راولا کوٹ (پاکستان زیرانتظام کشمیر) — جموں کشمیر اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ (JKSLF) جامعہ پونچھ کے جنرل سیکریٹری اور طلبہ ایکشن کمیٹی کے متحرک کارکن محمد جاوید چوہان کو گزشتہ رات یونیورسٹی ہوسٹل سے مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔
ذرائع کے مطابق انہیں بغیر کسی عدالتی وارنٹ یا قانونی طریقہ کار کے زبردستی تحویل میں لیا گیا۔
ابتدائی طور پر طالبعلم تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جاوید چوہان کو راولا کوٹ بلدیہ چوکی میں رکھا گیا ہے، مگر جب ساتھیوں نے چوکی کا رخ کیا تو بتایا گیا کہ موصوف کو شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ راولا کوٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال پہنچنے پر نہ تو مریض کی موجودگی کی تصدیق کی گئی، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ انہیں اسپتال لانے والا کون تھا اور کیوں لایا گیا۔
قابل اعتماد ذرائع کے مطابق جاوید چوہان پر شدید تشدد کیا گیا، کرنٹ کے جھٹکے دیے گئے، اور انہیں نیم بے ہوشی کی حالت میں “15 دفتر” کے قریب پھینک دیا گیا، جہاں سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایک قریبی ساتھی نے بتایا:
“یہ ایف اے ٹی اے یا بلوچستان نہیں ہے، یہ راولا کوٹ ہے۔ یہاں اس قسم کا سلوک ناقابل برداشت ہے۔ یہ نوجوان قیادت کو دبانے اور سیاسی بیداری کو کچلنے کی گھٹیا کوشش ہے۔”
قابل افسوس بات یہ ہے کہ آج جاوید چوہان کا ایک اہم یونیورسٹی کا پرچہ بھی تھا۔
طلبہ تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس ظالمانہ اور غیر انسانی اقدام کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ یو کے پی این پی (UKPNP) سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے اس واقعے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا ہے۔
یو کے پی این پی نے اپنے بیان میں کہا:
“ایک سیاسی طالب علم رہنما کو بغیر وارنٹ کے اغوا کرنا، بجلی کے جھٹکے دینا، اور زخمی حالت میں چھوڑ دینا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی وقار کی تذلیل ہے۔ ہم عالمی سطح پر اس واقعے پر آواز اٹھائیں گے۔”
طلبہ تنظیموں نے حکومت سے درج ذیل مطالبات کیے ہیں:
- جاوید چوہان کے اغوا اور تشدد کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں
- اسپتال میں ان کے مکمل طبی علاج کو یقینی بنایا جائے
- اس غیر قانونی اقدام میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے
- طلبہ و نوجوان سیاسی کارکنوں کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے
سیاسی مبصرین کے مطابق اس واقعے نے ریاست میں اظہار رائے کی آزادی اور طلبہ سیاست پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اگر ریاستی ادارے ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتے رہے، تو خطے میں بغاوت کی فضا مزید گہری ہو سکتی ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

