واشنگٹن — امریکا نے پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کے ذیلی گروہ دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام اپریل میں بھارتی کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے تناظر میں سامنے آیا جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا کہ TRF کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘‘ اور ’’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد‘‘ قرار دینا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس مطالبے کا حصہ ہے جس میں پہلگام حملے کے ذمے داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا گیا تھا۔
TRF جسے کشمیری مزاحمت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے ابتدا میں اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی لیکن چند دن بعد اس سے انکار کر دیا۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بھارت اور امریکا کی مشترکہ کارروائی
بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اس امریکی فیصلے کو ’’بھارت-امریکا انسدادِ دہشت گردی تعاون کی مضبوط تصدیق‘‘ قرار دیا۔ واشنگٹن میں جنوبی ایشیا کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’واشنگٹن نے اس حملے پر بھارت کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ یہ گروہ لشکرِ طیبہ سے منسلک ہے۔‘‘
پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’لشکرِ طیبہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی وابستگی زمینی حقائق کے منافی ہے۔‘‘ پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک میں اس گروہ کے ڈھانچے کو ختم کر دیا گیا ہے، قیادت کو گرفتار کیا گیا اور کارکنان کی ذہن سازی کی گئی ہے۔
پس منظر
دی ریزسٹنس فرنٹ کو 2019 میں منظرِ عام پر آنے والا لشکرِ طیبہ کا ایک نیا چہرہ قرار دیا جاتا ہے۔ لشکرِ طیبہ پہلے ہی امریکا اور اقوامِ متحدہ کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے اور بھارت و مغرب میں ہونے والے متعدد حملوں میں اس پر الزام عائد ہے، جن میں 2008 کے ممبئی حملے بھی شامل ہیں۔
اپریل کے اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جو دس مئی کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ختم ہوئیں۔ جنگ بندی کا اعلان امریکا نے ثالثی کے بعد کیا، تاہم بھارت نے امریکی ثالثی کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست حل ہونا چاہیے۔
کشمیر کی حیثیت
واضح رہے کہ مسلم اکثریتی خطہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک دیرینہ تنازع ہے جس پر دونوں دعویٰ رکھتے ہیں اور کئی جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔
ذرائع: رائٹرز نیوز ایجنسی
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

