راولا کوٹ، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر – جامعہ پونچھ کی تپتی زمین پر کھڑی ایک لڑکی کی تصویر صرف ایک لمحے کا عکس نہیں، بلکہ وہ ایک گرج دار نظم ہے — عزم، حوصلے اور سچ کی ایک جیتی جاگتی کہانی۔ یہ تصویر الیزہ اسلم کی ہے، جو زخمی پاؤں اور ہاتھ میں چھڑی کے ساتھ طالب علموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی نئی علامت بن چکی ہے۔
الیزہ اسلم، جموں کشمیر طلبہ ایکشن کمیٹی کی کور ممبر ہیں، مگر وہ صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک جذبہ ہیں — ایسا جذبہ جو ناانصافی کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے، جو تکلیف کو احتجاج کی زبان میں ڈھالتا ہے، اور جو آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے۔
حال ہی میں جامعہ پونچھ میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران، الیزہ زخمی ہوئیں۔ ان کے پاؤں پر پٹی بندھی ہے، مگر ان کی آواز مضبوط اور بلند ہے۔ ان کا کہنا ہے:
“اگر ہم نہ بولے، تو کون بولے گا؟”
یہ الفاظ صرف نعرہ نہیں، بلکہ ان کے لہو سے لکھا گیا اعلان ہیں کہ ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جب باقی طلبہ بینرز اٹھائے احتجاج کر رہے تھے، الیزہ اسلم ایک ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ کھڑی تھیں — نہ صرف اپنی تکلیف کو سہتی ہوئی، بلکہ اسے احتجاج کا استعارہ بناتی ہوئی۔ ان کا وجود چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ
“یہ مذمت نہیں، مزاحمت ہے!”
ان کی تصویر ایک زخم زدہ جسم کو نہیں، بلکہ ایک ناقابل شکست حوصلے کو دکھاتی ہے۔ ان کا زخمی پاؤں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم جسم کو تو توڑ سکتا ہے، مگر ارادوں کو نہیں۔
جموں کشمیر طلبہ ایکشن کمیٹی، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب ایک مؤثر آواز بن چکی ہے — ایسی آواز جسے دبانا اب ریاست اور تعلیمی اداروں کے بس کی بات نہیں رہی۔ طلبہ کے حقوق، شفاف تعلیمی نظام، اور بنیادی سہولیات کے مطالبات اب صرف تقاریر تک محدود نہیں، بلکہ ہر زخمی قدم میں گونجنے لگے ہیں۔
الیزہ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی کا دفاع کرنے کے لیے بڑی بڑی طاقتوں کی نہیں، صرف ایک سچے ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر ہم نے آج بھی ان آوازوں کو نہ سنا، تو آنے والی تاریخ ہمیں خاموشی کے جرم پر معاف نہیں کرے گی۔
الیزہ اسلم کی یہ تصویر آج ایک لڑکی کا چہرہ نہیں، بلکہ پورے خطے میں بیداری کی شروعات ہے — ایک ایسی بیداری جو اب خاموش نہیں رہے گی۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

