پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ایک بار پھر سیاسی بے چینی اور عوامی اضطراب شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے حکومت کے خلاف نئے احتجاج اور ممکنہ طور پر مکمل شٹر ڈاؤن کی دھمکی دے دی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ستمبر 29 کے تاریخی عوامی احتجاج کے بعد حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں پر نہ تو مکمل عمل درآمد ہوا اور نہ ہی عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا گیا۔
آزاد کشمیر کی معروف آزاد اور بین الاقوامی نیوز ویب سائٹ The Azadi Times کے مطابق، کمیٹی نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ مزید کسی بھی مذاکراتی عمل میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ سابقہ مذاکرات محض وقتی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئے۔
پس منظر: 29 ستمبر کا تاریخی عوامی احتجاج
29 ستمبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ایک غیر معمولی عوامی تحریک نے جنم لیا، جس میں وادی کے تقریباً تمام اضلاع سے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مسلسل پانچ دن تک پورا خطہ بند رہا، تجارتی مراکز، ٹرانسپورٹ اور سرکاری دفاتر مکمل طور پر معطل رہے۔
یہ احتجاج Jammu & Kashmir Joint Awami Action Committee کی قیادت میں ہوا، جو تاجروں، ٹرانسپورٹرز، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندہ تنظیموں کا ایک اتحاد ہے۔ احتجاج کے دوران درجنوں افراد گرفتار ہوئے، سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ مختلف مقامات پر سیکیورٹی اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں۔
بالآخر حکومتِ پاکستان اور کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا، اور ایک باقاعدہ معاہدہ طے پایا جسے اُس وقت ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز
اس تحریک کی بنیاد ایک 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز تھا، جس میں بجلی اور آٹے پر سبسڈیز، مہنگائی، ٹیکس پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور سیاسی اختیارات جیسے بنیادی مسائل شامل تھے۔
ان مطالبات میں سب سے زیادہ متنازع نکتہ آزاد کشمیر اسمبلی میں موجود 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے کا تھا۔ یہ نشستیں اُن کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں جو 1980 اور 1990 کی دہائی میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہو گئے تھے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ چونکہ یہ افراد آزاد کشمیر میں مستقل طور پر مقیم نہیں، اس لیے ان کی اسمبلی میں نمائندگی مقامی جمہوری عمل کو متاثر کرتی ہے اور آزاد کشمیر کی سیاست کو بیرونی اثر و رسوخ کے تابع بناتی ہے۔
عمل درآمد پر شدید تحفظات
کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے جن نکات پر عمل درآمد کا اعلان کیا، وہ یا تو کاغذی حد تک محدود رہے یا عملی طور پر بے اثر ثابت ہوئے۔ خاص طور پر 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کو کمیٹی ایک سنگین بدعہدی قرار دے رہی ہے۔
اس کے علاوہ، کمیٹی نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ احتجاج کے بعد متعدد رہنماؤں اور کارکنان کے نام Exit Control List (ECL) اور Passport Control List (PCL) میں شامل کیے گئے، جبکہ مختلف اضلاع میں کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔
یہ تمام الزامات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے اب تک ان پر تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
مذاکرات سے مکمل انکار
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے باضابطہ اعلان کیا کہ وہ اب حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہو گی۔
کمیٹی کے ایک سینئر رکن نے دی آزادئی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا:
“ہم نے اعتماد کے ساتھ احتجاج معطل کیا تھا، مگر اس کے بدلے تاخیر، دباؤ اور انتقامی کارروائیاں دیکھنے کو ملیں۔”
عوامی فضا اور ممکنہ نتائج
پورے آزاد کشمیر میں ایک بار پھر بے چینی پھیلتی جا رہی ہے۔ تاجر برادری معاشی نقصانات کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے، جبکہ عام شہری پچھلے احتجاج کے دوران زخمیوں اور گرفتاریوں کو یاد کرتے ہوئے کسی نئی بندش کے لیے ذہنی طور پر تیار دکھائی دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر “بند مطلب بند” کا نعرہ دوبارہ گردش کر رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوامی غصہ ایک مرتبہ پھر منظم ہو رہا ہے۔
ایک بڑا سیاسی امتحان
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں طرزِ حکمرانی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ طاقت یا دباؤ کے ذریعے عوامی تحریکوں کو دبانے کی کوشش خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے لیے یہ ایک حساس معاملہ ہے، کیونکہ آزاد کشمیر کو اکثر بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے مقابلے میں ایک “جمہوری ماڈل” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا حکومت سنجیدہ اور بامعنی اقدامات کے ذریعے بحران کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، یا پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر ایک اور طویل عوامی بندش کی طرف بڑھ رہا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

