گلگت بلتستان
(شبیر مایار)
ایک سوال جو ہمارے قوم کے بارے میں ہر وقت ذہن میں بچھو کی طرح ڈنگ مارتا رہتا ، ہے وہ یہ کہ ہم انفرادیت سے اجتماعیت کی جانب سفر کب اور کیسے کریں گے ۔۔۔۔؟ درحقیقت لکھاری حضرات اپنی قوم اور قارئین کو اپنے قلم سے سوال دیتے ہیں جس پر قوم کے طلباء ،دانشور ادیب شاعر حضرات بحث کریں۔۔۔؟
لیکن مقام حیرت ہے کہ کوئی بھی حالات کی سنگینی کا ادراک کرنے کے بجائے صرف وقت گزاری اور نوابادکاروں کے گماشتہ جماعتوں کے شان میں قصیدہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔ آج کے عالمی حالات میں بدلتے رجحانات اپنی جگہ بدل رہے ہیں سرزمین گلگت بلتستان عالمی توجہ تجارت عالمی گزرگاہ بننے جارہی ہے دوسری طرف دیکھتے ہیں تو ہماری قوم آج بھی انفرادیت اور شخصیت پرستی کے شکار نظر آتی ہے آخر کیوں۔۔۔؟
کیا گلگت بلتستان کے عوام دانستہ یا غیر دانستہ طور پر استحصالی قوتوں کی آلہ کار بن گئی ہے ۔۔۔؟ یا قومی سوچ مفلوج کر کے دوسرے رخ پھیر دی گئی ہے۔۔۔۔؟ اگر واقعتا ایسا ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے ۔۔؟
گلگت بلتستان کے قومی سوچ و فکر کو کون تبدیل کرے گا۔۔۔؟ کس کو یہ کام کرنا ہوگا ۔
بدقسمتی سے جب ہم اپنی قوم کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمارے فحافل میں اسلام آباد کے سیاست دانوں کے ذکر شروع ہو جاتے ہیں جو کہ شہباز شریف، زرداری ، عمران خان ، نواز شریف ،بلاول ،مریم ، ساجد نقوی، ناصر شیرازی،مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی ان کے بارے میں سوالات اور ان پر دلیلیں ۔۔۔۔۔
ہم کیا جواب دے سکتے ہیں ایک سرد آہ بھر کر یہی کہتے ہیں کہ جناب ہماری اپنی جان پر بنی ہے بالادست استحصالی قوت 77 سالوں سے ہماری قومی شناخت اور ہماری قومی دولت کو لوٹ رہی ہے اور حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں کے لیے لیا ہوا قرضہ ہم پر بھاری ٹیکس کی صورت میں ڈالا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔کیا کبھی ہم نے اپنی قومی اجتماعیت کی جانب سوچا ۔۔۔ نہیں تو کیوں۔۔۔۔؟
ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں اجتماعیت کی جگہ نفرادیت نے لے لی ہے ہر کوئی اپنی ذات اور قبیلہ تک کے لیے سوچتا ہے اجتماعی سود و ضیاع سے بے خبر ۔۔ عوام دشمن استحصالی قوتیں چالاک اور زیرک ہے وہ ہوش عقل و دانش مندی سے منصوبہ بندی کر کے گزشتہ نصف صدی میں ہماری قومی اجتماعیت کو ختم کر کے انفرادیت کو جگہ دینے میں کامیاب ضرور ہوا ہے۔
بے روزگاری معاشی بدحالی ہی نے ہمارے عوام کو دو وقت کی روٹی کے لئے سوچنے پر مجبور کردیا شہید حیدر شاہ رضوی ، صفدر علی،غازی انور، شہید عاشق، شہید زوبیر، انجینئر جمعہ گل ان کی قربانیاں کس کے لیے تھیں ان کی خواہش کیا تھی گلگت بلتستان من حیث القوم کس جانب جا رہے ہیں ۔ وقت ہے آج کہ ہم انفرادیت کے انداز فکر کو ترک کر کے اجتماعی قومی قوت کا راستہ ہموار کرے اور قوم کو اس کی منزل کی جانب لے کر چلنے کا آغاز کرے۔
تاریخ بہت ہی بے رحم ہے کسی کو معاف نہیں کرتی ۔۔۔؟ آج ہم جس انفرادیت کا شکار ہیں آنے والا کل کا مورخ مکمل سچائی کے ساتھ ہمارے کردار کو تاریخ کے اوراق میں درج کرے گا۔
گلگت بلتستان تاریخ کے اتنے بڑے بحران سے دو چار ہونے کے باوجود انفرادیت کی حالت میں ہے اجتماعیت سے دور ہے ایسے حالات میں ہمیں قومی خودارادیت بشمول حق حاکمیت کی بازیابی یا قومی محکومی کی زنجیریں کون توڑے گا یہی تو استحصالی قوت چاہتی ہے جو ہم کر رہے ہیں ہم شاید حقوق کی جنگ کو بھی آج تک طفلانہ انداز میں لڑنے کی کوشش کرتے آئے ہیں قوموں کی تاریخ میں غلامی یا محکومی کا دوراگر نصف صدی سے بڑھ جائیں تو وہ قوم دائمی طور پر ذہنی غلامی اور محکومی کو قبول کر لیتی ہے ۔
عقل و شعور کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اور نوجوان سیاست کار قومی رہنماؤ سنجیدگی سے سر جوڑ کر ماضی کی تلخیوں اور رنجشوں کو بھلا کر پس پشت ڈال کر قومی مسئلے کی جانب فکر مند ہوں ایک مکمل باضابطہ اتحاد کی شکل میں ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کو ساتھ لے کر قومی حق خود ارادیت بشمول حق حاکمیت کے حصول کے لیے ازسر نو جدوجہد کا آغاز کریں ورنہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ۔
ہم انفرادیت کے خول سے نکل کر اجتماعیت کے دور میں داخل ہوں ذاتی انا،ذاتی مفاد ، گروہی مسائل کو وقتی طور پر پس پشت ڈال کر قومی یک جہتی پیدا کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو محکومی کے عذاب سے نجات دلائی جائے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

