جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے واضح ڈیڈ لائن دیتے ہوئے 9 جون 2026 کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر گزشتہ وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور نئے نکات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تو عوامی مظاہرے شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
کمیٹی نے اپنے تازہ اعلامیے میں لاہور کی ایک یونیورسٹی میں طالبہ فریحہ ابراہیم کی خودکشی کے واقعے پر گہرے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا اور اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ انصاف کے عمل میں شفافیت یقینی ہو۔
اہم مطالبات اور نکات
-
محکمہ تعلیم سمیت تمام سرکاری اداروں میں تقرریاں این ٹی ایس اور پی ایس سی کے ذریعے میرٹ پر کی جائیں۔
-
ایڈہاک بنیادوں پر بھرتیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے اور ترقیوں کے لیے مختص کوٹے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
-
حالیہ اسمبلی اجلاس میں پیش کیے گئے احتساب بیورو ایکٹ کو مسترد کیا گیا، کمیٹی کے مطابق یہ ترامیم بدعنوانی کے انسداد کے بجائے اسے بڑھا سکتی ہیں۔
-
صحافی سہرا برکت کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
-
ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل افراد کے نام فوری طور پر شائع کیے جائیں تاکہ شفافیت قائم ہو۔
-
شہریوں کو معیاری اور کافی مقدار میں اشیائے ضروریہ فراہم کی جائیں، خاص طور پر آٹے کے معیار اور فراہمی کو بہتر بنایا جائے۔
-
حکومت اور اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو شہریوں کے صحت کارڈ کے تحفظات فوری طور پر دور کرنے اور 24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
-
جاری ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔
کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق 38 نکات پر عملدرآمد کے لیے مظاہرہ کیا جائے گا، جبکہ مظاہرے کی تفصیلات عید کے بعد جاری کی جائیں گی۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم حکومت کی فوری اور سنجیدہ پیش رفت ضروری ہے۔
پچھلے مظاہروں کی یاد دہانی
واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کیا تھا، جو پرتشدد ہو گیا تھا اور اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کمیٹی نے اس موقع پر وفاقی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے بارے میں وفاقی وزرا اور مقامی حکومت کا موقف ہے کہ اس پر عمل درآمد ہو چکا ہے، لیکن کمیٹی کے مطابق وعدے کی پاسداری نہیں کی گئی۔
بین الاقوامی اور انسانی پہلو
کمیٹی کے مطالبات میں شہری تحفظ، میرٹ پر مبنی بھرتیاں، صحت کی سہولیات اور شفاف تحقیقات کے امور شامل ہیں، جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق اور حکومتی جواب دہی کے حوالے سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اس مظاہرے کا مقصد نہ صرف پرانے وعدوں پر عمل درآمد کرانا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں میں شفافیت اور شہری فلاح کے لیے دباؤ پیدا کرنا بھی ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

