ریاست گر بچانی ہے سیاست چھین لو ان سے
ورنہ اس ریاست کو یہ سیاست مار ڈالے گی
29 ستمبر سے کشمیر میں شروع ہونے والا لاک ڈاؤن صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ ایک دہائیوں پر محیط ریاستی غفلت، استحصال اور محرومی کے خلاف عوامی اعلان ہے۔ وہ اعلان جس کو دبانے کے لیے الزامات عائد کیے گئے اس عوامی تحریک جس کو مٹانے کے لیے سازشیں کی گئی ۔ یہ لاک ڈوان سنسان سڑکوں، بند بازاروں اور خاموش سکولوں کی کہانی نہیں ہے یہ عدم اعتماد کے اظہار، انصاف اور حقوق کے لیے جدوجہد اور استحصال کے خلاف مزاحمت کی داستان ہے۔
یہ سفر، یہ قیادت، محض ایک دن یا چند ہفتوں کی کہانی نہیں۔ یہ ان تھک جدوجہد کا وہ تسلسل ہے جو کشمیری عوام گزشتہ تین برسوں سے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تحریکوں، شعوری بیداری اور عوامی اتحاد کا ثمر ہے کہ آج کشمیری قوم روایتی سیاسی جماعتوں سے الگ تھلگ، اپنے واضح موقف کے ساتھ، پورے عزم اور یکسوئی سے میدان میں کھڑی ہے۔
تین سال پہلے تحریک نے سر اٹھایا تھا تب گلی گلی ایک شعر بہت گونجا تھا جس کا پہلا مصرعہ تھا
“اٹھو لوگو بغاوت سے قیامت کا سماں کر دو “..حکومت یہاں شاید جہنم و جنت کے سماں سمجھتی رہی اور ان کے مطابق کشمیری عوام جہنم و جنت کے مناظر دنیا میں دکھانے سے رہے ۔لیکن عوام کشمیر کے لیے “قیامت کے سماں” سے مراد مراعات یافتہ طبقے کے فیصلے کے مناظر تھے۔
اسی شعر کا دوسرا مصرعہ تھا
“کہ یہ خاموش رہنے کی عادت تمہیں مار ڈالے گی”
ہر گھر میں موضوع بحث بدلنا بدلنے لگا دماغوں نے بیدار ہونا شروع کیا تو ذہنوں میں کہیں سوال ابھرنے لگے جب جواب کی کھوج میں نکلے تو زبانوں پر لگے قفل ٹوٹے ۔ پھر جو صدائیں گونجتی رہی وہ انقلاب کی راہ پر گامزن قافلے کی پکار بنتی گئی۔
روالاکوٹ میں منعقد ہونے والا جلسہ ، اس میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں کے وزراء کی موجودگی اور اس کے باوجود جلسہ گاہ کا خالی رہنا اس بات کی واضح اعلان تھا کہ عوام سیاسی شعور کی سطح پر بیدار ہو چکی ہے سیاست اور سیاسی نعروں پر مرنے لڑنے اور نام نہاد سیاسی جماعتوں کی اب تو نہ کوئی اہمیت رہی اور قائم کردہ حکومتی ڈھانچے کی۔ یعنی چہرے بدلنے کی نہیں یہاں نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ پھر طویل مذکرات کا ہونا اور ان کا کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا حکومتی ناکامی کا تسلسل ہے۔ مذاکرات کے بعد وزراء کی پریس کانفرنس میں کہا گیا جو ہم مطالبہ مانتے جاتے اس کے بعد ایکشن کمیٹی نئے نئے مطالبات پیش کرتی جاتی ہے ۔ حالانکہ یہ درست بات نہیں تھی چارٹر آف ڈیمانڈ پر موجود مطالبات کافی پہلے سے تیار کردہ اور تحریری شکل میں موجود تھے ان میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے ۔ یہاں وفد کی موجودگی سے لگا کہ وہ چارٹر کے نکات اچھے سے سمجھ نہیں پائے ہیں جہاں عملی حکمت اور قانون سازی اپنانی چاہیے تھی وہاں کوئی خاطر خواہ نتائج نکال نہ سکے۔ جب کہ دوسری جانب اب عوام سمجھ چکی ہے کہ مظفر آباد کے ایوانوں میں بیٹھے یہ بے اختیار نمائندے اسلام آباد کی منظوری کے بغیر بل تک پاس کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور عبوری آئین قانونی چارٹر نہیں دراصل غلامی کا چارٹر ہے ۔
یہ جو پر شکستہ ہے فاختہ
یہ جو زخم زخم گلاب ہے
یہ ہے داستان میرے عہد کی
جہاں ظلمتوں کا نصاب ہے
جہاں ترجمانی ہو جھوٹ کی
جہاں حکمرانی ہو لوٹ کی
جہاں بات کرنی محال ہو
وہاں اگہی بھی عذاب ہے
یہ ازل سے چلتا آ رہا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے پوری کوشش سے اداروں اور حکومتی سطح پر ایسے نظام رائج کرتے ہیں جن میں ان کا مفاد ہو ۔ سامراجی طاقت فتوحات،قانون ،معشیت اور تجارت کا خود فائدہ لیتے ہیں ۔ عوام بنیادی حقوق سے بھی محروم رہ جاتی ہے۔
