راولا کوٹ (نمائندہ خصوصی) — راولا کوٹ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حارث قدیر نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں غیر جانبدار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے زرنوش جبران، اس کے بھائی اور ایک تیسرے شخص کو پہلے ہی حراست میں لے لیا تھا۔ اسی دوران چوتھے شخص نے اچانک ہینڈ گرنیڈ کا دھماکہ کر دیا، جس کے نتیجے میں چاروں زیر حراست افراد اور دو پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق، جاں بحق افراد میں زرنوش جبران (باغ)، الفت (منڈی بہاؤالدین) اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے جس کی تاحال شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔
ایس ایس پی ریاض مغل کے مطابق، چوتھے حملہ آور کا تعلق ممکنہ طور پر پختون برادری سے ہو سکتا ہے، تاہم حتمی شناخت کے لیے فارنزک تصدیق کا انتظار ہے۔ نادرا دفتر میں فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت کی کوشش ناکام ہو گئی ہے، اور اب ڈی این اے سیمپلز لاہور فارنزک لیب کو بھیج دیے گئے ہیں۔
اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے مزید تفتیش کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

