مظفرآباد میں قائم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے دفتر سے سامنے آنے والی ایک نئی تصویر نے سوشل میڈیا پر ایک تازہ سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
یہ ویڈیو ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پیج تاجران دے ویر کی جانب سے شیئر کی گئی، جس کے بعد یہ تیزی سے توجہ کا مرکز بن گئی اور مختلف سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر بحث اور تنقید شروع ہو گئی۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) ایک وسیع البنیاد اتحاد ہے، جس میں سیاسی، سماجی، مذہبی، تحریکی اور کاروباری حلقوں سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں اور افراد شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم خود کو ایک روایتی سیاسی جماعت کے بجائے عوامی سطح پر ابھرنے والی ایک جڑوں سے جڑی تحریک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، جس نے خطے بھر میں مسلسل عوامی متحرک کاری اور احتجاجی جدوجہد کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔
اس تصویر کے گرد پیدا ہونے والا تنازع کمیٹی کے اس پہلے سے اعلان کردہ مؤقف اور اندرونی معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) سے جڑا ہوا ہے۔ ماضی میں ہونے والی ریلیوں، اجلاسوں اور عوامی مظاہروں کے دوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس بات پر مسلسل قائم رہی ہے کہ اس کے تمام پروگراموں میں صرف کشمیر کا جھنڈا ہی استعمال کیا جائے گا، اور کسی بھی ریاستی یا متنازعہ پرچم کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس مؤقف کا دفاع کمیٹی نے متعدد مواقع پر عوامی طور پر کیا، حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور بحث کے باوجود۔
تاہم، مظفرآباد کے دفتر میں دو جھنڈوں کی موجودگی نے یہ سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا کمیٹی کی پالیسی یا عملی رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس تصویر کو کمیٹی کے سابقہ مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھا، جبکہ دیگر حلقوں نے احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
کچھ مبصرین نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مظفرآباد میں قائم کمیٹی کا یہ دھڑا ممکنہ طور پر سرکاری یا ریاستی ڈھانچوں کے قریب آ رہا ہے، تاہم یہ دعوے فی الحال قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور ان کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
خبر فائل کیے جانے تک، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے نہ تو مرکزی سطح پر اور نہ ہی مقامی سطح پر اس تصویر یا اس سے جڑے خدشات کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان یا وضاحت سامنے آئی ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

