دی آزادی ٹائمز | کشمیر ڈیسک – حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت کا دن، عید میلادالنبی ﷺ ہفتے کے روز جموں، کشمیر اور لداخ کے طول و عرض میں انتہائی عقیدت، روحانی جوش اور مذہبی احترام کے ساتھ منایا گیا۔ وادی کے چھوٹے بڑے شہروں سے لے کر کرگل اور لیہہ تک، مساجد، خانقاہوں، امام بارگاہوں اور درگاہوں کو برقی قمقموں سے منور کیا گیا جبکہ جلوس، محافل اور نعتیہ اجتماعات میں درود و سلام اور نعتوں کی گونج سنائی دیتی رہی۔
سب سے بڑا اجتماع وادی کشمیر کے قلب میں واقع درگاہ حضرت بل میں ہوا، جہاں ہزاروں فرزندانِ توحید نے موئے مقدس کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔
رات بھر عبادات، درود و سلام اور سیرت النبی ﷺ پر خطابات کا سلسلہ جاری رہا۔ صبح جب موئے مقدس کی زیارت کرائی گئی تو عقیدت مندوں کے چہروں پر خوشی اور آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے۔ یہ منظر روحانی سرور اور عشقِ رسول ﷺ کی ایک عظیم الشان تصویر پیش کر رہا تھا۔
وادی بھر میں جلوس اور محافل
وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں میلاد النبی ﷺ کے جلوس نکالے گئے۔ شرکاء نے بلند آواز میں نعرے لگائے: “لبیک یا رسول اللہ” اور “یا نبی سلام علیک”۔ بچے سبز پرچم اور جھنڈیاں لیے شامل تھے جبکہ بزرگ تسبیحات اور درود کی محافل میں مصروف رہے۔
راستوں پر جگہ جگہ دودھ، چائے اور کھانے پینے کے لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ تاجر برادری اور مقامی لوگوں نے عاشقانِ رسول ﷺ کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہوئے پانی اور خوراک کے سبیل لگائے۔ علما نے اپنے خطابات میں سیرتِ نبوی ﷺ کو دنیا کے لیے ہدایت کا چراغ قرار دیا اور امت کو اتحاد، خدمتِ خلق اور محبت کا پیغام دیا۔
اتحاد و یگانگت کا عملی مظاہرہ
اس موقع پر مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہر مکتبِ فکر نے بھرپور شرکت کی۔ پامپور میں اوقاف اسلامیہ ٹرسٹ اور شاہ ہمدان میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام بڑا جلوس نکالا گیا جو خانقاہ عالیہ پر اختتام پذیر ہوا۔
اسی طرح سری نگر کے کلاشپورہ میں جامعہ ہمدانیہ نے جلوس نکالا جبکہ انجمن شرعی شیعان کی قیادت میں ایک بڑے شیعہ-سنی جلوس کا اہتمام ہوا جو میر شمس الدین عراقی خانقاہ سے نکل کر امام بارہ گلشن باغ تک گیا۔
جموں اور پیر پنجال میں چراغاں
جشن کی روشنی اور عقیدت کا رنگ وادی تک محدود نہ رہا۔ جموں کے اضلاع ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ میں بھی جلوس اور محافل کا اہتمام کیا گیا۔ پیر پنجال کے علاقوں مینڈھر اور سورنکوٹ میں ہزاروں افراد نے جلوس میں شرکت کی۔ خواتین نے گھروں میں چراغاں کیا اور جلوس کے شرکاء کے لیے مشروبات و مٹھائیاں پیش کیں۔
برف پوش لداخ میں جشن
بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ واقع لداخ میں بھی میلاد النبی ﷺ کا جشن جوش و خروش سے منایا گیا۔ کرگل میں امام بارگاہوں میں رات بھر عبادات اور محافل جاری رہیں، جبکہ لیہہ میں اہلِ سنت کمیونٹی نے جلوس نکالا۔ برف پوش پہاڑوں کے سائے تلے درود و سلام کی صدائیں ایک منفرد روحانی منظر پیش کر رہی تھیں۔
شہروں کی سڑکیں اور بازار جگمگا اُٹھے
جموں و کشمیر کے ہر شہر اور قصبے کو سبز جھنڈوں، بینروں اور برقی قمقموں سے سجا دیا گیا۔ سری نگر کی گلیاں اور بازار رات گئے تک چراغاں سے جگمگاتے رہے۔
انتظامیہ نے حضرت بل میں خصوصی انتظامات کیے، جن میں بجلی، پانی، صفائی اور طبی سہولیات شامل تھیں۔ کمیونٹی گروپس اور سرکاری اداروں نے بھی سہولیات فراہم کیں۔ جے اینڈ کے بینک اور اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے زائرین کے لیے خصوصی خدمات فراہم کیں۔
خوشی اور ایمان کی تجدید کا دن
عاشقانِ رسول ﷺ کے لیے عید میلادالنبی ﷺ صرف ایک جشن نہیں بلکہ ایمان کی تجدید کا دن تھا۔ ایک عقیدت مند نے حضرت بل میں کہا:
“یہ ہمارے لیے سب سے بڑی خوشی کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب کائنات کو نبی رحمت ﷺ کی صورت میں نور ملا۔”
علما نے اپنے پیغامات میں زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو سیرتِ رسول ﷺ کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ نفرت کی جگہ محبت اور ناانصافی کی جگہ عدل و رحم قائم ہو سکے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