وقت کے ساتھ عوام میں موجود محرومیوں کو مراعات یافتہ طبقہ مذہبی اور سماجی دلائل کا سہارا لیتے ہوئے فطری بنا کر پیش کرنے لگتا ہے اور عوام مقدر سمجھ کر قبول کرنے پر لگ جاتے ہیں اور سوال نہیں اٹھا پاتے ہیں۔ اگر کوئی تحریک اٹھے اور ان اداروں کی کارکردگی پر بات کرے تو تب سامراجی طاقت اس تحریک کو ملک کی سالمیت ، مضبوطی اور استحکام سے محروم ہو جانے کی وجہ بنا پیش کرتی ہے ۔
حالانکہ جب تک ان نام نہاد کھوکھلے اداروں کا تقدس پامال نہ کیا جائے تب تک تبدیلی ناممکن ہے ۔جیسے موجود حکومت کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر کبھی سائفر کیس ڈال رہی ہے کبھی را کے ایجنٹ ہونے کے بے بنیاد الزامات لگا رہی تھی۔ لیکن یہ حیرت انگیز نہیں ہے کیونکہ
ارتقائی سطح پر جب بھی کوئی تبدیلی ہوتی ہے معاشرے میں اہستہ اہستہ ہی رائج ہوتی ہے مگر انقلاب سے آنے والی تبدیلی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ انقلاب دو طرح سے ممکن ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ اوپری سطح سے حکمران طبقہ اور پالیسی ساز ادارے ملک اور عوام کے لیے فائدہ مند منصوبہ جات پیش کرتے ہیں اور اس پر عمل کرواتے ہیں جو تبدیلی کا سبب بنتا ہے ۔ دوسرا طریقہ انقلاب کا نچلی سطح پر تحریکوں کے ذریعے بلند ہوتا ہے ۔ جہاں ابتداء میں منتشر چھوٹی چھوٹی تحریکیں اور مطالبات جدوجہد کی لڑیاں ہوتے ہیں جو یکجا منظم تحریک بن کر جب ابھرتے ہیں تو جدیدیت کی ایک نئی راہ کھلتی ہے ترقی کا حقیقی آغاز ہوتا ہے۔ یہ انقلاب پائیدار اور تاریخ میں نیا باب رقم کرتا ہے۔
امیر شہر کی آنکھوں میں خوف طاری ہے
میں غریب شہر کا رستہ ہموار کر رہا ہوں
تو جو سمجھا کہ اب بغاوت کون کرے گا
میں کر رہا ہوں اور سر بازار کر رہا ہوں
عوام کو حیرت تو تب ہوتی ہے جب تین میڈیکل کالج ،کچھ عمارتوں، تعلیمی ریٹ بغیر معیار کے اور کچھ ترقیاتی منصوبوں کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے اور پاکستان کے دیہی علاقوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کے احساس دلایا جاتا ہے کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ایک خوشحال ریاست کے ناشکرے باسی ہیں چاہے اس کے فیصلوں کا اختیار دوسرے ملک کے پاس ہی کیوں نہ ہو ۔ ایسے مدلل جوابات سن کر تو لگتا ہے تمام دنیا تو ترقی کے معراج پر ہے زیادہ کے لیے محنت کرنا انتہائی احمقانہ قدم ہو گا۔
آزاد کشمیر میں جب بھی مظلوم طبقے نے استحصال ، انصاف ، عزت اور حقوق کے لیے آواز بلند کی تب تب مراعات یافتہ طبقے نے ان کی آواز کو ملک کے لیے نقصان دہ بنا کر پیش کیا ۔ بجائے عوامی مسائل حل کرنے کے مطالبات کو استحکام اور ملکی معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا اور لاقانونیت اور ملک کی سالمیت کے تحفظ کے لیے حق گوئی کی آواز کو دبا دیا گیا ۔ جیسے ابھی حکومتی سطح پر کوشش کی گئی ۔
حالانکہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایک دن کے مسائل نہیں ہیں یہ وہ دیرینہ مسائل ہیں جو اٹھہتر سال سے کشمیری عوام کا خون چوس رہیں ہیں ۔ جو ناسور کی طرح معاشرے میں پنپ رہے ہیں جن میں پھنس کر انسان کی ذہنی اور معاشرتی صلاحیتیں مفلوج ہوتی چلی گئی ہیں۔ یہ دیمک کی طرح معاشرے کو چاٹ کر ختم کر گئے ہیں جن نے انسانی شعور اور ترقی کی راہیں محدود کر لی ہیں ۔
38 نکات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ کشمیر کے مظلوم و محکوم طبقے میں موجود ہر فرد کی آواز ہے ۔ ارباب اختیار اس کو اب سنجیدہ نہ لیں چند دن کی فقط ہڑتال ہی سمجھیں تو ان کی حکومت پر سوالیہ نشان ہی رہ جائے گا۔ کیونکہ یہ تحریک عوامی بیداری کی لہر ہے جو انقلاب کی وجہ بنے گی ۔ یہ تاریخ کا رخ موڑنے والا شعور ہے۔ تاریخ میں باب بدلنے والا ہے حکمران کی ناکامی اور جمود ، بے حسی، لوٹ مار اور مراعات کا خاتمہ یا عوام کی کامیابی اور بغاوت سے جہنم لینے والا انقلاب ۔۔۔
بقول حبیب جالب
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا۔
ہم نے اپنی تاریک راہوں میں روشن دیے خود ہی جلانے ہیں ۔
بے بسی کو شعور آنے دو رہنما یہاں سے ہی نکلیں گے ان شاءاللہ
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

