بھمبر (پاکستان کے زیرانتظام کشمیر) – پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے شہر بھمبر میں معروف سینئر قانون دان اور عوامی خدمت سے وابستہ شخصیت مرزا محمد نواز جرال ایڈووکیٹ پیر کے روز مغلورہ کے مقام پر ایک سفاک قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے۔ موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ہادی میرج ہال کے قریب ان پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
واقعے کے بعد علاقے میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ وکلاء، سیاسی و سماجی شخصیات، اور عوام کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے موقع پر شواہد اکٹھے کیے اور قاتلوں کی تلاش کے لیے فوری کارروائی شروع کر دی۔
قتل کیس میں اہم پیش رفت، دو نامزد ملزمان گرفتار
پولیس نے مرزا نواز جرال قتل کیس میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو اہم ملزمان فضل نعیم (سکنہ دھندڑ کلاں) اور ملک صداقت کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق، تفتیش کے دوران دونوں ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد ملے ہیں، جن کی بنیاد پر انہیں حراست میں لیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
وکلا برادری کا شدید ردعمل – عدالتی کارروائیاں معطل
مرزا نواز جرال کی ناگہانی شہادت پر آزاد جموں و کشمیر کی وکلا برادری شدید سوگ میں ہے۔ اس المناک سانحے کے بعد آزاد کشمیر ہائی کورٹ اور تمام ضلعی عدالتوں نے 22 اپریل 2025 (منگل) کے روز عدالتی کارروائیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ وکلا تنظیموں نے اس واقعے کو عدل و انصاف کے نظام پر حملہ قرار دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور کڑی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک عوامی خدمت گزار، دردمند قانون دان
مرحوم مرزا محمد نواز جرال نہ صرف ایک ماہر اور تجربہ کار وکیل تھے بلکہ وہ عوامی مسائل کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک مؤثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک عوام کو قانونی معاونت فراہم کی اور اپنے علاقے میں ایک بااعتماد رہنما کی حیثیت اختیار کی۔ ان کی شہادت نہ صرف وکلا برادری بلکہ پورے خطے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی مذمت اور یکجہتی
مرزا نواز جرال کی شہادت پر مختلف سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک پُرامن اور قانون پسند شخصیت کو اس انداز میں نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔ کئی حلقوں نے اسے ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے مجرموں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
نمازِ جنازہ اور دعائیں
مرزا محمد نواز جرال ایڈووکیٹ کی نماز جنازہ 22 اپریل کی سہ پہر ان کے آبائی گاؤں میں ادا کی جائے گی، جہاں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اہلِ علاقہ اور رشتہ داروں نے دعا کی کہ
“اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔”
یہ سانحہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، جو وکلا اور انصاف کے محافظوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

