سرینگر، 13 جولائی 2025 — بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جمہوریت پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جب ریاست کے منتخب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، ان کے وزرا اور دیگر سرکردہ رہنما شہداء کے دن کے موقع پر اپنے گھروں میں نظر بند کر دیے گئے۔ اس روز 1931 کے ان 22 کشمیریوں کی یاد منائی جاتی ہے جنہیں ڈوگرہ راج کے خلاف احتجاج پر گولی مار کر شہید کیا گیا تھا۔
عمر عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا:
“منتخب نمائندوں کے گھروں کو باہر سے تالے لگا دیے گئے۔ صرف اس لیے کہ ہم ایک قبرستان پر پھول نہ رکھ سکیں۔ یہ جمہوریت کی توہین ہے۔”
شہداء کی قبروں تک رسائی بند
سرینگر کے پرانے شہر کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا، تمام راستے سیل کر دیے گئے، اور تاریخی مزاری شہداء پر سیکیورٹی فورسز کا پہرہ لگا دیا گیا۔ ان پابندیوں کا جواز “امن و امان” کا خدشہ بتایا گیا، لیکن سیاسی مبصرین اسے ایک خاموش لیکن واضح پیغام قرار دے رہے ہیں: کشمیریوں کو اپنی تاریخ یاد رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس، اپنی پارٹی اور حریت کانفرنس کے رہنما بھی اسی طرح گھر میں نظر بند رہے۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا:
“جب آپ شہداء کے قبرستان پر پہرہ لگا دیتے ہیں اور لوگوں کو گھروں میں بند کر دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خوفزدہ ہیں۔”
آئینی اختیارات بمقابلہ غیر منتخب حکمرانی
عمر عبداللہ اور ان کی حکومت کو بھارتی آئین کے تحت عوامی ووٹ سے منتخب کیا گیا ہے، لیکن ریاست میں اصل اختیار اب بھی غیر منتخب گورنر اور مرکزی سیکیورٹی اداروں کے پاس ہے۔ سیاسی حلقوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر منتخب وزیر اعلیٰ کو بھی اپنے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے سے روکا جا سکتا ہے، تو پھر کشمیر میں جمہوریت کہاں کھڑی ہے؟
بی جے پی کا متنازع مؤقف
بی جے پی کے مقامی رہنماؤں نے شہداء کے دن کی اہمیت کو چیلنج کیا، اور کچھ نے 1931 کے شہداء کو “غدار” تک قرار دیا۔ ان بیانات سے کشمیریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
بین الاقوامی تناظر
کشمیر میں منتخب قیادت کو نظر بند کر دینا ایک عالمی سوال بن چکا ہے: کیا یہ محض داخلی معاملہ ہے یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی؟ خود ارادیت کا حق صرف نعرہ نہیں بلکہ بین الاقوامی وعدہ بھی ہے، اور ایسے واقعات کشمیریوں کی دیرینہ جدوجہد کو مزید جِلا دیتے ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

