باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > عالمی خبریں > ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟
عالمی خبریں

ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟

مریکی حملوں پر عالمی ردعمل: ایران کے ایٹمی مرکزوں پر امریکی حملوں کے بعد دنیا کی آواز

Azadi Times
Last updated: June 22, 2025 4:55 pm
Azadi Times
8 months ago
Share
ایران پر امریکی حملے کا ردِعمل: دنیا بھر سے ممالک نے کیا کہا؟
روس نے امریکی حملوں کو سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی امن و امان کے لیے خطرہ ہیں۔ چین نے بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔
SHARE

22 جون 2025 کو امریکی افواج کی جانب سے ایران کے تین ایٹمی مرکزوں (فورڈو، اصفہان اور ناتنز) پر بمباری کرنے کے بعد دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ امریکہ کے یہ حملے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور خطے میں کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا۔ یہ مضمون “دی آزادؔی ٹائمز اردو” کے قارئین کے لیے ایک جامع اور تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح مختلف ممالک، اداروں اور عالمی لیڈران نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیا۔

ایرانی موقف: بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خود اعتمادی

ایران نے امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور نیوکلیئر نان-پرولیفریشن معاہدے کی سوشل خلاف ورزی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس آراءچی نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ:

“امریکہ، جو اقوام متحدہ کے مستقل اراکین میں سے ایک ہے، نے ایران کی پرامن ایٹمی تنظیمات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی پامالی کی ہے۔”

ایران نے اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ مستقبل میں ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔

اسرائیلی ردعمل: امریکہ کی بھائی چارگی کو سراہا گیا

Read in English on The Azadi Times

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا:

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ Iran Missile Program

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

“مبارک ہو صدر ٹرمپ۔ آپ کے جس حوصلہ مند فیصلے نے ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کو ختم کر دیا، وہ تاریخ رقم کرے گا۔”

اسرائیلی موقف میں امریکی حملوں کو ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا گیا، جس سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ نتن یاہو کے اس بیان نے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل کی اور ان کے حمایتیوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کا انتباہ: امن و امان کے لیے فوری مذاکرات کی ضرورت

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیریس نے عالمی سطح پر اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا:

“امریکہ کا یہ حملہ خطے میں امن و امان کے لیے ایک برا خطرہ ہے اور بین الاقوامی قانون کی صاف خلاف ورزی ہے۔ ہمیں فوری مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنا چاہیے۔”

ان کی اس رائے نے دنیا بھر میں یہ واضح کر دیا کہ فوجی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کو بہا رہی ہیں بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر تمام متعلقہ فریقین سے مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔

عالمی سطح پر ردعمل: مختلف ممالک کی آوازیں

امریکہ میں نظریاتی تقسیم

امریکی قیادت اور عوام کے درمیان اس فوجی کارروائی کو لے کر شدید تقسیم دیکھی گئی ہے۔ کچھ امریکی سیاستدانوں نے ٹرمپ کے اس اقدام کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ دیگر نے اسے غیر قانونی اور مہلک قرار دیا۔ امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے اور کچھ نمایاں امریکی رہنماؤں نے امریکہ کی بیرونی پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  راکٹ اور میزائل میں کیا فرق ہے؟

سعودی عرب اور دیگر مشرق وسطی کے ممالک

سعودی عرب نے اپنے خارجہ وزارت کے بیان میں کہا کہ انہیں اس حملے پر “گہری تشویش” ہے اور انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مذاکرات اور کشیدگی میں کمی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قطر، عمان اور عراق جیسے ممالک نے بھی امریکی اقدامات کی مذمت کی اور امن و امان کے لیے سفارتی ذرائع کی اپیل کی ہے۔

یورپ اور روایتی عالمی طاقتیں

یورپی یونین کے صدر اور دیگر عالمی طاقتوں نے اس حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خطے میں تیزی سے کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے خارجہ وزراء نے مذاکرات کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے بجائے سفارت کاری ہی آ پکو دیرپا حل فراہم کر سکتی ہے۔

روس، چین اور دیگر عالمی طاقتیں

روس نے امریکی حملوں کو سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی امن و امان کے لیے خطرہ ہیں۔ چین نے بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ ان ممالک نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

عالمی سطح پر اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ

موجودہ صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو لے کر بین الاقوامی سطح پر شدید تنازعہ پیدا ہو رہا ہے۔ جبکہ امریکی اقدامات کے کچھ حمایتی ہیں، لیکن عالمی برادری میں اس کارروائی کو غیر قانونی اور خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، کسی بھی ملک کو بغیر عالمی برادری کی منظوری کے فوجی حملے کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس تناظر میں، مذاکرات اور سفارتی طریقوں کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ مزید کشیدگی اور ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نے متنازعہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا

 امن اور مذاکرات کی ضرورت

اس وقت جب کہ دنیا بھر میں جنگی اور فوجی کارروائیوں نے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، عالمی برادری کا یہ ظرف ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کو اپنائے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کرے۔ چاہے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہو یا اسرائیل اور ایران کے درمیان، ایک مستقل اور دیرپا امن کی راہ تب ہی ممکن ہے جب تمام فریقین بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا احترام کریں۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
نیپال میں نوجوانوں کی بغاوت: سوشل میڈیا پر پابندی سے شروع ہونے والا احتجاج وزیراعظم کے استعفے تک جا پہنچا
امریکا نے کشمیری حملے پر پاکستانی گروہ کے ذیلی دھڑے کو ‘دہشت گرد’ قرار دے دیا
“غمِ حسین مانتا ہوں” — بھارتی ہندو جج کا لائیو انٹرویو میں امام حسین کو خراجِ عقیدت، واقعۂ کربلا یاد کر کے روپڑے
سعودی عرب کی ایران کے میزائل حملے کی شدید مذمت: “ناقابلِ جواز اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی”
ایران کا قطر میں امریکی ایئر بیس “العدید” پر میزائل حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
TAGGED:Iran Israel Urdu NewsUSA Attack on iranایرانایران اور اسرائیل
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article 2025 میں طلبہ کے لیے آن لائن کمائی: حقیقی اور آزمودہ طریقے How to Make Money Online for Students 2025 میں طلبہ کے لیے آن لائن کمائی: حقیقی اور آزمودہ طریقے How to Make Money Online for Students
Next Article شملہ معاہدہ: کشمیر پر امن یا خاموش غلامی؟ 50 سالہ معاہدے کا تجزیہ، اختتام اور نئی حقیقتیں شملہ معاہدہ: کشمیر پر امن یا خاموش غلامی؟ 50 سالہ معاہدے کا تجزیہ، اختتام اور نئی حقیقتیں

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
آزاد کشمیر
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان

اسی بارے میں

آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات: جوہری جنگ سے امن کی طرف ایک قدم

آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات: جوہری جنگ سے امن کی طرف ایک قدم

By Azadi Times
8 months ago
ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی ریفائنری کی تنصیبات بند متعدد ہلاک

ایران کے حملے کے بعد اسرائیل کی ریفائنری کی تنصیبات بند متعدد ہلاک

By Azadi Times
8 months ago
ایرانی میزائل پر ذوالفقار کا نشان: کیا یہ خیبر کے باسیوں کے لیے پیغام ہے؟

ایرانی میزائل پر ذوالفقار کا نشان: کیا یہ خیبر کے باسیوں کے لیے پیغام ہے؟

By Azadi Times
8 months ago
راکٹ اور میزائل میں کیا فرق ہے؟

راکٹ اور میزائل میں کیا فرق ہے؟

By Azadi Times
8 months ago
ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ Iran Missile Program

ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ Iran Missile Program

By Azadi Times
8 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?