باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تنظیمِ نو، اسیرانِ آزادی اور مزاحمتی سیاست کا نیا مرحلہ
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > آزاد کشمیر > جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تنظیمِ نو، اسیرانِ آزادی اور مزاحمتی سیاست کا نیا مرحلہ
آزاد کشمیر

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تنظیمِ نو، اسیرانِ آزادی اور مزاحمتی سیاست کا نیا مرحلہ

سٹی کوٹلی سے نیشنل زون تک: ایک تحریک، ایک سوال، اور ایک غیر حل شدہ تنازع

Azadi Times
Last updated: January 11, 2026 5:33 pm
Azadi Times
3 weeks ago
Share
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تنظیمِ نو، اسیرانِ آزادی اور مزاحمتی سیاست کا نیا مرحلہ
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نومنتخب زونل صدر سردار امان خان کوٹلی میں منعقدہ زونل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے اسیرانِ آزادی کی رہائی، حقِ حکمرانی اور ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی کے عزم کا اعادہ کیا۔
SHARE

خصوصی رپورٹ | انڈیپنڈنٹ ڈیسک

ریاست جموں و کشمیر کی سیاست میں جب بھی تاریخ کے دھارے نے کروٹ بدلی ہے، اس کے اثرات سرحدوں، نقشوں اور بیانیوں سے کہیں آگے محسوس کیے گئے ہیں۔ یہ خطہ محض جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی یادداشت، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جس کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ اب تک خود اس کے ہاتھ میں نہیں دیا گیا۔

جنوری 2026 میں سٹی کوٹلی میں منعقد ہونے والا جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا زونل کنونشن اسی تسلسل کی ایک کڑی تھا—ایسا موقع جس میں نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل سامنے آئی بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے بنیادی سیاسی سوال کو ایک بار پھر مرکز میں لا کھڑا کیا گیا:
کیا کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، یا ایک زندہ قوم کی سرزمین؟

یہ سوال نیا نہیں، مگر اس کی بازگشت آج بھی اتنی ہی تیز ہے جتنی دہائیوں قبل تھی۔

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

ایک کنونشن، کئی پیغامات

زونل کنونشن کے دوران پیش کیا گیا سیاسی مؤقف محض تنظیمی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک کھلا پیغام تھا—ہندوستان اور پاکستان دونوں ریاستوں کے نام۔ پیغام واضح تھا کہ جموں و کشمیر کو طاقت، جبر یا قید و بند کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

Read in English on The Azadi Times

کنونشن میں اسیرانِ آزادی کے مسئلے کو مرکزی حیثیت دی گئی، خصوصاً
محمد یاسین ملک
کی مسلسل قید کو عالمی انسانی اقدار، بین الاقوامی قانون اور سیاسی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور: دسویں کلاس کا رزلٹ چیک کرنے کا طریقہ

یہ موقف محض ایک فرد کی رہائی کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی بیانیے کا دفاع ہے—وہ بیانیہ جو خودمختاری، حقِ حکمرانی اور عوامی مرضی پر زور دیتا ہے۔

اسیرانِ آزادی: ایک علامت، ایک سوال

جموں و کشمیر کی مزاحمتی سیاست میں اسیرانِ آزادی محض قیدی نہیں رہے۔ وہ علامت بن چکے ہیں—ایک ایسی علامت جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر کسی خطے میں سیاسی اختلاف کو جرم بنا دیا جائے تو کیا وہاں جمہوریت باقی رہتی ہے؟

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ
کے مطابق یاسین ملک، ظہور بٹ، گلگت سے تعلق رکھنے والے نصرت حسین اور دیگر سیاسی کارکنان کی قید اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی طاقت کو عوامی رائے پر فوقیت دی جا رہی ہے۔

یہاں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ
کیا امن قید سے آتا ہے، یا انصاف سے؟

پاکستان اور ہندوستان: متضاد بیانیے، مشترکہ طریقہ؟

کنونشن کے اعلامیے میں ایک غیر معمولی نکتہ وہ تھا جس میں ہندوستان اور پاکستان—دونوں—کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عموماً کشمیر کا بیانیہ دو ریاستوں کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے، مگر یہاں مؤقف مختلف تھا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ریاستیں مختلف جھنڈوں، نعروں اور آئینی دعوؤں کے باوجود ایک مشترکہ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں:
طاقت کے ذریعے کنٹرول، اور عوامی سیاسی قیادت کو غیر مؤثر بنانا۔

یہ نکتہ خاص طور پر انڈیپنڈنٹ صحافت کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ کسی ایک ریاستی مؤقف کی توثیق نہیں بلکہ طاقت کے ڈھانچوں پر سوال اٹھاتا ہے۔

تنظیمی ازسرِنو تشکیل: محض انتخاب یا سیاسی حکمتِ عملی؟

زونل کنونشن میں تنظیمی عہدوں کے لیے انتخاب کو محض رسمی کارروائی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اسے ایک تاریخی مرحلہ قرار دیا گیا—ایسا مرحلہ جو برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور اندرونی اختلافات کے بعد ممکن ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیری رہنماؤں کا خطے میں بگڑتی صورتحال کے دوران یو این دفتر کی جانب پُرامن مارچ کا اعلان

سٹی کوٹلی اور ریاست بھر سے آئے ہوئے کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے مشکل حالات میں تنظیمی نظم و ضبط اور نظریاتی وابستگی کو برقرار رکھا۔

یہاں ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے:
کیا یہ تنظیم محض ایک تاریخی نام کے طور پر باقی رہے گی، یا خود کو جدید سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گی؟

کنونشن کے بیانیے کے مطابق مقصد واضح ہے—لبریشن فرنٹ کو ایک مربوط، عوامی اور نظریاتی سیاسی تنظیم میں تبدیل کرنا۔

