گلگت: گلگت بلتستان کے معروف شیعہ عالم دین آغا راحت حسین الحسینی نے علاقے کے بے پناہ قدرتی وسائل کے غیر قانونی استحصال کے خلاف سخت بیان جاری کیا ہے۔ ان کا یہ بیان پاکستانی وزیرِ اعظم کے اس حالیہ بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی بے شمار معدنیات کا ذکر کیا تھا، جس پر سوشل میڈیا پر وسیع تنقید اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔
آغا راحت حسین الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا:
“گلگت بلتستان کے تمام شیعہ، سنی، اسماعیلی جوان تیار رہیں۔ اگر کسی مائی کے لال میں جرات ہے تو وہ ہمارے معدنیات پر ہاتھ رکھ کر دکھائے۔”
یہ تبصرہ وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے گزشتہ مہینے کیے گئے ایک بیان کا براہ راست جواب سمجھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے گیلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے معدنی ذخائر کو اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی بات کی تھی۔ اس بیان کو مقامی عوام میں اس بات کا خدشہ پیدا کیا کہ ان کی زمینوں اور وسائل کا استحصال ہو سکتا ہے۔
مقامی ردعمل میں اضافہ
وزیرِ اعظم کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام، سول سوسائٹی اور مقامی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بیان اسلام آباد کی جانب سے اس خطے کے وسائل کے غیر منصفانہ استحصال کی کوشش کا حصہ ہے، اور اس میں مقامی عوام کی مشاورت اور خودمختاری کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
آغا راحت حسین الحسینی کا بیان مقامی عوام میں ایک مضبوط پیغام کے طور پر گونج رہا ہے، جو ان کے مطابق اپنے وسائل کی حفاظت کے لیے متحد اور مستعد رہنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر اور علاقائی حساسیت
گلگت بلتستان ایک اسٹرٹیجک طور پر اہم خطہ ہے جو چین، افغانستان اور بھارتی زیرانتظام کشمیر کے قریب ساتھ سرحدیں شیئر کرتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے باوجود، یہ پاکستان میں آئینی طور پر غیر متعین ہے اور اسے مکمل صوبائی درجہ نہیں ملا۔ اس خطے میں قدرتی وسائل کی کمیابیت—جیسے قیمتی پتھر، معدنیات اور آبی طاقت—کے باوجود یہاں کے لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے فیصلوں میں انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔
آغا راحت حسین الحسینی جیسے مذہبی علماء کی علاقے میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور ان کے بیانات مقامی عوام کی آواز کو اجاگر کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ممکنہ طور پر اسلام آباد کے ساتھ وسائل کے استحصال اور علاقائی خودمختاری پر بات چیت میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
اتحاد کی اپیل
آغا راحت حسین الحسینی نے اپنے خطاب میں شیعہ، سنی اور اسماعیلی نوجوانوں کو ایک ساتھ ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔
“یہ فرقہ واریت کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ہمارے اجتماعی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ہر نوجوان کو تیار رہنا چاہیے،” انہوں نے کہا۔
ان کا پیغام صرف حکومتی اقدامات کے خلاف ایک انتباہ نہیں بلکہ گیلگت بلتستان کے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی پکار بھی ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

