اسلام آباد – پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے خونخوار حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں، جبکہ 12 دیگر زخمی ہوئے۔
یہ واقعہ اننت ناگ ضلع کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے سیاحوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کر دی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، زیادہ تر متاثرین بھارتی ریاستوں گجرات اور کرناٹکا سے تعلق رکھتے تھے۔
پاکستان کے خارجہ دفتر کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تشدد کی مذمت کی اور متوفی افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “ہم اس المناک واقعے میں معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کے جلد صحت یاب ہونے کی دعاگو ہیں۔”
ادھر، بھارت کے زیر انتظام کشمیر وادی کے سیاسی رہنماؤں، بشمول سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی، نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔ تاہم، بھارتی میڈیا کے بعض حصوں نے واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔
کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی کشیدگی والے خطوں میں سے ایک ہے، جہاں مسلح گروپوں اور بھارتی فورسز کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس تازہ حملے نے خطے میں سیاحوں کی سلامتی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے، خاص طور پر خوبصورت وادی کا رخ کرنے والے سیاحوں کے لیے۔
پاکستان نے کشمیر تنازعے کے پرامن حل کے لیے اپنی اپیل دہرائی، جس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل پر زور دیا گیا ہے۔
(تفصیلات کے آنے پر اپ ڈیٹس جاری رہیں گی۔)
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

