مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) — 28 اپریل 2025 کو پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں صحافیوں پر پولیس تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صحافی ایم این سی ایچ (مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ) ملازمین کے احتجاج کی کوریج کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکاروں نے متعدد صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جن میں اے بی این نیوز کے رپورٹر حمزہ کاٹل، کامران مغل اور مقدس گیلانی شامل ہیں۔ حمزہ کاٹل شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اس واقعہ پر صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید مذمت کرتے ہوئے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ ینگ جرنلسٹس فورم (YJF) اور دیگر صحافتی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ایس ایس پی اور ڈی ایس پی کو فوری معطل کیا جائے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
ینگ جرنلسٹس فورم نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ریاست بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ، جس میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور افسر مال شامل تھے، نے مظاہرہ کرنے والے صحافیوں سے مذاکرات کیے۔ مذاکرات میں انتظامیہ نے تسلیم کیا کہ صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور تشدد کا شکار صحافیوں اور صحافتی برادری سے غیر مشروط معافی مانگی۔
اگرچہ مذاکرات کا پہلا دور ڈیڈلاک کا شکار رہا، لیکن فریقین مستقبل میں فیلڈ رپورٹرز کے لیے ایک موثر رابطہ نظام قائم کرنے پر متفق ہوئے۔ تاہم تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بدستور برقرار ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آزاد کشمیر میں عوامی بے چینی عروج پر ہے۔ حالیہ ہفتوں میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی قیادت میں مہنگی بجلی، گندم آٹے کی قلت اور اشرافیہ کے استحقاق کے خاتمے جیسے مطالبات پر وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے ہیں۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد شہری اور پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین پر آنسو گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کر چکے ہیں (ماخذ)۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں آزادی اظہار اور بنیادی شہری حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ سیویکس مانیٹر کی حالیہ رپورٹ میں کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنانے، آن لائن اظہار پر کنٹرول سخت کرنے اور احتجاج پر کریک ڈاؤن کا ذکر کیا گیا ہے
مظفرآباد میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ صحافیوں کو ہدف بنانا آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ صحافی برادری اور سول سوسائٹی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات کر کے فوری کارروائی کرے اور صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
نوٹ: یہ خبر مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات، عینی شاہدین کے بیانات اور صحافتی تنظیموں کے اعلانات پر مبنی ہے۔ حکومتی مؤقف حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

