دی ازادی ٹائمز | بین الاقوامی ڈیسک – برطانیہ کی سیاست میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔ کشمیری نژاد برطانوی سیاستدان شبانہ محمود کو برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ شبانہ محمود آج برطانیہ کی لیبر پارٹی کی ایک نمایاں مسلم رہنما اور قومی سیاست میں ایک مضبوط اور بااثر آواز سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی کہانی ہجرت، محنت اور عزم و حوصلے کی عکاس ہے جو دنیا بھر کی کشمیری اور پاکستانی برادری کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
خاندانی پس منظر
شبانہ محمود کے والدین کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع میرپور سے ہے۔ ان کے والدین پرانا میرپور کے رہائشی تھے جو بعد ازاں منگلا کالونی میں مقیم ہوئے۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں وہ آزاد کشمیر سے ہجرت کر کے برطانیہ میں آباد ہوئے اور وہیں انہوں نے اپنے خاندان کے لیے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ یہی ہجرت شبانہ محمود کی کامیابی کی بنیاد ثابت ہوئی۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
شبانہ محمود کی پیدائش برمنگھم، انگلینڈ میں ہوئی۔ وہ اسی شہر میں پلی بڑھیں اور مقامی ماحول نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے برمنگھم ہی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں قانون (لا) کی تعلیم مکمل کی۔ تعلیم کے اس مرحلے نے ان کے کیریئر کی سمت طے کی اور وہ ایک کامیاب وکیل کے طور پر سامنے آئیں۔
سیاسی سفر
شبانہ محمود نے برمنگھم میں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔ عوامی خدمت کے جذبے اور کمیونٹی کی نمائندگی نے انہیں جلد ہی نمایاں کر دیا۔ مقامی سیاست سے آغاز کرنے والی شبانہ محمود نے قومی سطح پر بھی اپنی پہچان بنائی اور لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر برطانوی پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں۔
پارلیمان میں ان کا کردار اور نمایاں کارکردگی انہیں ان چند مسلم خواتین سیاستدانوں میں شامل کرتا ہے جو برطانیہ کی قومی سیاست میں ایک بااثر حیثیت رکھتی ہیں۔ آج وہ وزارت داخلہ جیسے طاقتور منصب پر فائز ہو کر تاریخ رقم کر چکی ہیں۔
ایک نمایاں مقام
شبانہ محمود کی کامیابی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری نژاد کمیونٹی نہ صرف سماجی اور معاشی میدانوں میں بلکہ سیاسی قیادت میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا عروج اس بات کا ثبوت ہے کہ ہجرت کرنے والی برادریاں کس طرح اپنے بچوں کو تعلیم، مواقع اور قیادت کی راہ فراہم کرتی ہیں۔
نوجوان نسل کے لیے ایک مثال
شبانہ محمود کی جدوجہد اور کامیابی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ تعلیم، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے نہ صرف پیشہ ورانہ میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ قومی سطح پر قیادت کا مقام بھی پایا جا سکتا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

