مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر، 6 اگست 2025 — آزادی انویسٹیگیشن ڈیسک
پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر (AJK) میں سیاسی منظرنامہ اس وقت ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گیا ہے جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم کے دورہ جات سے لے کر اسمبلی مباحثوں تک، حکومتی شخصیات ان نشستوں کے دفاع اور ایکشن کمیٹی پر تنقید کرتے نظر آتی ہیں۔
لیکن اس تمام صورتحال کے بیچ سب سے بنیادی سوال یہی ہے:
یہ 12 نشستیں کہاں سے آئیں؟ اور کیا ان کا ذکر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کہیں موجود ہے؟
یہ سوال صرف آئینی پہلوؤں تک محدود نہیں بلکہ براہ راست کشمیر کی سیاسی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ حیران کن طور پر آزاد کشمیر کی 45 لاکھ آبادی میں سے تقریباً تین چوتھائی افراد کو یہ تک علم نہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں اصل میں کیا کہا گیا ہے۔ یہ تحقیق انہی نشستوں کے آئینی پس منظر، ان کے قانونی ڈھانچے اور ان کے گرد پیدا ہونے والے تنازعات کو اجاگر کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں (1947–1950)
کشمیر اقوام متحدہ میں دہائیوں سے زیر بحث ہے۔ تاہم، 1947 سے 1950 کے درمیان آنے والی ابتدائی قراردادیں سب سے زیادہ بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ آزاد کشمیر کے سیاستدان بار بار ان قراردادوں کا حوالہ دیتے ہیں، خصوصاً آج جب تقریباً ہر اسمبلی رکن ان مہاجر نشستوں کو ’’آزادی کی جدوجہد‘‘ سے جوڑ رہا ہے۔ لیکن کیا واقعی یہ قراردادیں ان نشستوں کا ذکر کرتی ہیں؟
-
قرارداد 38 (17 جنوری 1948): بھارت اور پاکستان کو کشیدگی کم کرنے اور تنازع کو مزید بگاڑنے والے اقدامات سے گریز کا کہا۔
-
قرارداد 39 (20 جنوری 1948): مسئلہ کشمیر پر تحقیق اور ثالثی کے لیے تین رکنی کمیشن UNCIP کے قیام کا فیصلہ۔
-
قرارداد 47 (21 اپریل 1948): پاکستان سے مطالبہ کہ قبائلی اور فوجی انخلا کرے، بھارت سے کہا گیا کہ وہ اپنی افواج کم کرے، ریاست کے عوام کی مرضی جاننے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر انتظام استصواب رائے کرایا جائے، اور ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے جس میں سب کو نمائندگی ملے۔
-
قرارداد S/1196/Rev.1 (13 اگست 1948): مکمل جنگ بندی، پاکستانی فوجوں کا انخلاء، بھارتی فوجوں کی تعداد میں کمی، اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی استصواب رائے کی سفارش۔
-
قرارداد S/1430/Rev.2 (5 جنوری 1949): بھارت اور پاکستان دونوں نے یہ مانا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ’’عوام کی مرضی‘‘ سے ہوگا۔
-
قرارداد 80 / S/1469 (14 مارچ 1950): پچھلی قراردادوں کی توثیق کی گئی، اوون ڈکسن کو ثالث مقرر کیا گیا اور ایک بار پھر ریفرنڈم پر زور دیا گیا۔
ان تمام قراردادوں میں کہیں بھی مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان کا حوالہ صرف بطور ’’عوام‘‘ دیا گیا ہے جن کی رائے استصواب کے ذریعے معلوم کی جانی تھی۔
آئینی پس منظر: عبوری قوانین سے 1974 تک
1947 کے بعد آزاد جموں و کشمیر میں دو دہائیوں تک کوئی باقاعدہ آئین موجود نہیں تھا۔ حکمرانی ایگزیکٹو کونسل اور عارضی انتظامات کے ذریعے چلتی رہی۔ یہ صورتحال خود کشمیر کی غیر متعین حیثیت کی عکاس تھی۔
-
1970 میں آزاد کشمیر عبوری آئین ایکٹ (AJK Interim Constitution Act) متعارف ہوا، جس نے حکومت کو کچھ ڈھانچہ فراہم کیا۔
-
1974 میں عبوری آئین باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا، جس میں پہلی بار مہاجرین کے لیے 12 مخصوص نشستیں شامل کی گئیں۔
یہ نشستیں یوں تقسیم ہوئیں:
-
6 نشستیں جموں کے مہاجرین کے لیے (جو زیادہ تر پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں آباد تھے)۔
-
6 نشستیں وادی کشمیر کے مہاجرین کے لیے (جو زیادہ تر خیبر پختونخوا اور قریبی علاقوں میں رہائش پذیر تھے)۔
ظاہر میں یہ بے گھر ہونے والوں کو سیاسی آواز دینے کا ایک شمولیتی اقدام لگتا تھا۔ لیکن حقیقت میں یہ نشستیں بہت جلد آزاد کشمیر کی سیاست میں طاقت کے پلڑے کو جھکانے والی سب سے بڑی اکائی بن گئیں۔
