خصوصی رپورٹ | انڈیپنڈنٹ ڈیسک
ریاست جموں و کشمیر کی سیاست میں جب بھی تاریخ کے دھارے نے کروٹ بدلی ہے، اس کے اثرات سرحدوں، نقشوں اور بیانیوں سے کہیں آگے محسوس کیے گئے ہیں۔ یہ خطہ محض جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی یادداشت، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جس کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ اب تک خود اس کے ہاتھ میں نہیں دیا گیا۔
جنوری 2026 میں سٹی کوٹلی میں منعقد ہونے والا جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا زونل کنونشن اسی تسلسل کی ایک کڑی تھا—ایسا موقع جس میں نہ صرف تنظیمی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل سامنے آئی بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے بنیادی سیاسی سوال کو ایک بار پھر مرکز میں لا کھڑا کیا گیا:
کیا کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، یا ایک زندہ قوم کی سرزمین؟
یہ سوال نیا نہیں، مگر اس کی بازگشت آج بھی اتنی ہی تیز ہے جتنی دہائیوں قبل تھی۔
ایک کنونشن، کئی پیغامات
زونل کنونشن کے دوران پیش کیا گیا سیاسی مؤقف محض تنظیمی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک کھلا پیغام تھا—ہندوستان اور پاکستان دونوں ریاستوں کے نام۔ پیغام واضح تھا کہ جموں و کشمیر کو طاقت، جبر یا قید و بند کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔
کنونشن میں اسیرانِ آزادی کے مسئلے کو مرکزی حیثیت دی گئی، خصوصاً
محمد یاسین ملک
کی مسلسل قید کو عالمی انسانی اقدار، بین الاقوامی قانون اور سیاسی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
یہ موقف محض ایک فرد کی رہائی کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی بیانیے کا دفاع ہے—وہ بیانیہ جو خودمختاری، حقِ حکمرانی اور عوامی مرضی پر زور دیتا ہے۔
اسیرانِ آزادی: ایک علامت، ایک سوال
جموں و کشمیر کی مزاحمتی سیاست میں اسیرانِ آزادی محض قیدی نہیں رہے۔ وہ علامت بن چکے ہیں—ایک ایسی علامت جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر کسی خطے میں سیاسی اختلاف کو جرم بنا دیا جائے تو کیا وہاں جمہوریت باقی رہتی ہے؟
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ
کے مطابق یاسین ملک، ظہور بٹ، گلگت سے تعلق رکھنے والے نصرت حسین اور دیگر سیاسی کارکنان کی قید اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی طاقت کو عوامی رائے پر فوقیت دی جا رہی ہے۔
یہاں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ
کیا امن قید سے آتا ہے، یا انصاف سے؟
پاکستان اور ہندوستان: متضاد بیانیے، مشترکہ طریقہ؟
کنونشن کے اعلامیے میں ایک غیر معمولی نکتہ وہ تھا جس میں ہندوستان اور پاکستان—دونوں—کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عموماً کشمیر کا بیانیہ دو ریاستوں کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے، مگر یہاں مؤقف مختلف تھا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ریاستیں مختلف جھنڈوں، نعروں اور آئینی دعوؤں کے باوجود ایک مشترکہ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں:
طاقت کے ذریعے کنٹرول، اور عوامی سیاسی قیادت کو غیر مؤثر بنانا۔
یہ نکتہ خاص طور پر انڈیپنڈنٹ صحافت کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ کسی ایک ریاستی مؤقف کی توثیق نہیں بلکہ طاقت کے ڈھانچوں پر سوال اٹھاتا ہے۔
تنظیمی ازسرِنو تشکیل: محض انتخاب یا سیاسی حکمتِ عملی؟
زونل کنونشن میں تنظیمی عہدوں کے لیے انتخاب کو محض رسمی کارروائی کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اسے ایک تاریخی مرحلہ قرار دیا گیا—ایسا مرحلہ جو برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور اندرونی اختلافات کے بعد ممکن ہوا۔
