دیامر (نامہ نگار) دیامر کے متاثرین اور کمیٹی کے ارکان نے امیر مقام کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ “کچھ مطالبات میری بس میں نہیں“۔ اس بیان پر کمیٹی کے ارکان برہم ہوگئے، اور ہال نعرہ بازی سے گونج اٹھا۔ کمیٹی نے پلان B پر عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے شاہراہ قراقرم (KKH) کو جام کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
مذاکرات ناکام، کمیٹی برہم
ذرائع کے مطابق، امیر مقام اور متاثرین کے درمیان مذاکرات کے دوران جب امیر مقام نے کہا کہ “کچھ مطالبات میری بس میں نہیں”، تو کمیٹی کے ارکان نے اسے متاثرین کے مطالبات کو نظرانداز کرنے کی کوشش قرار دیا۔ کمیٹی کے ایک رکن نے نامہ نگار کو بتایا کہ “ہمارے مطالبات جائز ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے انہیں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ہمیں اب مزید انتظار کرنے کا کوئی جواز نہیں۔”
شاہراہ قراقرم جام کا عندیہ
کمیٹی نے پلان B پر عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے شاہراہ قراقرم (KKH) کو جام کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ متاثرین کے مطالبات کو تسلیم کرنے میں حکومتی ناکامی کے بعد لیا گیا ہے۔ کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ “ہم نے صبر کا دامن تھام رکھا تھا، لیکن اب ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا۔”
وزیر اعلیٰ کی کوششیں، مظاہرین پر اڑے
ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ دیامر کے مشران کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، مظاہرین احتجاج کو مزید وسعت دینے پر بضد ہیں۔ ایک مظاہر نے کہا کہ “ہم نے اپنے مطالبات کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا، لیکن حکومت کی بے حسی نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔”
عوامی ردعمل
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ شاہراہ قراقرم کے جام ہونے سے نہ صرف نقل و حرکت متاثر ہوگی، بلکہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔ تاہم، وہ اس بات پر متفق ہیں کہ حکومت کو متاثرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
آگے کیا ہوگا؟
کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے جلد از جلد ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو وہ احتجاج کو مزید وسعت دیں گے۔ دوسری جانب، حکومت کی کوششوں کے باوجود، مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔
دیامر کے متاثرین اور کمیٹی کے ارکان کا یہ قدم حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ شاہراہ قراقرم کے جام ہونے سے نہ صرف علاقے کی معیشت متاثر ہوگی، بلکہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑے گا۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

