سوست، ہنزہ (گلگت بلتستان) —
پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے اہم تجارتی مرکز سوست میں جاری تاجر احتجاج نے نہ صرف سرحدی تجارت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے بلکہ اب چینی شہریوں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔ “ہمیں چین جانے دیا جائے” — یہ نعرہ لگاتے ہوئے متعدد چینی شہریوں نے سرحد پر احتجاج شروع کر دیا ہے، جو کئی دنوں سے سوست امیگریشن گیٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔
تاجر دھرنے پر ڈٹے، تجارت بند، سفارتی فضا کشیدہ
گلگت بلتستان کی تاجر برادری گزشتہ آٹھ دنوں سے ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کی جانب سے عائد کیے گئے انکم ٹیکس اور سلیش ٹیکس کے خلاف دھرنا دیے بیٹھی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ چونکہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت تاحال واضح نہیں، اس لیے یہاں وفاقی سطح پر نافذ کیے گئے ٹیکس غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے:
“جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے، سرحد کھولی جائے گی نہ ہی تجارت بحال کی جائے گی۔”
اسی دھرنے کے نتیجے میں تاجروں نے سوست امیگریشن گیٹ بند کر دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف سامان بردار گاڑیاں رک گئیں بلکہ درجنوں چینی شہری بھی بارڈر پر پھنس کر رہ گئے۔
سوست میں پھنسے ہوئے چینی باشندوں نے صورتِ حال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری چین جانے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
“ہم چین کے شہری ہیں، ہمیں کسی اور ملک کے سیاسی و معاشی بحران کا نشانہ نہ بنایا جائے۔”
چینی شہریوں کے احتجاج سے علاقے کی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے پاکستان سے اس غیر معمولی صورتِ حال پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔
CPEC پر منفی اثرات — چین اور پاکستان ک تعلقات میں دراڑ؟
سوست بارڈر بندش نہ صرف مقامی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پاک چین اقتصادی شراکت داری کے لیے بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ خنجراب پاس اور شاہراہِ قراقرم CPEC کا اہم حصہ ہیں، جہاں ہر سال کروڑوں روپے کی تجارت ہوتی ہے۔ ان میں رکاوٹ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بداعتمادی جنم لے سکتی ہے۔
آزادی، شناخت اور حقِ خودارادیت کا سوال
یہ احتجاج محض معاشی نوعیت کا نہیں، بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کی تاریخی سیاسی محرومی اور آئینی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ گلگت بلتستان چونکہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لیے یہاں عوام کی اکثریت خود کو پاکستانی آئینی دائرہ کار سے باہر سمجھتی ہے۔
حالیہ دنوں میں گلگت کے سیاسی کارکن عابد گلگتی کو مظفرآباد میں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے عشائیے پر مدعو کیا گیا تھا، جہاں گلگت بلتستان کی خودمختاری اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر کھل کر گفتگو ہوئی۔
سوست کا احتجاج واضح کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام محض تجارتی استحصال سے تنگ نہیں، بلکہ اپنی سیاسی شناخت، آئینی تحفظ اور خودمختاری کے لیے بھی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی، تو یہ احتجاج محض سرحد تک محدود نہیں رہے گا — بلکہ گلگت بلتستان بھر میں پھیل سکتا ہے۔
📢 ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تازہ ترین خبریں اور اپڈیٹس کے لیے: یہاں کلک کریں
اپنی کہانی بھیجیں
اپنی آواز دی آزادی ٹائمز کے ساتھ بلند کریں

