گلگت، 23 جولائی: خوشیوں سے بھرپور سفر چند لمحوں میں اندوہناک سانحے میں بدل گیا۔ لودھراں سے تعلق رکھنے والے 15 افراد پر مشتمل خاندان کی سیر و تفریح بابوسر کے دامن میں قیامت بن کر ٹوٹ پڑی۔
تھک ویلی کے قریب اچانک آنے والے سیلاب میں جان کی بازی ہارنے والی ڈاکٹر مشال فاطمہ اور ان کے دیور فہد اسلام کی میتیں آج ان کے آبائی علاقے لودھراں روانہ کر دی گئی ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اسی خاندان کا پانچ سالہ بچہ، حادی، تاحال لاپتہ ہے۔
دل کو چیر دینے والا منظر اس وقت پیش آیا جب سیلابی ریلا اچانک آیا۔ ڈاکٹر مشال اپنی گود میں موجود بیٹے کو بچانے کی کوشش میں تھیں، جب فہد اسلام ان کی مدد کو لپکے، مگر تیز بہاؤ نے دونوں کو بہا دیا۔ بعد ازاں دونوں کی لاشیں کئی کلومیٹر دور ملیں۔ حادی کا کوئی سراغ اب تک نہیں ملا۔
ڈاکٹر مشال کے شوہر، ڈاکٹر سعد اسلام، زخمی حالت میں بچ گئے، مگر آنکھوں کے سامنے بیوی، بھائی اور بیٹے کو بہتا دیکھنا شاید زندگی بھر کا ناسور بن جائے۔
یہ خاندان طویل عرصے بعد ایک ساتھ جمع ہوا تھا، بیرونِ ملک سے رشتہ دار بھی چھٹیوں پر آئے تھے۔ وہ لمحات جو قہقہوں سے بھرے ہونے تھے، اب اشکوں کی لڑی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حادثے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق اور 15 لاپتہ ہیں۔ آٹھ کلومیٹر کے دائرے میں تباہی نے بابوسر کے پرامن مناظر کو ملبے اور آہ و بکا میں بدل دیا ہے۔ چلاس سے بابوسر ٹاپ تک کئی مقامات پر شدید نقصان ہوا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، مگر وقت کے ساتھ امید کی شمعیں مدھم ہو رہی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی آنکھیں آج بھی معجزے کی منتظر ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

