پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں سیلولر سروسز کی فرنچائز سیلز روک دی گئی ہیں اور اس معاملے کو متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اب موبائل کمپنیوں کو مناسب وقت دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی خدمات کی کوالٹی کو بہتر بنا سکیں۔ یہ فیصلہ اس دیرینہ مسئلے کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں کئی بین الاقوامی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اس خطے میں سیلولر نیٹ ورک کو بہتر بنانے میں ناکامی دکھائی ہے۔
سنہ 2005 میں یہاں سیلولر سروس کا آغاز اس لیے ہوا تھا تاکہ زلزلے کے بعد بین الاقوامی امدادی تنظیمیں آسانی سے رابطے میں رہ سکیں۔ تاہم، آج دو دہائیاں گزرنے کے باوجود، سروس کا معیار توقع کے مطابق نہیں بڑھ سکا۔ ماضی میں شہروں میں فون کالز ممکن تھیں، مگر اب تو بجلی کی معمولی بندش پر بھی سگنل غائب ہو جاتے ہیں، اور مہنگے پیکیجز کے باوجود صارفین کو ناقص سروس مل رہی ہے۔
سیلولر ٹاورز کے جنریٹرز کی بحالی کا وقت بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جو عام طور پر زیادہ سے زیادہ چوبیس گھنٹے لگتا ہے، جس کی وجہ سے سروس میں وقفے بڑھ جاتے ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے مقابلے میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیلولر پیکیجز مختلف اور عموماً زیادہ مہنگے ہیں۔ پاکستان میں کچھ سستے پیکیجز دستیاب ہیں جو یہاں یا تو موجود نہیں یا مہنگے داموں مل رہے ہیں۔ اس امتیازی سلوک کی تفصیلات آئندہ دنوں میں شیئر کی جائیں گی۔
سیلولر کمپنیوں کی ناقص سروس پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز ہے، مگر چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کی ہدایات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کمپنیوں کو سروس بہتر نہ کرنے پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، لیکن یہ حکم معطل کر دیا گیا۔ آزاد کشمیر کی حکومت کے پاس سیلولر کمپنیوں سے براہ راست معاہدہ کرنے اور ان پر کنٹرول رکھنے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ وفاقی حکومت پاکستان کے تحت آتا ہے۔
اس پیچیدہ انتظامی صورتحال کی وجہ سے عوامی احتجاج کے بغیر اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ تاہم، ایسے احتجاج اکثر وقتی طور پر مسائل کو حل کرتے ہیں، بعد ازاں پرانی صورتحال واپس آ جاتی ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیلولر سروسز کی اس حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کے عوام کو نہ صرف انفراسٹرکچر کی کمی کا سامنا ہے بلکہ انتظامی پیچیدگیوں اور سیاسی بندشوں کی بھی زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

