کوٹلی/آزاد جموں و کشمیر — جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آج چڑھوئی (ضلع کوٹلی) میں ایک تاریخی جلسے کا انعقاد کیا، جسے حقِ حکمرانی و حقِ ملکیت کانفرنس کا نام دیا گیا۔ اس اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے بھرپور شرکت کی، جو مقامی سطح پر ایک غیرمعمولی سیاسی و سماجی مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دی ازادی ٹائمز کو موصولہ تفصیلات کے مطابق،پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک برس سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایسی کانفرنسز منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کانفرنسز کا مقصد عوام میں ان کے بنیادی حقوق، اپنے وسائل پر حقِ ملکیت، اور اپنے وطن پر حقِ حکمرانی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔
چڑھوئی میں منعقد ہونے والی یہ پہلی بڑی کانفرنس تھی جس میں لوگوں نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ دیگر اضلاع سے بھی بھرپور شرکت کی۔ جلسہ گاہ میں عوام کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ دور دراز علاقوں سے قافلوں کی شکل میں کانفرنس میں شریک ہوئے۔
مبصرین کے مطابق یہ جلسہ کوٹلی کی تاریخ کا ایک اہم باب ثابت ہوگا۔ سیاسی حلقے اسے ایک “گیم چینجر” قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل کی سیاست اور عوامی بیداری پر گہرے ہوں گے۔
شرکاء نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو نہ صرف اپنے وسائل پر حق حاصل ہے بلکہ انہیں اپنے خطے میں اپنی حکمرانی کا حق بھی دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ تحریک مزید علاقوں تک پھیلائی جائے گی تاکہ ریاست کے ہر شہری کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔
یہ جلسہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اپنے بنیادی حقوق اور اپنے وطن کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئے شعور اور جذبے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

