رتی گلی جھیل، پاکستان زیر انتظام کشمیر — جولائی 2025
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک نوجوان خاتون سیاح جنکا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب سے بتایا جا رہا رہا ہے رتی گلی جھیل کے قریب بے باک لباس میں رقص کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ ویڈیو فیس بک، ٹک ٹاک اور ٹویٹر پر لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی اور اس نے علاقے میں تہذیب، آزادی اور سیاحت سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد رائے عامہ دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔
بعض صارفین نے اس عمل کو مقامی اقدار کی توہین قرار دیا:
“یہ کشمیری ثقافت کو بگاڑنے کی کوشش ہے۔” — [فیس بک صارف]
جبکہ دیگر افراد نے اسے سیاحت کے فروغ اور ذاتی آزادی کی علامت قرار دیا:
“وہ صرف رقص کر رہی ہے، ہمیں اس کو کشادگی سے لینا چاہیے۔” — [ٹک ٹاک تبصرہ]
مقامی آوازیں کیا کہتی ہیں؟
عائشہ میر، راولا کوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک 25 سالہ ٹور گائیڈ، نے “دی آزادی ٹائمز” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“رتی گلی اب ایک نیا سیاحتی مقام بنتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی یہاں آکر خوشی کا اظہار کرتا ہے تو یہ خوش آئند ہے، مگر ہمیں مقامی حساسیت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔”
مقامی کمیونٹی رہنما عمران شاہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“یہ وہ سیاحت نہیں ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ لباس اور انداز ہماری روایات سے میل نہیں کھاتے۔ ہمیں اپنی حدود کا خیال رکھنا ہوگا۔”
ثقافت بمقابلہ سیاحت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بیشتر علاقے سماجی طور پر قدامت پسند سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ڈانس ویڈیوز اور پبلک پرفارمنسز تنازعات کا باعث بن چکی ہیں۔
سیاحتی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
سیاحت کے ماہر زبیر علی نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا:
“رتی گلی جیسے مقامات دنیا بھر سے سیاحوں کو متوجہ کر رہے ہیں۔ مگر اگر ہم انفلوئنسرز کو بغیر کسی رہنمائی کے ایسے مقامات پر جانے دیں گے تو تنازعات پیدا ہوں گے۔ ضابطہ اخلاق ضروری ہے۔”
آگے کیا ہوگا؟
- مقامی انتظامیہ اس ویڈیو کا جائزہ لے رہی ہے اور ممکنہ طور پر ایسے عوامی رویوں پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔
- سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ علاقائی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے ویڈیوز کو فلٹر کریں۔
- مقامی سطح پر مذاکرے شروع ہو چکے ہیں — کچھ لوگ سخت ضوابط کے حامی ہیں، تو کچھ اسے سیاحتی ترقی کی راہ سمجھتے ہیں۔
رتی گلی جھیل کی یہ ویڈیو صرف ایک لمحاتی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آزادی، روایت، اور سیاحت کے درمیان توازن کی ایک نئی بحث کا آغاز ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

