باغ (نامہ نگار) — آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں انسانیت کو شرما دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 18 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد نے 4 ستمبر کی شام تھانہ سٹی باغ میں ایف آئی آر درج کرائی۔ والد نے بتایا کہ 3 ستمبر کی شام بیٹی گھر سے نکلی تو انہوں نے یہ سمجھا کہ وہ بیوٹی پارلر میں اپنے کام پر گئی ہے۔ تاہم اگلی صبح اچانک اطلاع ملی کہ وہ قادرآباد کی ایک دکان پر موجود ہے۔ والد موقع پر پہنچے تو پولیس بھی وہاں موجود تھی۔
متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ساہلیاں کے دو نوجوان اسے زبردستی موٹر سائیکل پر سیرپور لے گئے اور ایک ویران مکان میں قید کرکے پوری رات اجتماعی زیادتی کرتے رہے۔
تھانہ سٹی پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دوسرا ملزم ابھی مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مفرور ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
علاقے میں اس واقعے کے بعد خوف اور غم و غصے کی فضا قائم ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بھیانک جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

