“کم از کم تنخواہ کا نوٹیفکیشن یا عوام کے ساتھ نیا مذاق؟”
پونچھ (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) —
پونچھ ڈویژن کے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو نجی ادارے، تعلیمی مراکز یا کاروباری مراکز اپنے ملازمین کو 37 ہزار روپے ماہانہ سے کم تنخواہ دے رہے ہیں، ان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، یہ اعلان جہاں ایک “مزدور دوست اقدام” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہیں عوامی سطح پر اس کی عملی حیثیت اور نیت پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
زخم پر مرہم یا دکھاوے کا اعلان؟
آزاد کشمیر میں خاص طور پر نجی تعلیمی ادارے، مارکیٹس، ورکشاپس اور کارخانے طویل عرصے سے ایسے معاشی استحصالی نظام کا حصہ بنے ہوئے ہیں، جہاں ایک ایم اے، ایم فل استاد کو 10 سے 15 ہزار روپے میں ملازمت دی جاتی ہے۔ بعض دکانوں میں ہیلپرز اور سیلز مین محض 8 سے 12 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جب کہ ان اداروں کے مالکان لاکھوں کا منافع کما رہے ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی ناکامی کی بھی عکاس ہے، جسے طویل عرصے سے حکومتی اداروں نے نظر انداز کیا۔
کیا یہ اقدام تاریخ کے فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟
اگرچہ نوٹیفکیشن ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن آزاد کشمیر کے عوام ماضی میں اس قسم کے بے شمار اعلانات کے صرف کاغذی ہونے کے تجربے سے بخوبی واقف ہیں۔
اہم سوال یہ ہے:
- کیا واقعی حکومت بااثر اسکول مالکان، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور کاروباری اشرافیہ کے خلاف کارروائی کرے گی؟
- کیا کسی سرکاری ادارے نے آج تک نجی اسکولوں یا فیکٹریوں میں جا کر تنخواہوں کا ریکارڈ چیک کیا؟
- کیا اس اعلان کے بعد کوئی عملی میکانزم وضع کیا گیا ہے یا یہ بھی فقط میڈیا ہیڈ لائنز کے لیے ہے؟
یہ مسئلہ صرف مالی نہیں، انسانی مسئلہ ہے
آج جب تعلیم یافتہ نوجوان صرف 12 سے 15 ہزار روپے میں نوکری پر مجبور ہوں، جب ایک ہنر مند مزدور اپنے بچوں کو بنیادی سہولیات جیسے دودھ اور دوا بھی مہیا نہ کر سکے، تو ایسے معاشرے میں ترقی، انسانی وقار اور سماجی توازن صرف خواب رہ جاتے ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران Awami Action Committee اور دیگر سول تنظیموں نے آزاد کشمیر میں سیاسی و سماجی شعور کو جس طرح ابھارا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب عوام خاموش تماشائی نہیں رہے۔ اب وہ نوٹیفکیشنز اور خالی وعدوں سے آگے بڑھ کر سوالات پوچھنےلگے ہیں:
- نوٹیفکیشن کے بعد کیا چھاپے مارے گئے؟
- کتنے اسکولوں یا دکانوں کو چالان یا بند کیا گیا؟
- کیا کوئی “ویج کمپلائنس سیل” تشکیل دیا گیا؟
اگر حکومت واقعی مزدوروں کے ساتھ ہے، تو محض اعلان نہیں بلکہ عملی اقدام دکھانا ہوگا۔ ہر ضلع میں اجرت سروے، چھاپے، آن لائن شکایات پورٹل، اور فوری انصاف کے نظام کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
بصورت دیگر، یہ اعلان بھی ان سینکڑوں نوٹیفکیشنز کی طرح صرف حکومتی فائلوں اور سوشل میڈیا پوسٹوں میں دفن ہو جائے گا — اور مزدور ایک بار پھر محرومی کے اندھیروں میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