سٹی کوٹلی اور ریاست بھر سے آئے ہوئے کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے مشکل حالات میں تنظیمی نظم و ضبط اور نظریاتی وابستگی کو برقرار رکھا۔
یہاں ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے:
کیا یہ تنظیم محض ایک تاریخی نام کے طور پر باقی رہے گی، یا خود کو جدید سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گی؟
کنونشن کے بیانیے کے مطابق مقصد واضح ہے—لبریشن فرنٹ کو ایک مربوط، عوامی اور نظریاتی سیاسی تنظیم میں تبدیل کرنا۔
توکیر گلانی دھڑا اور اندرونی سیاست
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اندرونی دھڑوں کی سیاست ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہی ہے۔ موجودہ کنونشن میں جس دھڑے کی نمائندگی سامنے آئی، وہ سیاسی طور پر
توکیر گلانی
سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔
یہ حقیقت کہ تنظیم نے اختلافات کے باوجود ایک زونل کنونشن منعقد کیا، اس بات کی علامت ہے کہ اندرونی سیاست کے باوجود تنظیمی بقا کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
تاہم ناقدین کے نزدیک اصل امتحان کنونشن کے بعد شروع ہو گا:
کیا یہ اتحاد محض وقتی ہے، یا طویل المدتی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ؟
صحافی، تاجر اور سول سوسائٹی: خاموش مگر اہم کردار
کنونشن کے اختتام پر انجمن تاجران کوٹلی، ٹرانسپورٹ یونین اور صحافی برادری کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ یہ اعتراف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کشمیر کی سیاست صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔
صحافی وہ کردار ہیں جو دباؤ، دھمکیوں اور معاشی عدم تحفظ کے باوجود زمینی حقائق سامنے لاتے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ میڈیا کے لیے یہ لمحہ خود احتسابی کا بھی ہے—کہ کیا وہ واقعی طاقت سے آزاد ہو کر عوام کی آواز بن پا رہا ہے؟
حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی اور غیر طبقاتی سماج
کنونشن کے سیاسی اعلامیے میں تین بنیادی نکات نمایاں تھے:
-
حقِ ملکیت – زمین، وسائل اور شناخت پر مقامی عوام کا حق
-
حقِ حکمرانی – اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار
-
غیر طبقاتی سماج – معاشی اور سماجی انصاف پر مبنی نظام
یہ نکات کسی ایک نظریاتی اسکول تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر نوآبادیاتی نظام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی تناظر: دنیا کہاں کھڑی ہے؟
کشمیر کا مسئلہ عالمی سفارت کاری میں اکثر “منجمد تنازع” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر زمینی حقائق اس تصور کی نفی کرتے ہیں۔ قید، مزاحمت، احتجاج اور سیاسی بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنازع زندہ ہے—اور شاید پہلے سے زیادہ پیچیدہ۔
بین الاقوامی میڈیا اکثر کشمیر کو صرف دو ریاستوں کے تنازع کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ اس کنونشن کا پیغام مختلف تھا:
یہ ریاستوں کا نہیں، عوام کا مسئلہ ہے۔
نتیجہ: ایک اعلان، ایک عہد
کنونشن کے اختتام پر کیا گیا اعلان کسی فوری سیاسی کامیابی کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا—کہ جدوجہد دباؤ، لالچ یا سمجھوتے کے بغیر جاری رہے گی۔
یہ بیانیہ اپنی جگہ مضبوط ہے، مگر اس کے ساتھ کئی سوالات بھی جڑے ہیں:
-
کیا تنظیم خود کو بدلتے عالمی سیاسی ماحول سے ہم آہنگ کر پائے گی؟
-
کیا اسیرانِ آزادی کی رہائی کے بغیر واقعی کوئی بامعنی مکالمہ ممکن ہے؟
-
اور سب سے اہم: کیا کشمیری عوام کو کبھی اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق ملے گا؟
یہ سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

