باستخدام هذا الموقع ، فإنك توافق على سياسة الخصوصية و شروط الاستخدام .
Accept
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Reading: “37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
Share
Notification Show More
Font ResizerAa
دی آزادی ٹائمزدی آزادی ٹائمز
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
  • صفحہ اول
  • جموں وکشمیر
  • گلگت بلتستان
  • عالمی خبریں
  • تجارت
  • صحت
  • کھیل
  • English
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
دی آزادی ٹائمز > Blog > آزاد کشمیر > “37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
آزاد کشمیر

“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”

Azadi Times
Last updated: July 29, 2025 1:39 pm
Azadi Times
6 months ago
Share
“37 ہزار تنخواہ کا وعدہ – کیا استحصالی نظام واقعی ٹوٹے گا؟”
SHARE

“کم از کم تنخواہ کا نوٹیفکیشن یا عوام کے ساتھ نیا مذاق؟”

پونچھ (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) —
پونچھ ڈویژن کے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو نجی ادارے، تعلیمی مراکز یا کاروباری مراکز اپنے ملازمین کو 37 ہزار روپے ماہانہ سے کم تنخواہ دے رہے ہیں، ان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، یہ اعلان جہاں ایک “مزدور دوست اقدام” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہیں عوامی سطح پر اس کی عملی حیثیت اور نیت پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

زخم پر مرہم یا دکھاوے کا اعلان؟

آزاد کشمیر میں خاص طور پر نجی تعلیمی ادارے، مارکیٹس، ورکشاپس اور کارخانے طویل عرصے سے ایسے معاشی استحصالی نظام کا حصہ بنے ہوئے ہیں، جہاں ایک ایم اے، ایم فل استاد کو 10 سے 15 ہزار روپے میں ملازمت دی جاتی ہے۔ بعض دکانوں میں ہیلپرز اور سیلز مین محض 8 سے 12 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ ان اداروں کے مالکان لاکھوں کا منافع کما رہے ہیں۔

حمایتی پیغام

کشمیر کی آواز بنیں

دی آزادی ٹائمز جموں و کشمیر کا واحد آزاد خبررساں ادارہ ہے جو کسی بھی حکومت، سیاسی جماعت یا نجی ادارے کے دباؤ سے آزاد ہو کر وہ خبریں سامنے لاتا ہے جو واقعی اہم ہوتی ہیں۔ آپ کا معمولی سا تعاون بھی ہمیں آزاد رکھنے اور انسانی حقوق، آزادی اور انصاف پر رپورٹنگ جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پونچھ: لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر بھارتی فوج کی مقامی گاؤں پر چڑھائی، شدید عوامی ردعمل

آزاد صحافت کو سپورٹ کریں

یہ صورتحال نہ صرف لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی ناکامی کی بھی عکاس ہے، جسے طویل عرصے سے حکومتی اداروں نے نظر انداز کیا۔

Read in English on The Azadi Times

کیا یہ اقدام تاریخ کے فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟

اگرچہ نوٹیفکیشن ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن آزاد کشمیر کے عوام ماضی میں اس قسم کے بے شمار اعلانات کے صرف کاغذی ہونے کے تجربے سے بخوبی واقف ہیں۔
اہم سوال یہ ہے:

  • کیا واقعی حکومت بااثر اسکول مالکان، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور کاروباری اشرافیہ کے خلاف کارروائی کرے گی؟
  • کیا کسی سرکاری ادارے نے آج تک نجی اسکولوں یا فیکٹریوں میں جا کر تنخواہوں کا ریکارڈ چیک کیا؟
  • کیا اس اعلان کے بعد کوئی عملی میکانزم وضع کیا گیا ہے یا یہ بھی فقط میڈیا ہیڈ لائنز کے لیے ہے؟

یہ مسئلہ صرف مالی نہیں، انسانی مسئلہ ہے

آج جب تعلیم یافتہ نوجوان صرف 12 سے 15 ہزار روپے میں نوکری پر مجبور ہوں، جب ایک ہنر مند مزدور اپنے بچوں کو بنیادی سہولیات جیسے دودھ اور دوا بھی مہیا نہ کر سکے، تو ایسے معاشرے میں ترقی، انسانی وقار اور سماجی توازن صرف خواب رہ جاتے ہیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران Awami Action Committee اور دیگر سول تنظیموں نے آزاد کشمیر میں سیاسی و سماجی شعور کو جس طرح ابھارا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب عوام خاموش تماشائی نہیں رہے۔ اب وہ نوٹیفکیشنز اور خالی وعدوں سے آگے بڑھ کر سوالات پوچھنےلگے ہیں:

  • نوٹیفکیشن کے بعد کیا چھاپے مارے گئے؟
  • کتنے اسکولوں یا دکانوں کو چالان یا بند کیا گیا؟
  • کیا کوئی “ویج کمپلائنس سیل” تشکیل دیا گیا؟
یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک زخمی قدم مزاحمت کی علامت بن گیا – الیزہ اسلم طلبہ تحریک کی نئی آواز

