باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی: فضائی حملے، ڈرون کارروائیاں اور درجنوں ہلاکتوں کے دعوے
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > عالمی خبریں > پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی: فضائی حملے، ڈرون کارروائیاں اور درجنوں ہلاکتوں کے دعوے
عالمی خبریں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی: فضائی حملے، ڈرون کارروائیاں اور درجنوں ہلاکتوں کے دعوے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان "کھلی جنگ" کا آغاز: سرحدی تصادم میں سینکڑوں ہلاکتوں کے دعوے، علاقائی و عالمی طاقتوں کی تشویش

Azadi Times
Last updated: February 27, 2026 4:03 pm
Azadi Times
3 days ago
Share
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی شدت اختیار کر گئی: فضائی حملے، ڈرون کارروائیاں اور درجنوں ہلاکتوں کے دعوے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعہ جمعرات 26 فروری کی شب شدید فوجی تصادم میں تبدیل ہو گیا جب افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملوں کا آغاز کیا۔
SHARE

خلاصہ

  • پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان حکومت کے خلاف “کھلی جنگ” کا اعلان کر دیا
  • پاکستانی فضائیہ نے کابل، قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے، افغانستان نے جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا
  • پاکستان نے 274 افغان طالبان جنگجوؤں اور 12 اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی
  • افغانستان نے 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور 19 چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا
  • چین، ترکی، سعودی عرب اور اقوام متحدہ نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی

اسلام آباد/کابل — پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات کی شب شروع ہونے والی سرحدی کشیدگی نے جمعہ کو باقاعدہ عسکری تصادم کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں جانب سے فضائی حملوں، سرحدی چوکیوں پر گولہ باری، ڈرون کارروائیوں اور بھاری جانی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم متعدد اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

کشیدگی کا آغاز کیسے ہوا؟

پاکستانی حکام کے مطابق 26 فروری کی شب افغانستان کی جانب سے سرحد پار حملوں اور مبینہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد پاکستانی مسلح افواج نے جوابی آپریشن کیے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں “بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر” کے مطابق کی گئیں۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے دفاعی ردعمل میں پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

فضائی حملے اور ڈرون دعوے

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق جھڑپوں میں 12 پاکستانی فوجی ہلاک اور 27 زخمی ہوئے، جبکہ پاکستان نے 274 افغان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟

افغان وزارتِ دفاع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حملوں میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچا، اور سرکاری میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ بی بی سی سمیت آزاد ذرائع ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکے۔

Read in English on The Azadi Times

افغان طالبان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فضائی کارروائیاں کی گئیں، تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ تین شہروں میں چھوٹے ڈرون حملوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا اور کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔

سیاسی اور سفارتی ردعمل

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کر کے عسکری قیادت سے بریفنگ لی اور “زیرو ٹالرنس” پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور وہ اب بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ چین نے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے، جبکہ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے رمضان کے دوران اس تصادم کو “تکلیف دہ” قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے رابطے کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

تاریخی پس منظر اور بنیادی تنازع

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے تنازع کا محور رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین استعمال کر کے حملے کرتی ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نے متنازعہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کشیدگی صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے علاقائی سیاست، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں، اور باہمی اعتماد کا فقدان بھی کارفرما ہے۔

زمینی صورتحال

بی بی سی کے مقامی نمائندوں کے مطابق خوست، پکتیا، پکتیکا، ننگرہار اور کنڑ کے بعض سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپوں کے بعد جمعہ کو نسبتی سکون دیکھا گیا، تاہم وقفے وقفے سے فائرنگ کے واقعات جاری رہے۔ پشاور اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس تنصیبات کی حفاظت سخت کر دی گئی ہے۔

غیر تصدیق شدہ دعوے اور اطلاعاتی جنگ

دونوں جانب سے ہلاکتوں، فوجی تنصیبات کی تباہی اور قیدیوں کی گرفتاری کے بڑے بڑے دعوے سامنے آئے ہیں، مگر آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے ان کی مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ ماہرین اسے روایتی عسکری تصادم کے ساتھ ساتھ “اطلاعاتی جنگ” بھی قرار دے رہے ہیں۔

آگے کیا؟

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو مزید سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے، تاہم بیک ڈور سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ علاقائی مبصرین کے مطابق اگر فوری سفارتی مداخلت نہ ہوئی تو یہ کشیدگی وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔

خطے کی سلامتی، سرحدی آبادیوں کے تحفظ اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے عالمی برادری اور مسلم ممالک کی جانب سے مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔ فی الحال صورتحال نہایت حساس ہے اور آئندہ چند دن اس تنازع کے رخ کا تعین کر سکتے ہیں۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
نیپال میں نوجوانوں کی بغاوت: سوشل میڈیا پر پابندی سے شروع ہونے والا احتجاج وزیراعظم کے استعفے تک جا پہنچا
ہمیں چین جانے دو” — چینی شہریوں کا احتجاج، گلگت کے تاجروں نے پاک چین بارڈر بند کر دیا
امریکا نے کشمیری حملے پر پاکستانی گروہ کے ذیلی دھڑے کو ‘دہشت گرد’ قرار دے دیا
“غمِ حسین مانتا ہوں” — بھارتی ہندو جج کا لائیو انٹرویو میں امام حسین کو خراجِ عقیدت، واقعۂ کربلا یاد کر کے روپڑے
سعودی عرب کی ایران کے میزائل حملے کی شدید مذمت: “ناقابلِ جواز اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی”
TAGGED:افغانستانپاکستان
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article خواب کی تعبیر کیسے معلوم کریں؟ خواب کی تعبیر کیسے معلوم کریں؟
Next Article پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کی تیاریاں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کو مظاہرے کا اعلان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کی تیاریاں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کو مظاہرے کا اعلان

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
آزاد کشمیر
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان

اسی بارے میں

ایران کا قطر میں امریکی ایئر بیس “العدید” پر میزائل حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

ایران کا قطر میں امریکی ایئر بیس “العدید” پر میزائل حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

By Azadi Times
8 months ago
ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟

ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟

By Azadi Times
8 months ago
آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات: جوہری جنگ سے امن کی طرف ایک قدم

آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات: جوہری جنگ سے امن کی طرف ایک قدم

By Azadi Times
9 months ago
ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی ریفائنری کی تنصیبات بند متعدد ہلاک

ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی ریفائنری کی تنصیبات بند متعدد ہلاک

By Azadi Times
9 months ago
ایرانی میزائل پر ذوالفقار کا نشان: کیا یہ خیبر کے باسیوں کے لیے پیغام ہے؟

ایرانی میزائل پر ذوالفقار کا نشان: کیا یہ خیبر کے باسیوں کے لیے پیغام ہے؟

By Azadi Times
9 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?