پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آج ضلع جہلم ویلی کے مختلف بازاروں کا دورہ کیا، جہاں وہ عوامی مقام پر ایک تیس بور پسٹل کے ساتھ نظر آئے۔ اُن کے اس اقدام کی ویڈیو، جسے انہوں نے خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، نے نہ صرف شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا بلکہ کشمیر میں قیادت، آزادی، اور بیرونی اثرات پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
واقعہ کیا تھا؟
راجہ فاروق حیدر خان نے پاکستانی وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، امیر مقام کے ساتھ مل کر جہلم ویلی کے مختلف بازاروں کا دورہ کیا۔ اس دوران اُن کے پہلو میں واضح طور پر ایک پسٹل دکھائی دے رہا تھا۔ بظاہر یہ دورہ پاکستانی فوج سے اظہارِ یکجہتی اور حالیہ کشیدگی کے دوران حوصلہ افزائی کے لیے کیا گیا، مگر اسلحے کے ساتھ عوام میں آنا نہ صرف نامناسب سمجھا گیا بلکہ ایک خطرناک پیغام بھی تصور کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کشمیری عوام نے سخت تنقید کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا:
“کشمیر کب آزاد ہوگا؟ ایک طرف کے رہنما بھارت کے سیاستدانوں کے تحت کام کرتے ہیں، دوسری طرف پاکستان کی گود میں بیٹھے ہیں۔ کشمیری قیادت کہاں ہے؟ ہمیں نہ مودی چاہیے نہ شہباز، ہمیں امن اور اپنا حق چاہیے۔”
ایک اور صارف نے نشاندہی کی:
“راجہ صاحب نے ویڈیو بنائی، پسٹل دکھایا اور واپس گھر چلے گئے۔ کیا یہی لیڈرشپ ہے؟ کشمیر کے نوجوان خون دے رہے ہیں اور ہمارے لیڈر سوشل میڈیا پر شو بازی کر رہے ہیں۔”
بھارت اور پاکستان میں بڑھتی کشیدگی: کشمیر ایک جنگی میدان؟
پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں شدت آ چکی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ایک بار پھر کشمیر پر پڑ رہا ہے۔ دونوں ممالک کی زبانی جنگ اور فوجی سرگرمیوں کے بیچ کشمیری عوام پھر ایک بار خونریزی اور خوف کے ماحول میں گھر گئے ہیں۔
قوم پرست کشمیری رہنماؤں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے:
“بھارت اور پاکستان اپنی جنگیں اپنی سرحدوں پر لڑیں، ہمیں اس کا ایندھن نہ بنائیں۔ ہم کشمیری امن چاہتے ہیں، انصاف چاہتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر اپنی خودمختاری چاہتے ہیں۔”
کشمیری شناخت اور قیادت کا بحران
راجہ فاروق حیدر کا یہ عمل کشمیری عوام میں پہلے سے موجود مایوسی کو مزید بڑھا گیا ہے۔ کئی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا موجودہ قیادت، چاہے وہ بھارت کے ساتھ ہو یا پاکستان کے، واقعی کشمیری عوام کی نمائندہ ہے یا وہ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے محافظ ہیں؟
ایک نوجوان کشمیری طالب علم نے لکھا:
“ہم کسی کے ساتھ نہیں — نہ انڈیا کے، نہ پاکستان کے۔ ہم صرف کشمیری ہیں اور ہمیں اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق ہونا چاہیے۔”
حقِ خودارادیت اور امن کی پکار
یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ کشمیری عوام اب اسلحے، جنگی زبان اور مصنوعی بیانات سے تھک چکے ہیں۔ وہ امن، تعلیم، ترقی اور آزادی چاہتے ہیں۔ وہ کسی سیاسی یا مذہبی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کی اصل جنگ اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے حق کے لیے ہے۔
کشمیری عوام کی اکثریت اب کھلے عام کہہ رہی ہے کہ:
“ہمیں بندوق نہیں چاہیے، نہ بھارتی، نہ پاکستانی۔ ہمیں قلم چاہیے، تعلیم چاہیے، اور دنیا میں اپنے لیے ایک مقام چاہیے۔”
کیا نئی قیادت کا وقت آ گیا ہے؟
راجہ فاروق حیدر کا پسٹل کے ساتھ بازاروں کا دورہ ایک علامتی عمل تھا، مگر اس نے کشمیر کے نوجوانوں اور سیاسی شعور رکھنے والے عوام میں ایک سنجیدہ سوال پیدا کر دیا ہے:
کیا ہماری قیادت واقعی ہماری نمائندہ ہے یا صرف اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہے؟
کشمیر ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ جنگ نہیں، امن کی قیادت کی ضرورت ہے۔ ایسی قیادت جو نہ دہلی سے چلے، نہ اسلام آباد سے، بلکہ سرینگر، مظفرآباد، سوپور، راولاکوٹ، اور پلوامہ کے دلوں سے ابھرے۔ کشمیری عوام اب مزید استحصال نہیں چاہتے۔ وہ عالمی برادری سے بھی اپیل کر رہے ہیں کہ ان کی سنیں، اور ان کے حق خودارادیت کی حمایت کریں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

