مظفرآباد:
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے کور کمیٹی رکن انجم زمان اعوان کے ایک سوشل میڈیا بیان نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انجم زمان اعوان، جو مظفرآباد سے تعلق رکھتے ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے منتخب کونسلر بھی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے بیان میں انجم زمان اعوان نے کہا کہ “آزاد کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا پرچم ایک دن سری نگر میں لہرایا جائے گا”۔ بیان سامنے آتے ہی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور متعدد سوالات اٹھائے جانے لگے۔
تیزاتی ٹائم کے مطابق، اس بیان کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن اور تاجر رہنما شوکت نواز میر نے، جو سوشل میڈیا پر “تاجران دا ویر” کے نام سے جانے جاتے ہیں، وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انجم زمان اعوان کا بیان ان کی ذاتی حیثیت میں دیا گیا مؤقف ہے اور اس کا کمیٹی کی اجتماعی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔
شوکت نواز میر اور دیگر کور کمیٹی اراکین کی جانب سے دی گئی وضاحت کے بعد بھی سوشل میڈیا پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ آیا ایکشن کمیٹی اپنی طے شدہ غیرسیاسی پالیسی پر قائم ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ دسمبر میں مظفرآباد میں منعقد ہونے والے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کمیٹی کا کوئی بھی کور ممبر کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی میں شرکت کرے گا۔ ایسے میں انجم زمان اعوان کی بطور منتخب سیاسی کونسلر حیثیت سامنے آنے کے بعد کمیٹی کی پالیسی پر سوالات اٹھنا فطری قرار دیے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ایکشن کمیٹی خود کو ایک غیرسیاسی عوامی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتی ہے تو اس کے کور ممبران کی سیاسی وابستگی شفافیت کے تقاضوں سے متصادم نظر آتی ہے۔ جبکہ کچھ حلقے انجم زمان اعوان سے وضاحت یا معذرت کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، کچھ تجزیہ کاروں اور صارفین کا مؤقف ہے کہ انجم زمان اعوان کا بیان پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی کشمیریوں کے جذبات کی نمائندگی کرتا ہے، اور اسے محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مکمل طور پر رد نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاحال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی جامع اور مشترکہ تحریری پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق، اگر اس تنازع پر واضح مؤقف اختیار نہ کیا گیا تو یہ صورتحال کمیٹی کی ساکھ اور عوامی اعتماد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں عوامی مطالبات اور تحریکیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