اگر حکومت واقعی مزدوروں کے ساتھ ہے، تو محض اعلان نہیں بلکہ عملی اقدام دکھانا ہوگا۔ ہر ضلع میں اجرت سروے، چھاپے، آن لائن شکایات پورٹل، اور فوری انصاف کے نظام کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

بصورت دیگر، یہ اعلان بھی ان سینکڑوں نوٹیفکیشنز کی طرح صرف حکومتی فائلوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں میں دفن ہو جائے گا — اور مزدور ایک بار پھر محرومی کے اندھیروں میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔

📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں

اپنی کہانی بھیجیں

اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

ابھی بھیجیں
چڑہوئی: ایک ہی خاندان میں تیسرا المناک سانحہ، ورثاء اور عوام علاقہ کا احتجاج، مذاکرات کے بعد ایف آئی آر درج، ایک ملزمہ گرفتار
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر کے بیان پر سوشل میڈیا میں سوالات کی بھرمار
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی تنظیمِ نو، اسیرانِ آزادی اور مزاحمتی سیاست کا نیا مرحلہ
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر ایک بار پھر بندش کے دہانے پر
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظفرآباد دفتر سے سامنے آنے والی تصویر نے نئی سیاسی بحث چھیڑ دی
TAGGED:اجرتپونچھکشمیری مزدور
Share This Article
Facebook Email Print
Previous Article ہمیں چین جانے دو” — چینی شہریوں کا احتجاج، گلگت کے تاجروں نے پاک چین بارڈر بند کر دیا ہمیں چین جانے دو” — چینی شہریوں کا احتجاج، گلگت کے تاجروں نے پاک چین بارڈر بند کر دیا
Next Article کوہستان: 28 سال بعد گلیشیئر سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد کوہستان: 28 سال بعد گلیشیئر سے لاپتہ شخص کی لاش برآمد

سوشل میڈیا پر فالو کریں

ہماری نیوز لیٹر کے لیے سبسکرائب کریں
دنیا بھر سے تازہ ترین ہفتہ وار خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارا نیوز لیٹر سبسکرائب کریں۔

آپ کی رکنیت کی تصدیق کے لیے اپنا ان باکس چیک کریں۔

خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
خالہ کے گھر جانے والی14 اور 11سالہ بہنوں کو لفظ کے بہانے اغواہ کر کے پوری رات جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
آزاد کشمیر
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان: گوہرآباد ایم سی ایچ سینٹر میں لیڈی نرس کے ساتھ ہراسانی اور تشدد کا المناک واقعہ
گلگت بلتستان
گھر سے بھاگ کر شادی کا ارادہ، لیکن انجام دردناک: چار لڑکوں نے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
گھر سے بھاگ کر شادی کا ارادہ، لیکن انجام دردناک: چار لڑکوں نے لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا
آزاد کشمیر
ثریا کوثر کی الوداعی چیخ: 43 سال بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے جبری واپسی
ثریا کوثر کی الوداعی چیخ: 43 سال بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے جبری واپسی
جموں وکشمیر

اسی بارے میں

بنجوسہ میں وزیر سیاحت فہیم ربانی کے قافلے سے جھڑپ، نوجوان زخمی، احتجاج میں سڑک بند

بنجوسہ میں وزیر سیاحت فہیم ربانی کے قافلے سے جھڑپ، نوجوان زخمی، احتجاج میں سڑک بند

By Azadi Times
4 months ago
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سی رہنما نے مبینہ بھارتی سائفر کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دے دیا، 29 ستمبر کی ہڑتال سے قبل ردِعمل

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سی رہنما نے مبینہ بھارتی سائفر کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دے دیا، 29 ستمبر کی ہڑتال سے قبل ردِعمل

By Azadi Times
5 months ago
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 29 ستمبر سے غیر معینہ ہڑتال کا اعلان

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 29 ستمبر سے غیر معینہ ہڑتال کا اعلان

By Azadi Times
5 months ago
آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف درخواست دائر

آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف درخواست دائر

By Azadi Times
5 months ago
چڑھوئی کوٹلی میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا تاریخی جلسہ، حقِ حکمرانی و حقِ ملکیت کانفرنس میں ہزاروں افراد کی شرکت

چڑھوئی کوٹلی میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا تاریخی جلسہ، حقِ حکمرانی و حقِ ملکیت کانفرنس میں ہزاروں افراد کی شرکت

By Azadi Times
5 months ago
Show More
about us

دی آزادی ٹائمز کشمیر سے شائع ہونے والا ایک آزاد، غیر جانب دار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نیوز پلیٹ فارم ہے، جو کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو بغیر کسی جانبداری کے آپ تک پہنچاتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
  • نماز کے اوقات
  • اسلامی کتب
  • آن لائن گیمز
  • آج کا زائچہ
  • اسلامی کیلنڈر
  • ناموں کی ڈائریکٹری
  • آج ڈالر کی قیمت
  • پوسٹل کوڈز

ہم سے جڑیں

© آزادی نیوز نیٹ ورک۔ دی آزادی ٹائمز۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کیجئے
  • اشتہار چلائیں
  • پرائیویسی پالیسی
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?