توکیر گلانی دھڑا اور اندرونی سیاست

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اندرونی دھڑوں کی سیاست ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہی ہے۔ موجودہ کنونشن میں جس دھڑے کی نمائندگی سامنے آئی، وہ سیاسی طور پر
توکیر گلانی
سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔

یہ حقیقت کہ تنظیم نے اختلافات کے باوجود ایک زونل کنونشن منعقد کیا، اس بات کی علامت ہے کہ اندرونی سیاست کے باوجود تنظیمی بقا کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

تاہم ناقدین کے نزدیک اصل امتحان کنونشن کے بعد شروع ہو گا:
کیا یہ اتحاد محض وقتی ہے، یا طویل المدتی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ؟

صحافی، تاجر اور سول سوسائٹی: خاموش مگر اہم کردار

کنونشن کے اختتام پر انجمن تاجران کوٹلی، ٹرانسپورٹ یونین اور صحافی برادری کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ یہ اعتراف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کشمیر کی سیاست صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔

صحافی وہ کردار ہیں جو دباؤ، دھمکیوں اور معاشی عدم تحفظ کے باوجود زمینی حقائق سامنے لاتے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ میڈیا کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا بھی ہے—کہ کیا وہ واقعی طاقت سے آزاد ہو کر عوام کی آواز بن پا رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:  مظفرآباد میں صحافیوں پر پولیس تشدد، صحافتی برادری سراپا احتجاج

حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی اور غیر طبقاتی سماج

کنونشن کے سیاسی اعلامیے میں تین بنیادی نکات نمایاں تھے:

  1. حقِ ملکیت – زمین، وسائل اور شناخت پر مقامی عوام کا حق

  2. حقِ حکمرانی – اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار

  3. غیر طبقاتی سماج – معاشی اور سماجی انصاف پر مبنی نظام

یہ نکات کسی ایک نظریاتی اسکول تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر نوآبادیاتی نظام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی تناظر: دنیا کہاں کھڑی ہے؟

کشمیر کا مسئلہ عالمی سفارت کاری میں اکثر “منجمد تنازع” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر زمینی حقائق اس تصور کی نفی کرتے ہیں۔ قید، مزاحمت، احتجاج اور سیاسی بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنازع زندہ ہے—اور شاید پہلے سے زیادہ پیچیدہ۔

بین الاقوامی میڈیا اکثر کشمیر کو صرف دو ریاستوں کے تنازع کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ اس کنونشن کا پیغام مختلف تھا:
یہ ریاستوں کا نہیں، عوام کا مسئلہ ہے۔

نتیجہ: ایک اعلان، ایک عہد

کنونشن کے اختتام پر کیا گیا اعلان کسی فوری سیاسی کامیابی کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا—کہ جدوجہد دباؤ، لالچ یا سمجھوتے کے بغیر جاری رہے گی۔

یہ بیانیہ اپنی جگہ مضبوط ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سوالات بھی جڑے ہیں:

  • کیا تنظیم خود کو بدلتے عالمی سیاسی ماحول سے ہم آہنگ کر پائے گی؟

  • کیا اسیرانِ آزادی کی رہائی کے بغیر واقعی کوئی بامعنی مکالمہ ممکن ہے؟

  • اور سب سے اہم: کیا کشمیری عوام کو کبھی اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق ملے گا؟

یہ سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر کے بیان پر سوشل میڈیا میں سوالات کی بھرمار
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر بندش کے دہانے پر
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظفرآباد دفتر سے سامنے آنے والی تصویر نے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی
بنجوسہ میں وزیر سیاحت فہیم ربانی کے قافلے سے جھڑپ، نوجوان زخمی، احتجاج میں سڑک بند
TAGGED:اسیرانِ آزادیسیاسیت
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر بندش کے دہانے پر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر بندش کے دہانے پر
Next Article جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر کے بیان پر سوشل میڈیا میں سوالات کی بھرمار جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر کے بیان پر سوشل میڈیا میں سوالات کی بھرمار

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان
گھر سے بھاگ کر شادی کا ارادہ، لیکن انجام دردناک: چار لڑکوں نے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
گھر سے بھاگ کر شادی کا ارادہ، لیکن انجام دردناک: چار لڑکوں نے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
آزاد کشمیر

اسی بارے میں

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سی رہنما نے مبینہ بھارتی سائفر کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دے دیا، 29 ستمبر کی ہڑتال سے قبل ردِعمل

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سی رہنما نے مبینہ بھارتی سائفر کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دے دیا، 29 ستمبر کی ہڑتال سے قبل ردِعمل

By Azadi Times
5 months ago
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 29 ستمبر سے غیر معینہ ہڑتال کا اعلان

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 29 ستمبر سے غیر معینہ ہڑتال کا اعلان

By Azadi Times
5 months ago
آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف درخواست دائر

آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف درخواست دائر

By Azadi Times
5 months ago
چڑھوئی کوٹلی میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا تاریخی جلسہ، حقِ حکمرانی و حقِ ملکیت کانفرنس میں ہزاروں افراد کی شرکت

چڑھوئی کوٹلی میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا تاریخی جلسہ، حقِ حکمرانی و حقِ ملکیت کانفرنس میں ہزاروں افراد کی شرکت

By Azadi Times
5 months ago
مسلم کانفرنس کے سابق امیدوار اسمبلی شراب اور ناجائز اسلحہ کے ساتھ گرفتار

مسلم کانفرنس کے سابق امیدوار اسمبلی شراب اور ناجائز اسلحہ کے ساتھ گرفتار

By Azadi Times
5 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?