جو چیز ابتدا میں مہاجرین کی نمائندگی کے طور پر متعارف ہوئی تھی، وہ آگے چل کر حکومتوں کے قیام اور خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگی۔
مہاجر نشستوں سے پہلے
1947 سے 1970 تک آزاد جموں و کشمیر کا نظم ریاستی کونسل کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔ یہ کونسل صرف انہی نمائندوں پر مشتمل تھی جو آزاد کشمیر کے کنٹرول شدہ علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت مہاجرین کے لیے کوئی مخصوص نمائندگی نہیں تھی۔
یہ صورتحال 1970 کی اصلاحات اور 1974 کے آئین کے بعد بدلی۔ مہاجرین کو پہلی بار باقاعدہ طور پر اسمبلی کا حصہ بنایا گیا اور ان کی سیاسی حیثیت قانونی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے بعد آزاد کشمیر کی سیاست کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔
اقوام متحدہ اور نمائندگی
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں نے مہاجر نشستوں کی اجازت دی یا ان کا تقاضا کیا؟
سیدھا جواب ہے: نہیں۔
اقوام متحدہ نے کبھی بھی آزاد کشمیر کے لیے کوئی سیاسی ڈھانچہ تجویز نہیں کیا۔ اس نے صرف یہ کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام — چاہے وہ ریاست کے جس حصے میں بھی ہوں — ان کی مرضی معلوم کی جائے۔
قراردادوں جیسے S/1196 اور S/1430 میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے لیکن اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ یہ رائے کس طرح لی جائے گی — اسمبلیوں کے ذریعے، حلقہ بندی کے ذریعے یا براہ راست استصواب رائے کے ذریعے۔
لہٰذا یہ 12 نشستیں ایک خالص مقامی آئینی ایجاد ہیں، نہ کہ اقوام متحدہ کی ضرورت۔
سیاسی تنازعہ
گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ 12 نشستیں آزاد کشمیر کی سیاست میں سب سے زیادہ متنازع موضوع رہی ہیں۔
-
انتخابی عدم توازن: مہاجر حلقوں میں ووٹرز کی تعداد اکثر AJK کے اندرونی حلقوں سے کئی گنا زیادہ ہے، جس سے ’’ایک فرد، ایک ووٹ‘‘ کا اصول متاثر ہوتا ہے۔
-
ریاستی سبجیکٹ رول: مہاجر ووٹرز کے اندراج کے معیار کو مختلف اوقات میں مختلف انداز سے لاگو کیا گیا ہے، جس پر دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
-
طاقت کی سیاست: ان نشستوں کو اسمبلی میں ’’کنگ میکر‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی بدولت اکثر حکومتیں قائم یا ختم ہوتی ہیں۔
یہ تنازع محض تکنیکی نہیں بلکہ گہرا سیاسی ہے۔ آزاد کشمیر کی کئی جماعتیں اور کارکن ان نمائندوں کو ’’حقیقی مہاجر‘‘ تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کئی خاندان اب مستقل طور پر پاکستان میں آباد ہو چکے ہیں اور ان کی زندگی پناہ گزینوں کی نہیں ہے۔ اس لیے یہ نشستیں مہاجرین کی حقیقی نمائندگی کے بجائے انتخابی انجینئرنگ کا آلہ ہیں۔
مقامی بندوبست، آزادی کی تحریک نہیں
اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو یہ نشستیں نہ تو آزادی کی تحریک سے جڑی ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے۔ یہ ایک مقامی سیاسی بندوبست ہیں جو 1970 اور 1974 کے قوانین کے ذریعے سامنے آیا۔
ان کا مقصد بے گھر افراد کو نمائندگی دینا تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ نشستیں مظفرآباد کی طاقت کی سیاست میں الجھ گئیں۔ جب تک ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل اقوام متحدہ کے استصواب رائے کے ذریعے طے نہیں ہوتا، یہ نشستیں صرف ایک عارضی سیاسی ضرورت کے طور پر برقرار رہیں گی۔ ان کا مستقبل — ختم ہونا، اصلاح ہونا یا برقرار رہنا — آزاد کشمیر کے اندرونی سیاسی اتفاق یا عدالتی فیصلوں پر منحصر ہے۔
نتیجہ
مہاجرین کی 12 نشستیں نہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں شامل ہیں اور نہ ہی کسی بین الاقوامی قانون میں۔ یہ آزاد کشمیر کا ایک مقامی آئینی انتظام ہیں جو تقسیم کے کئی دہائیوں بعد مہاجرین کو شامل کرنے کے لیے بنایا گیا۔
آج جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان نشستوں کے خاتمے کی بحث چھیڑی ہے، یہ معاملہ ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ مگر حقائق واضح ہیں: یہ نشستیں آزادی کی تحریک کا ستون نہیں بلکہ ایک اندرونی سیاسی میکانزم ہیں، جن کی افادیت پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

