کوٹلی، آزاد کشمیر:
کوٹلی کے ناڑ سکول میں چھٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے ایک معصوم بچی زرش کاشف کو گیارہ ہزار کے وی کی مین لائن کی تاروں سے کرنٹ لگا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔ ڈاکٹرز نے بچی کا ایک ہاتھ اور ایک بازو کاٹ دیا ہے، اور اب وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی تحفظ اور سیکیورٹی کی صورتحال کس قدر خطرناک ہو چکی ہے، اور یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ زرش کاشف جیسے معصوم بچوں کا ذمہ دار کون ہے؟
زرش کاشف کی یہ المناک کہانی ہمیں ایک بار پھر یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا اس ظلم کا کوئی حساب کتاب ہوگا؟ کیا وہ لوگ جو اس سانحے کے ذمہ دار ہیں، قانون کے کٹہرے میں آئیں گے یا پھر یہ ایک اور واقعہ بن جائے گا جسے نظرانداز کر دیا جائے گا؟
زرش کاشف کا درد صرف اس کے جسم تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ سوال پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا؟ کیا ہمارے بچوں کے لیے بھی یہی ظالمانہ نظام باقی رہے گا؟
“کیا ہماری آنے والی نسلیں اسی ظالمانہ نظام کا شکار رہیں گی؟ آج زرش ہے، کل یہ کسی کی بیٹی یا بہن بھی ہو سکتی ہے۔” یہ سوال آج پوری قوم کے سامنے ہے۔ ہم سب کو سوچنا ہوگا کہ زرش کاشف کی معذوری کے معاملے میں انصاف کب ملے گا؟
زرش کے لیے انصاف کی آواز اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔ عوامی سطح پر اس معاملے کو اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ قانون کا درست اطلاق ہو اور ذمہ داروں کو سزا ملے۔ ہم سب کو اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی تاکہ زرش کاشف اور اس جیسے دوسرے متاثرین کو انصاف مل سکے۔
اس واقعہ کی سنگینی کے پیش نظر ناڑ۔کوٹلی میرپور روڈ چھ گھنٹے سے مکمل بند ہے، جس کا مقصد حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ فوری طور پر انصاف فراہم کیا جا سکے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

