چائے اور شاعری کا رشتہ صدیوں پرانا ہے Chaye Per Shayari ۔ یہ مشروب نہ صرف تھکے ہوئے بدن کو توانائی بخشتا ہے بلکہ شعراء کے لیے تخلیقی سوچ کا دریا بھی بہا دیتا ہے۔ مشرق سے مغرب تک، چائے کی خوشبو نے لاکھوں اشعار کو جنم دیا ہے۔
چائے کی پہلی چسکی اور شاعری کا آغاز
میر تقی میر سے لے کر فیض احمد فیض تک، ہر شاعر نے چائے کے کٹورے کو اپنی محبت، انتظار اور تنہائی کا اظہاریہ بنایا۔ مشہور شاعر احمد فراز نے کہا تھا:
“چائے کی پیالی میں سمٹا ہوا اک شہر تھا
ہر قطرہ خوشبو تھا، ہر بوند حرف تھا”
جدید دور میں چائے کی رومانوی شاعری
آج کے نوجوان شعراء بھی چائے کو اپنی شاعری کا مرکز بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر #چائے_شاعری کے تحت ہزاروں اشعار موجود ہیں۔ کچھ منفرد تخلیقات ملاحظہ کریں:
- “رات کی تنہائی میں چائے نے پوچھا مجھ سے
تمہارے دل میں کون رہتا ہے؟ میں نے کہا— تم!” - “چائے کی خوشبو میں گم ہو جاؤں
یادوں کے دھویں میں ڈوب جاؤں” - “وہ چائے پیتا ہے تو لگتا ہے
جیسے محبت کا کوئی سمندر ہونٹوں تک آ گیا ہو”
چائے پر مشہور شعراء کے اقوال
- جون ایلیا: “چائے اکثر ٹھنڈی ہو جاتی ہے، مگر اس کی یادیں ہمیشہ گرم رہتی ہیں۔”
- پروین شاکر: “چائے کی طرح ہر رشتہ بھی کڑوا ہوتا ہے، بس میٹھا کرنے والے ہاتھ چاہیے۔”
چائے خانے: شاعروں کی پناہ گاہ
لاہور کے مشہور “پائے والا چائے خانہ” یا کراچی کے “بحرالعلوم ٹی سینٹر” جیسی جگہیں ہمیشہ سے ادبی محفلوں کا مرکز رہی ہیں۔ یہاں نوجوان شعراء اپنے نئے کلام سناتے ہیں اور چائے کی گرمی الفاظ کی حرارت بن جاتی ہے۔
اختتام: چائے کا سحر قائم رہے
چاہے وہ دوپہر کی دھوپ ہو یا رات کی ویرانی، چائے ہمیشہ شاعری کا ساتھی رہی ہے۔ جب تک یہ مشروب ہمارے دل و دماغ کو گرماتی رہے گی، تخلیق کے موسم بھی ختم نہیں ہوں گے۔
“چائے کے ساتھ اک شعر پی لو
زندگی بھر کی تھکن مٹ جائے گی!”
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

