آزاد کشمیر کے پہاڑوں میں، جہاں اکثر تعلیمی سہولیات وقت اور حکومتوں کی نظراندازی کا شکار رہیں، وہاں آج سینکڑوں بچے نئی عمارتوں میں اسکول جاتے ہیں—یہ سب ایک ایسے شخص کی بدولت ہوا جس نے خاموشی سے، مگر غیر معمولی فیصلہ کیا۔
چوہدری محمد اسلم، برطانیہ میں مقیم میرپور نژاد ایک ریٹائرڈ پراپرٹی ڈیلر، نے اپنی پانچ جائیدادیں بیچ کر آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں میں 35 اسکولوں کی تعمیر کے لیے سارا پیسہ وقف کر دیا۔
دورہِ وطن نے ضمیر جھنجھوڑ دیا
2023 میں آزاد کشمیر کے دورے کے دوران، چوہدری اسلم نے اپنی آنکھوں سے وہ صورتحال دیکھی جو ان کے بقول “ناقابلِ قبول” تھی۔ اسکولوں کی عمارتیں یا تو مکمل تباہ تھیں یا نہ ہونے کے برابر۔ بچے کھلے آسمان تلے یا پلاسٹک کی چادروں کے نیچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
“واپس برطانیہ گیا تو سکون سے نہ سو سکا، دل میں خیال آیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ بدلا جائے۔“ — چوہدری اسلم
نہ حکومتی پرچم، نہ سیاسی نعرہ، صرف تعلیم
اسلم نے اپنی جائیدادوں کی ساری آمدنی مسلم چیریٹی UK کو دی، جو ایک معتبر فلاحی ادارہ ہے۔ ان کے تعاون سے باغ، ہویلی، پَلندری، مظفرآباد اور راولا کوٹ جیسے علاقوں میں 35 پکے، زلزلہ مزاحم اسکول قائم کیے گئے۔
ہر اسکول میں باقاعدہ کلاس رومز، فرنیچر، بیت الخلا، اور بنیادی سہولیات موجود ہیں—وہ چیزیں جو کئی سرکاری منصوبوں کے باوجود آج تک وہاں نہ پہنچ سکیں۔
دی آزادی ٹائمز کے مطابق، 2 لاکھ سے زائد بچے ابھی بھی کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے ہیں
نیلم ویلی جیسے علاقوں میں، جہاں ایک حالیہ ویڈیو میں بچے پتھریلی زمین پر بیٹھے تعلیم حاصل کرتے نظر آتے ہیں، وہاں اسلم جیسے اقدامات امید کی نئی کرن ہیں۔
یہ ریاست کی ناکامی ہے یا فرد کی عظمت؟
2005 کے زلزلے کے بعد ہزاروں اسکولوں کی تعمیر کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن آج بھی ہزاروں بچے بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے میں، اسلم کی انفرادی قربانی نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ ادارہ جاتی ناکامی کی خاموش گواہی بھی دیتی ہے۔
کیا یہ ماڈل باقی کشمیری ڈائیسپورا کے لیے مثال بن سکتا ہے؟
UK میں لاکھوں کشمیری نژاد افراد رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اپنی جڑوں سے جڑے رہنا چاہتے ہیں، مگر اکثر مدد کا طریقہ یا راستہ واضح نہیں ہوتا۔ اسلم کی شفافیت، خود احتسابی، اور غیر سیاسی طریقہ کار ایک قابلِ تقلید ماڈل پیش کرتے ہیں۔
آخری بات
چوہدری اسلم نے کوئی مہم نہیں چلائی، کسی حکومت سے مدد نہیں مانگی، اور نہ ہی اپنا نام عمارتوں پر لکھوایا۔ اُن کا عمل سادہ مگر معنی خیز ہے: اگر ریاستیں ناکام ہوں، تو انسانیت کو اپنی راہ خود چننی ہوتی ہے۔
یہ کوئی فلاحی مہم نہیں، یہ ایک خواب کی تعمیر ہے—ایک ایسے کشمیر کا خواب جہاں ہر بچہ چھت کے نیچے، عزت اور سکون کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

