ہندو مذہب کا احترام کرتا ہوں جس میں پیدا ہوا، اسی طرح اسلام کا بھی کرتا ہوں۔ جب بھی میں امام حسین اور کربلا کا واقعہ پڑھتا ہوں، میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ امام حسین نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور سب کچھ قربان کر دیا۔
“اصل قاتل وہ ہیں جو یزید کے راستے پر چلتے ہیں۔ اسلام ہر کربلا کے بعد دوبارہ زندہ ہوتا ہے۔”
ظلم کے خلاف مزاحمت کا عالمگیر پیغام
کاٹجو نے امام حسین کے پیغام کو صرف مسلمانوں تک محدود نہ مانتے ہوئے کہا:
“یہ قربانی پوری انسانیت کے لیے ہے۔ امام حسین نے بتایا کہ ظلم کے آگے سر نہیں جھکانا بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہی آج کے ایرانی کر رہے ہیں، یہی فلسطینی کر رہے ہیں۔”
انہوں نے ممتاز اردو شاعر وسیم بریلوی کا ایک شعر بھی سنایا:
“اصولوں پہ جہاں آنچ آئے، ٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہو، تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے”
ہندو مسلم بھائی چارے کی تاریخی مثالیں
انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم دشمنی ایک مصنوعی سیاسی کھیل ہے جو ووٹ حاصل کرنے کے لیے کھیلا جاتا ہے۔
“حقیقت میں یہاں کوئی نفرت نہیں۔ ایک زمانے میں لکھنؤ میں محرم اور ہولی ایک ہی دن آئے۔ ہندوؤں نے کہا کہ آج مسلمان بھائیوں کا دنِ سوگ ہے، ہم ہولی نہیں منائیں گے۔”
انہوں نے بتایا کہ اُس دن نواب واجد علی شاہ نے سب کو بلایا اور ہندو مسلم بھائی چارے کی خاطر خود ہولی کھیلنی شروع کی۔
“یہ سب محبت اور احترام کی روایات تھیں، جنہیں انگریزوں نے اور آج کے سیاست دانوں نے توڑا۔”
زینب کا کردار اور صحافت کی ذمہ داری
کاٹجو نے کہا کہ کربلا کے بعد امام حسین کی بہن حضرت زینب کا کردار بے مثال تھا۔
“ان کے ہاتھ پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے مگر جہاں لے جایا گیا، وہاں کھڑے ہو کر ظلم کی داستان سنائی۔ اگر زینب نہ ہوتیں تو شاید دنیا کو کبھی پتا نہ چلتا کہ کربلا میں ہوا کیا تھا۔”
انہوں نے زینب کو ایک عظیم صحافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے صحافیوں کو بھی سچ بولنے کی یہی جرات چاہیے۔
آج کے حالات میں کربلا کا پیغام
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کاٹجو نے کہا:
“یہ جنگیں دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اصل فائدہ ہتھیار بیچنے والوں کا ہوتا ہے۔ امام حسین کا پیغام ہے کہ ظلم کے آگے سر نہ جھکاؤ، مگر یہ بھی یاد رکھو کہ اصل دشمن وہ ہیں جو ہمیں آپس میں لڑاتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام آج کے فلسطینیوں، کشمیریوں اور دنیا کے مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
“جب بھی کربلا یاد کرتا ہوں، میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ کیسے انھیں بھوکا پیاسا رکھا گیا، بچوں سمیت سب کو شہید کر دیا گیا، پھر بھی انھوں نے ہار نہیں مانی۔”
نتیجہ
جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا یہ انٹرویو محض ایک جذباتی اظہار نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے — کہ ظلم چاہے کسی بھی شکل میں ہو، اس کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔ امام حسین کا راستہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
“کربلا کے بعد بھی اسلام زندہ ہوتا ہے اور ہر وہ انسان جو ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، وہ حسینیت کا پیروکار ہے۔”
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

