آزاد کشمیر میں غازی شہزاد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ آزاد کشمیر پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، غازی شہزاد کے پیچھے پولیس کی کارروائی جاری تھی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے گولیوں کی تیز آوازیں سنائی دیں۔
غازی شہزاد، جو کارگل کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں، نے بعد میں کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ فوج کی غداریوں اور کشمیری عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کے باعث انہوں نے ہندوستانی جیل میں 8 سال گزارے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری مجاہدین اور عوام کے ساتھ مسلسل غداریوں کے بعد، انہوں نے آزاد کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کو شرعی بنیادوں پر لڑنے کے لیے آواز بلند کی۔
ذرائع کے مطابق، آزاد کشمیر پولیس میں کچھ ایسے اہلکار بھی شامل تھے جو پاکستانی اداروں سے وابستہ ہیں، جس کی وجہ سے اس تنازعہ میں پیچیدگی مزید بڑھ گئی۔
غازی شہزاد کی جدوجہد کشمیر کی آزادی کے لیے ایک علامت بن چکی ہے، اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی حکام کے ظلم و جبر کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ اس وقت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہے، اور پولیس اور عوام کے درمیان تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ہماری ویب سائٹ پر نظر رکھیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

