خلاصہ
-
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان حکومت کے خلاف “کھلی جنگ” کا اعلان کر دیا
-
پاکستانی فضائیہ نے کابل، قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے، افغانستان نے جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا
-
پاکستان نے 274 افغان طالبان جنگجوؤں اور 12 اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی
-
افغانستان نے 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور 19 چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا
-
چین، ترکی، سعودی عرب اور اقوام متحدہ نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی
اسلام آباد/کابل — پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات کی شب شروع ہونے والی سرحدی کشیدگی نے جمعہ کو باقاعدہ عسکری تصادم کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں جانب سے فضائی حملوں، سرحدی چوکیوں پر گولہ باری، ڈرون کارروائیوں اور بھاری جانی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم متعدد اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
کشیدگی کا آغاز کیسے ہوا؟
پاکستانی حکام کے مطابق 26 فروری کی شب افغانستان کی جانب سے سرحد پار حملوں اور مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد پاکستانی مسلح افواج نے جوابی آپریشن کیے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں “بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر” کے مطابق کی گئیں۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے دفاعی ردعمل میں پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
فضائی حملے اور ڈرون دعوے
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق جھڑپوں میں 12 پاکستانی فوجی ہلاک اور 27 زخمی ہوئے، جبکہ پاکستان نے 274 افغان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حملوں میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچا، اور سرکاری میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ بی بی سی سمیت آزاد ذرائع ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکے۔
افغان طالبان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فضائی کارروائیاں کی گئیں، تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ تین شہروں میں چھوٹے ڈرون حملوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا اور کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔
سیاسی اور سفارتی ردعمل
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کر کے عسکری قیادت سے بریفنگ لی اور “زیرو ٹالرنس” پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ادھر افغان طالبان کے ترجمان نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور وہ اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ چین نے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے، جبکہ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے رمضان کے دوران اس تصادم کو “تکلیف دہ” قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے رابطے کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
تاریخی پس منظر اور بنیادی تنازع
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے تنازع کا محور رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین استعمال کر کے حملے کرتی ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے علاقائی سیاست، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں، اور باہمی اعتماد کا فقدان بھی کارفرما ہے۔
زمینی صورتحال
بی بی سی کے مقامی نمائندوں کے مطابق خوست، پکتیا، پکتیکا، ننگرہار اور کنڑ کے بعض سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپوں کے بعد جمعہ کو نسبتی سکون دیکھا گیا، تاہم وقفے وقفے سے فائرنگ کے واقعات جاری رہے۔ پشاور اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس تنصیبات کی حفاظت سخت کر دی گئی ہے۔
غیر تصدیق شدہ دعوے اور اطلاعاتی جنگ
دونوں جانب سے ہلاکتوں، فوجی تنصیبات کی تباہی اور قیدیوں کی گرفتاری کے بڑے بڑے دعوے سامنے آئے ہیں، مگر آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے ان کی مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ ماہرین اسے روایتی عسکری تصادم کے ساتھ ساتھ “اطلاعاتی جنگ” بھی قرار دے رہے ہیں۔
آگے کیا؟
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو مزید سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے، تاہم بیک ڈور سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ علاقائی مبصرین کے مطابق اگر فوری سفارتی مداخلت نہ ہوئی تو یہ کشیدگی وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔
خطے کی سلامتی، سرحدی آبادیوں کے تحفظ اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے عالمی برادری اور مسلم ممالک کی جانب سے مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔ فی الحال صورتحال نہایت حساس ہے اور آئندہ چند دن اس تنازع کے رخ کا تعین کر سکتے ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

