مظفرآباد – پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر میں عوامی حقوق تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنی جدوجہد کے دو سال مکمل ہونے پر مظفرآباد میں ایک بھرپور اجتماع کا انعقاد کیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں شہدائے عوامی حقوق تحریک کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی وعدہ خلافیوں پر سخت شکوہ کیا گیا اور ردعمل کے طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ میں توسیع کا اعلان کیا گیا۔
اجتماع میں ریاست بھر سے عوامی ایکشن کمیٹیوں، سیاسی کارکنوں اور تاجران کے قافلے شریک ہوئے۔ آٹھ گھنٹوں پر محیط اس جلسے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 31 رکنی مرکزی رہنماؤں سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات نے خطاب کیا۔
فیصلہ کن احتجاج کی توقعات اور قیادت کا مؤقف
شرکاء کی بڑی امید تھی کہ قیادت حتمی احتجاج یا لانگ مارچ کی کال دے گی، مگر قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ کیا گیا معاہدہ 8 دسمبر کو مکمل ہوگا، جس کے بعد اجلاس منعقد کر کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ بعض رہنماؤں نے ایک بار پھر اسمبلی کا گھیراؤ اور “قبضے” کا اشارہ بھی دیا۔
اعلامیہ کے نکات اور سیاسی مؤقف
جاری کردہ اعلامیہ میں شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا ضروری ہے۔ بصورت دیگر پرامن طور پر سیزفائر لائن توڑنے کا حق محفوظ رکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ سے حق خودارادیت کا مطالبہ دہراتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کریں تاکہ خطہ ایٹمی جنگ سے بچایا جا سکے۔
اعلامیہ میں گلگت بلتستان کی عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کی مذمت اور رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ حکومت کو خبردار کیا گیا کہ 8 جون سے قبل تمام معاہدوں پر عملدرآمد کیا جائے، بصورت دیگر میرپور ڈویژن میں اجلاس بلا کر آئندہ اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔
نیا 16 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ
تحریک نے حکومت کی وعدہ خلافیوں کے پیش نظر موجودہ 10 نکاتی چارٹر کے ساتھ ایک نیا 16 نکاتی چارٹر جاری کیا۔ اس میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں:
-
مفت اور یکساں تعلیم و علاج کی فراہمی
-
بین الاقوامی ایئرپورٹ کا قیام
-
صاف پانی کی دستیابی
-
کرپشن، رشوت اور سفارشی کلچر کا خاتمہ
-
مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر اسمبلی میں مخصوص نشستوں اور کوٹے کا خاتمہ
تنقید، اندرونی اختلافات اور اسٹیج پر رسائی کے مسائل
اجتماع کے انعقاد پر جہاں عوام نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، وہیں تحریک کی قیادت کو اندرونی اختلافات اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کئی سرگرم رہنماؤں کو اسٹیج پر مدعو نہ کرنے پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ بعض تاجران اور سیاسی کارکنان نے بھی قیادت کے رویے پر شکوہ کیا۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں میں اسٹیج پر شرکت کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئیں۔
دو سالہ سفر اور موجودہ صورتحال
یہ تحریک ابتدا میں بجلی، آٹے کی سبسڈی اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کے مطالبات پر شروع ہوئی تھی۔ مئی 2023 کے لانگ مارچ کے بعد کچھ مطالبات جزوی طور پر تسلیم کیے گئے، مگر ریاستی سطح پر کوئی پائیدار قدم نہ اٹھایا جا سکا۔
ریاستی گرڈ اسٹیشن کا قیام تاحال التوا کا شکار ہے، جب کہ بجلی کی سستی فراہمی کے لیے پاکستانی اداروں کو دی جانے والی سبسڈی بالواسطہ عوامی ٹیکسوں سے منہا کی جا رہی ہے۔ آٹے کی سبسڈی بھی حکومتی بجٹ سے ہی ایڈجسٹ کی گئی، جس سے دیگر فلاحی منصوبوں میں کٹوتی ہوئی۔
ریاستی اداروں کے کردار اور تحریک کی محدودیت
تحریک کو آہستہ آہستہ مقامی حکومت تک محدود کر دیا گیا ہے۔ “ایس او پیز” کے نام پر جاری ضابطہ اخلاق میں وفاقی اداروں پر تنقید کی ممانعت اور مظفرآباد کی مقامی قیادت کو واحد “غاصب” قرار دینا تحریک کی معنویت پر سوالیہ نشان ہے۔
حق حکمرانی اور حق ملکیت کی اصل جڑیں معاہدہ کراچی اور 1974 کے عبوری آئینی ایکٹ میں پوشیدہ ہیں، جس کے تحت مقامی حکومت کو صرف محدود اختیارات حاصل ہیں اور تمام کلیدی فیصلے حکومت پاکستان کے ماتحت ادارے کرتے ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

