22 جون 2025 کو امریکی افواج کی جانب سے ایران کے تین ایٹمی مرکزوں (فورڈو، اصفہان اور ناتنز) پر بمباری کرنے کے بعد دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ امریکہ کے یہ حملے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور خطے میں کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا۔ یہ مضمون “دی آزادؔی ٹائمز اردو” کے قارئین کے لیے ایک جامع اور تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح مختلف ممالک، اداروں اور عالمی لیڈران نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیا۔
ایران نے امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور نیوکلیئر نان-پرولیفریشن معاہدے کی سوشل خلاف ورزی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس آراءچی نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ:
“امریکہ، جو اقوام متحدہ کے مستقل اراکین میں سے ایک ہے، نے ایران کی پرامن ایٹمی تنظیمات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی پامالی کی ہے۔”
ایران نے اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ مستقبل میں ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا:
“مبارک ہو صدر ٹرمپ۔ آپ کے جس حوصلہ مند فیصلے نے ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کو ختم کر دیا، وہ تاریخ رقم کرے گا۔”
اسرائیلی موقف میں امریکی حملوں کو ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا گیا، جس سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ نتن یاہو کے اس بیان نے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل کی اور ان کے حمایتیوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیریس نے عالمی سطح پر اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا:
“امریکہ کا یہ حملہ خطے میں امن و امان کے لیے ایک برا خطرہ ہے اور بین الاقوامی قانون کی صاف خلاف ورزی ہے۔ ہمیں فوری مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنا چاہیے۔”
ان کی اس رائے نے دنیا بھر میں یہ واضح کر دیا کہ فوجی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کو بہا رہی ہیں بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر تمام متعلقہ فریقین سے مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی قیادت اور عوام کے درمیان اس فوجی کارروائی کو لے کر شدید تقسیم دیکھی گئی ہے۔ کچھ امریکی سیاستدانوں نے ٹرمپ کے اس اقدام کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ دیگر نے اسے غیر قانونی اور مہلک قرار دیا۔ امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے اور کچھ نمایاں امریکی رہنماؤں نے امریکہ کی بیرونی پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔
سعودی عرب نے اپنے خارجہ وزارت کے بیان میں کہا کہ انہیں اس حملے پر “گہری تشویش” ہے اور انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مذاکرات اور کشیدگی میں کمی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قطر، عمان اور عراق جیسے ممالک نے بھی امریکی اقدامات کی مذمت کی اور امن و امان کے لیے سفارتی ذرائع کی اپیل کی ہے۔
یورپی یونین کے صدر اور دیگر عالمی طاقتوں نے اس حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خطے میں تیزی سے کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے خارجہ وزراء نے مذاکرات کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے بجائے سفارت کاری ہی آ پکو دیرپا حل فراہم کر سکتی ہے۔
روس نے امریکی حملوں کو سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی امن و امان کے لیے خطرہ ہیں۔ چین نے بھی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔ ان ممالک نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔
موجودہ صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو لے کر بین الاقوامی سطح پر شدید تنازعہ پیدا ہو رہا ہے۔ جبکہ امریکی اقدامات کے کچھ حمایتی ہیں، لیکن عالمی برادری میں اس کارروائی کو غیر قانونی اور خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق، کسی بھی ملک کو بغیر عالمی برادری کی منظوری کے فوجی حملے کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس تناظر میں، مذاکرات اور سفارتی طریقوں کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ مزید کشیدگی اور ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔
امن اور مذاکرات کی ضرورت
اس وقت جب کہ دنیا بھر میں جنگی اور فوجی کارروائیوں نے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، عالمی برادری کا یہ ظرف ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کو اپنائے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کرے۔ چاہے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہو یا اسرائیل اور ایران کے درمیان، ایک مستقل اور دیرپا امن کی راہ تب ہی ممکن ہے جب تمام فریقین بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا احترام کریں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

